آر ڈیننس کی وکالت ہمارے صبرو تحمل کا امتحان ہے

فہیم انور اعظمی ولیدپوری

موجودہ حکومت کی مسلم دشمنی ان کا غیر منصفانہ چہرہ آخر کار آنے والے انتخاب سے قبل منظر عام پر آ ہی گیا کہ مسلم طبقہ سے وابستہ تمام علماءدین کی تمام تر مزاحمتوں اور ان کی کو ششوں کو یک طرفہ مسترد کرتے ہوئے گذشتہ دنوںکابینہ کی مٹنگ میںطلاق ثلاثہ مسودہ کے اوپر آرڈ یننس کو منظوری دیکر موجودہ مودی حکومت نے اس بات کی وکالت اور وضاحت کی پیش قدمی کر ڈالی کہ موجودہ حکومت کے افکارو خیالات اور ان کے نظریات و مشاہدات مسلم سماج کے نظریات سے بالکل برعکس اور متضاد نوعیت پر حامل ہیں کابینہ میٹنگ کے مابین باہم رضامندی اور صرف پارٹی ممبران کی شمولیت اور ان کی رائے عامہ کے مفاذ کے تحت کسی فرد جماعت کی مذہبی معاملات میں دخل اندازی کرنا آئین کے اصول و ضوابط کے متعلق سب سے بڑا گناہ عظیم ہے آئین تمام مذاہب کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ بے غیر روک ٹوک کے اپنے مذہبی امور کے فرائض کو بخوبی انجام دے سکتے ہیں مگر افسوس کہ موجودہ حکومت نے چند مٹھی بھر مسلم خواتین کے احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہو کر آر ڈی نینس جیسے مسودہ پر حتمی مہر ثبت کر کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے طلاق ثلاثہ مذہب اسلام کا ایک مذہبی معاملہ تھا جس معاملہ کو ہمارے علماءمحبین خود زمینی سطح پر حل کرخواتین کے ان کے جائز حقوق کی وکالت کر سکتے تھے اور شر عی نوعیت سے ان کے حقوق کی پامالی اور ان کی عزت و رفعت کے معیار کو شریعت کی روشنی میں منصفانہ فیصلہ صادر کر سماجی اور عائلی سطح پر دوبارہ بحال کیا جا سکتا تھا مگر موجوددہ حکومت کی دخل اندازی نے اس پاک رشتہ کے مابین دخل اندازی کر اس معاملہ میں ہماری قوم وملت کی ماں اور بہنوں کو اس قدر فریفتہ کیا اور اپنی جال سازی میں پھنسایا کہ ان کو حکومتی نقطہ نظر سے اپنی قدرو منزلت اور عظمت و رفعت کے سنہرے خواب آسماں کی جبیں پر نظر آنے لگے اور خود حکومت کو مسلم خواتین کو معیارو عظمت کو ایک جدیدرخ دینے کے توسط سے پارلیمنٹ کے چہار دیواری میں سیاہ قانون کی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گیئں جس ناپاک اور سیاہ مسودہ کو ابتدائی طور پر پارلیمنٹ میں منظوری تو مل گئی مگر چند وجوہات کے سبب اس سیاہ قانون کو زمینی سطح پر راجیہ سبھا میں منظوری نہیں مل پائی جس کے سبب اس سیاہ قانون کو حکومتی سطح پر وقتی طور پر نطر انداز کر دیا گیا مگر جیسے ہی انتخاب کی گرماہٹ اور رافیل کی خریدو فروخت پر الزام آرائی کا سلسلہ شروع ہوا اور کانگریس پارٹی نے ان کی زمینی حقائق کو عوام کے سامنے رکھنا شروع کیا اسی درمیان طلاق ثلاثة کا جن ایک با ر پھر بوتل سے باہر آگیا جس سے کہ رافیل اور دیگر