آربی آئی نے کیا 7غیر بینکنگ مالیاتی کمپنیوں کا رجسٹریشن رد

ممبئی ، 30۔جولائی ،ہ س:مرکزی بینک نے ریزرو بینک آف انڈیاقانون 1934کی دفعہ 45۔ آئی اے (6) کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ملک کی مختلف ریاستوں میں کام کر رہی سات غیر بینکنگ مالیاتی کمپنیوں (این بی ایف سی)کا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ رد کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ ممبئی کے دی سی کے پی کوآپریٹیو بینک لمیٹیڈ کی کاروباری منظوری کو بھی آئند ہ چار ماہ یکم اگست 2018سے لے کر 30نومبر2018تک کے لئے بڑھا دیا ہے۔
مرکزی بینک کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق آر بی آئی کی گائڈ لائن کی خلاف ورزی اور دیگر مالیاتی بدعنوانیوں کی شکایت پر سخت کاروائی کرتے ہوئے ریزرو بینک آف انڈیا نے ملک کی مختلف ریاستوں میں کام کررہی سات غیر قانونی مالیا تی کمپنیوں (این بی ایف سی)کا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ منسوخ کردیا ہے۔ کولکاتہ کی میسرس شری لکشمی نارائن ٹریکزم پرائیویٹ لمیٹیڈ اور میسرس تھرڈ ویو فائنانشیل انٹرمیڈیریز لمیٹید لمیٹیڈ،تمل ناڈو (کوئمبٹور)کی میسرس ودیا بالاجی فائنانس اینڈ انوسٹمنٹ پرائیویٹ لمیٹید اور میسرس انوسٹمنٹ اینڈ فائنانس لمیٹیڈ، سیدپیٹ (چینئی) کی میسرس سنسپریل فائنانس لمیٹید اور میسرس نمبی انوسٹمنٹ اینڈ فائنانس پرائیویٹ لمیٹید کے علاوہ لدھیانہ پنجاب کی میسرس اشارہ فائنانس اینڈ رورل ڈیولپمنٹ پرائیویٹ لمیٹیڈ کا این بی ایف سی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ رد کر دیا گیا ہے۔
آربی آئی کے معاون مشیر اجیت پرساد نے بتایا کہ یہ ساتوں فائنانس کمپنیاںریزرو بینک آف انڈیا قانون 1934کی دفعہ 45آئی اے کے تحت طے کسی غیر بینکنگ مالیاتی ادارے کا کاروبار نہیں کر سکتی ہیں۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے اور متعلقہ کمپنیوں کے خلاف شکایت پائے جانے پر سخت کاروائی کی جائے گی۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