معاملات سے عوام کا دھیان ھٹا کر مسلم سماج کے جذبات اور احساسات سے کھلواڑ کیا جاسکے جس کی زندہ جاوید مثال ہمارے درمیان پر وقت وقت پر رونماں ہوتی رہتی ہیں کبھی موب لینچنگ تو کبھی مسجد کے دروازہ پر قفل تو کبھی مسلم خواتین کے حقوق کی باتیں مستقیل میں یہ باتیں موجودہ حکومت کے لئے ایسی ہیں جو ان کے تعزیب ایزاں سے فزوں تر ہیں جہاں پر انسانی عظمت و رفعت کی پامالی کی عبارت لکھی جارہی ہے ا ور خود موڈی حکومت اس طرح کے فعل میں دخل اندازی کرچند مٹھی بھر مسلم خواتین کی پذیرائی کے فراق میں کما حقہ گامزن ہے جس کا نتیجہ یہ اخد ہو رہا ہے کہ مودی حکومت کے فیصلہ کے سبب مسلم سماج کا ایک بڑا طبقہ خوف ووحشت اور اضطرابی کیفیت میں مبتلا ہے موجودہ آرڈیننس کا مسودہ ازسر نو ہمارے شرعی احکام میںدخل اندازی کاموجب سبب ہے جس مسودہ کو ایک حساس اور غیرت مند مسلمان کسی بھی صورت میں تسلیم نہیں کر سکتا اس لئے کہ ہم مسلمانان ہند کے نزدیک اپنے جان سے پیای ہماری شریعت ہے اور شریعت کے احکام پر عمل پیراں ہونا ہم مسلمانوں کی ذمہ داری ہے واضح رہے کہ جب سے مرکز میں بی جے پی کی حکومت نے بر سر اقٹدار کا قصیدہ پڑہ کر سلاطین اقتدار کا تاج اور سنہرا سہرا اپنے سر سجایا اسی وقت سے یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ ہم مسلمانان ہند کے لئے مودی حکومت کی عدم رواداری اور غیر منصفانہ طرز عمل ہماری پرواز کے پر قطرنے کے مانند ثابت ہوگا آخر کار وہی ہوا جس چیز کا خوف ہمارے زندہ ضمیر کو جھنجھور کر رکھ دیا اور ہمارے ماضی کے حالات بار بار ہم کومتنبہ کر رہے تھے کہ اتحادو اتفاق کی علمبرداری میں قوم کاضمیر زندہ ہے گویا جس قوم میں کے مابین اتحادو اتفاق عظمت ورفعت باقی ہے آج بھی وہ قوم زندہ ہے اور جس قوم کے درمیان انتشارو افتراقکا معمہ زندہ ہے وہ قوم مردہ کے مترادف ہے آج ہمارے معاندین اور مخالفین کے افکارو خیالات بالکل ایک جیسے ہیں کہ کس طریقہ سے مسلمانوں کے زخم پر نمک پاشی کی جائے کہ وہ اس کی تاب نہ لاکر سڑکوں پر اتر کر شرزنش اور غلط محروکات کوانجام دیں جس سے ہندو مسلمان کے درمیان محبت کی آمیزش نفرت و منافرت میں تبدیل ہو جس کا بھر پرو فائدہ آنے والے انتخاب میں اٹھایا جا سکے اس لئے کہ مودی حکومت نے عوام کو جو منگیری لال کے سنہرے خواب دیکھائے تھے وہ خواب ہی خواب بن کر عوام کے لئے وبال جان بن گئے اور ہمارا ملک معیشت کے شعبہ میں نچلے پائیدان پر پہچ گیامہنگائی اس قدرگراں ہوگئی کہ خط افلاس کے نیچے رہ رکر زندگی گزر بسر کرنے والے افراد کو ہمارے ملک کی کھلی فضاءمیں سانس لینا بھی مشکل تر ہو رہا ہے پڑرول ا ور ڈیزل کی قیمتیںیومیہ اپنی بالائی منزل کی جانب گامزن ہیں جس کو کنڑرول کرنا حکومت کے بس کی بات نہیں بس ہماری موجودہ حکومت کی ایک ہی منشاءاور خواہش ہیکہ کس نو عیت سے اپنے ملک کے مسلمانوں کہ حراساں کیا جائے اس لئے طلاق ثلاثہ جیسے اہم ایشو کو موضوع گفتگوں بناکر ہندو مسلمان کے درمیان نفرت و منافرت سد باب کو فروغ دیا جا رہا ہے جبکہ اس اثناءمیں مسلم پرسنل لاءبورڈ نے پہلے ہی اپنے موقف کا اظہار سپریم کورٹ میں درج کر چکا ہے کہ سماج میں اصلاح کے نام پرمسلم پرسنل لا ءبورد دوبارہ تحریر نہیں کر سکتاساتھ ساتھ حلف نامہ میں مسلم پرسنل لاءبورڈ نے طلاق ثلاثہ کو چیلنج دینے کو بھی غیر آئینی قرار دیاپرسنل لاءبورڈ کی دلیل ہے کہ پر سنل لاءکوچیلنج نہیں کیا جا سکتاکیو نکہ ایسا کرناآئین کےخلاف ہے پرسنل لاءبورڈ نے عدالت عظمی کو بتایا کہ پرسنل لاءکوئی قانون نہیںہے یہ مذہب سے وابستگی کا معاملہ ہے ایسے میں کورٹ طلاق کی قانونی حیثیت طے نہیں کر سکتا اپنے حلف نامہ میں تین طلاق کو جائز قرار دیتے ہوئے بورد نے عدا لت عظمی سے کہا کہ مذ ہبی امور پر عدالت فیصلہ نہیں دے سکتا تاہم بینچ نے طلاق ثلاثہ کو چیلنج کرنے والی درخواست پر نوٹس جاری کیا تھااور ہدایت دی کہ اس عرضی کو ایسے ہی دیگر دوخواستوں کے ساتھ منسلک کردیا جائے جس میں مر کزی حکومت اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کی جانب سے پہلے ہی ان کی رائے طلب کی گئی ہے مگر اس معاملہ میں مرکزی حکومت نے عجلت سے کام لیتے ہوئے اپنے وقار کو بلند کرنے کے توسط سے آرڈیننس کو منظوری دیکر ہم مسلمانان ہندکو جدید اضطرابی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے حکومت کے جارحانہ رخ اور کڑے تیور کو دیکھتے ہوئے ہمارے قوم کے علماء ربانی کو سخت آزمائش کے مرحلہ سے گزرنے پر مجبور ہونا پڑے گا اس لئے حالیہ کے حالات سے قوم وملت کو روبرو کرنے کے لئے زمینی سطح پر ہمارے علماءد ین کوموجودہ حکومت کے ہر حربہ سے با خبر رکھنا ہو گا اور قوم کے ہر فرد کو اس بات کی نصیحت اور تعلیم دینی ہوگی کوتین طلاق جیسے حالات سے بچنے کی کو شش کریں اگر کسی سبب ازدواجی زندگی میں کڑواہٹ بھی پیدا ہو تو اس معاملہ کو حتی الامکان حل کرنے کی کوشش کریں جس سے کہ تین طلاق جیسے حالات ہماری عائلی زندگی کے اندر نہ پیدا ہو اگر حالات بالکل ہی کشیدہ ہو چکے ہو تو ایسے حالات میں ایک طلاق پر اکتفاءکیا جا سکتا ہے طلاق کے معاملہ میں عجلت سے نہ کام لے ایک طلاق واقع ہونے پر عدت کے دوران رجعت بھی کی جا سکتی ہے یعنی ازدواجی زندگی کے لئے دوبار ہ نکاح کی ضرورت نہیں عدت گررنے کے بعد اگر میاں بیوی دوبارہ نکاح کرنا چاہے تو نکاح بھی ہو سکتا ہے حکومت ہند نے طلاق کے حساس معاملہ میں جس نوعیت کی دخل اندازی کی ہے وہ یقینا غیر جمہوری قدم ہے جب کہ جمہوری ملک میں ہر مسلمان کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی کو گزارے جبکہ ہمارے درمیان مسلم قوم کا ایک بڑا طبقہ تین طلاق دینے کی صورت میں تین ہی تسلیم کرتا ہے جبکہ ایک طبقہ ایک ہی ہونے کا قائل ہے جبکہ مودی حکومت ہماری اس اسلامی تعلیمات کو قبول کرنے کے لئے تیار ہی نہیں بلکہ تین طلاق واقع ہونے کی صورت میں شوہر کہ جیل کی سلاخوں میں قید ہونا پڑے گا جس کی ضمانت بھی آسان نہیں جو ہمارے مذہبی امور میں مداخلت نہیں تو اور کیا ہے بس آر ڈیننس کو نافدالعمل میں لانے کے لئے صدر جمہوریہ کی منظوری باقی ہے جس کے بعد سے یہ قانون مسلمانوں کے اوپر نافذ کر دیا جائے گا اور اس معاملہ میں ملوث افراد کی زندگی طلاق ثلاثہ کے بہانہ تباہ وبرباد کر دی جائے گی یہی تو بی جے پی حکومت کی ایک سوچی سمجھی شازش کا ایک عملی نمونہ ہے جس کے بعد سے مسلمانوں کے اوپر عرصہ حیات کو تنگ کرنے کا بھی سلسلہ شروع ہو گا جس کی چند جھلکیاں ابھی سے ہی نمودار ہو رھی ہیں مگر تاریخ اس بات پر شاہد ہیکہ حق کے سامنے ہمیشہ ہی باطل کو شکست آمیز ذلت ہی نصیب ہوئی ہے اس لئے کہ غیر انسانی تعزیب ایزا کے ہتھکنڈے صحیح عقیدے اور صالح افکارو خیالات پر پابندی لگانے میںہمیشہ ناکام ثابت ہوئے ہیں یہ خوف مرعوبیت اور غلامی کی نفسیات ہیںجو فی زمانہ مستضعین کے لئے ہلاکت خیز بنی ہوئی ہیں جس کے سبب مسلمانان ہند کی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے جس آرڈیننس کو حکومتی سطح پرمنظوری دی گئی یقینا وہ آرڈیننس رشتہ ازدواج کے درمیان تلخی اور خلیج پیدا کرنے کی راہ کو ہموار کرے گاجس سے نہ صرف سماجی اور عائلی سطح پر نقصان ہوگا بلکہ اس طرح کے آرڈیننس اور قانون سے ہمارے گھرانے تباہ و برباد ہو سکتے ہیں اس لئے کہ جب طلاق ثلاثہ کے ضمن میں اس کا شوہر جیل کی سلاخوں میں قید ہوگا تو اس عورت کا نان و نفقہ کا ذمہ دار کون ہو گا ایسے دلخراش نوعیت پر جب اپوزیشن کے رہنماوں نے اعتراض ظاہر کیا اور حکومت کو یہ مشورہ دیا کہایسے نازک حالات میں عورت کی کفالت کی ذمہ داری خود حکومت برداشت کرے تو مسلم خواتین کے حقوق کو لیکر عوام کو گمراہ کرنے والی حکومت کی حقیقت سامنے آگئی اور اپنے آپ کو خود اس معاملہ سے الگ کر لیا اس تو یہی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی صرف ایک ہی منشاءہے کسی نہ کسی طریقہ سے شریعت میں مداخلت کر مسلمانوں کو حراساں کیا جائے اور ان کے تمام حقوق کو سلب کر حکومتی مراعات سے محروم کردیا جائے جسکی زندہ جاویدمثال حکومت کا موجودہ آرڈیننس ہے جو مسلم سماج کے لئے نقصاندہ کے مترادف ہے اس لئے ہمارے علماءکی ذمہ داری ہیکہ اس طرح کے مسودہ کے خلاف ایکشن لیکر حکومتی نمائندوں سے باہی گفت و شنید کرے جس سے کہ اس آرڈیننس سے ہماری شریعت مطہرہ کے اندر دخل اندازی ممکن نہ ہو اور حکومت دوبارہ سے اپنے مسودہ پر نظرثانی کرے

 

(مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com