اختلاف رائے ہی جمہوریت ہے

پانچ جہدکاروں کی گرفتاری ریاستی حکومت کی دستوری اقدار کے وعدے پر ایک سایہ

ایل رام داس
انڈین ایکسپریس 5ستمبر 2018ئ
ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاءالدین
ناندیڑ( مہاراشٹرا)

میں ایک سابقہ فوجی ہوں۔ جو چیف آف نیول اسٹاف کی حیثیت سے30 ستمبر 1993ءکو ریٹائرڈ ہوا۔ میں ابتداً جوائنٹ سرویس ونگ کلیمنٹ ٹاﺅن دھرادون میں پندرہ سال چار مہینے کا ناتجربہ کار عہدیدار کی حیثیت سے جنوری 1949ءمیں رجوع ہوا تھا۔ 44سال کچھ مہینے بعد میں سفید یونیفارم میں ساٹھ سال کی عمر میں اس خدمت سے ریٹائرڈ ہوا۔ اس لئے یہ خصوصی معلومات میری ملازمت کے دوران بحیثیت گواہ ان واقعات کی جانب ہے جن کا مجھے اپنی ابتدائی سرویس سے شروع کرکے آزاد ہندوستان کے بعد جن کا تجربہ ہوا وہ میں لکھ رہا ہوں۔ان تمام میں سے اہم واقعہ یہ ہے کہ کس طرح ہم برٹش کامن ویلتھ سے نکل کر آزاد ہندوستان میں جو مطلق العنان جمہوریت کی کیڈیٹ خدمات تھی اس میں میں جوائنٹ سرویس ونگ میں داخل ہوا۔
دو برس کی طویل مباحث کے بعد دستور ساز اسمبلی نے ہندوستان کے لئے دستور ہند 29 نومبر 1949ءکو اس کی تکمیل کی اور جس کا نفاذ 26 جنوری 1950ءکو ہوا۔
ہندوستان کا دستور اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ بلالحاظ مذہب و ملت تمام کو بنیادی آزادی اور حقوق اور یقینا ان کے فرائض اور ذمہ داریاں بھی متعین کی ہیں۔ یہ دنیا میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ شاندار دستاویز ہے جس کی تکمیل بابا صاحب امبیڈکر کی صدارت میں ہوئی۔ جن کی ٹیم میں مشہور سیاسی قائدین، دانشور، پختہ ذہن و افکار کے عورت و مرد دونوں شامل تھے۔ جنہوں نے لاکھوں افراد کے لئے ان کی توقعات کے مطابق اس دستاویز کی تکمیل کے موقع پر تفصیل و توضیح کرتے ہوئے ہندوستان کے ڈھانچہ کو کو جمہوریہ قرار دیا۔
اُن لوگوں کے لئے جنہوں نے آرمی کی خدمات آزادی کے بعد شروع ہوئی وہ ایک شادمانی والا لمحہ تھا۔ اور جب ہم 1952 اور 1953ءمیں کمیشن آفیسرس قرار دیئے گئے یہ دستورِ ہند ہی تھا جس کے تحت ہم نے حلف لی کہ ہم یقینی طور پر ہر شہری کے ملازم ہے۔ سرکاری عہدیدار اور دیگر پبلک آفیسرس بھی اُسی طرح اس عظیم تر ملکی خدمات کی شروعات کیں۔ حتیٰ کہ پریسیڈنٹ آف انڈیا بھی آرمڈ فورس کے اعزازی کمانڈر ہیں ۔
سات دہوں تک جب ہندوستان بحیثیت قوم جو کامیابی حاصل کی وہ باعث فخر ہے۔ من بعد اس کے بھی ہماری قوم نے جو کامیابی حاصل کی منصفانہ طور پر وہ بھی قابل فخر ہے۔ لیکن مرکزی اور بنیادی اقدار جو ہم شہریوں کے لئے مقرر تھے میں اُن کا اظہار یہاں کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ آزادی سوچ و فکر ، رائے اور مذہب کا حق جن پر جمہوریت کی بنیاد ہے مثلاً مساوات کا حقوق جو بلالحاظ مذہب و ملت، علاقہ و جنس سب کو حاصل ہے اور اس بات کی بھی ذمہ داری ہے کہ کوئی بھی کسی بھی معاملہ میں اختلاف رائے کرسکتا ہے اور اس طرح وہ اپنے سیکولر اقدار داخلی شمولیت کے طریقے سے کرنا چاہئے اور یہ حق کسی بھی مرد یا عورت سے ہرگز چھینا نہیں جاسکتا۔ اور نہ اس کا استحصال کیا جاسکتا ہے۔
جمہوریت کے بنیادی ستون کا آہستہ آہستہ صفایا ہورہا ہے۔ جبکہ یہ حقوق عاملہ، عدلیہ اور مقننہ سے نافذ ہوتے ہیں۔ لیکن بظاہر ان بنیادی باتوں میں کمی نظر آرہی ہے۔ جبکہ یہ اقدار ہمارے ملک کے لئے رہنمایانہ اصول رہے ہیں۔ حال ہی میں ریاست کے ذریعے غیر جمہوریت پسند اقدامات دیکھے گئے ہیں اور جس میں اضافہ بھی ہورہا ہے۔ علاوہ ازیں جو حکومت میں نہیں تھی اس کے بارے میں دیکھا جارہاہے کہ وہ بھیڑ شاہی کے نہ صرف شکار ہورہے ہیں بلکہ ان کے ذریعے لاءاینڈ آرڈر تار تار ہورہا ہے۔
حالیہ دنوں جب پانچ مشہور انسانی حقوق کے جہدکاروں کو پونے پولیس نے گرفتار کیا جو مختلف ٹھکانوں سے ملکی سطح پر کارروائی ہوئی گویا یہ ایک مکمل بنیادی حقوق کی پامالی ہے۔ ا ور اس طرح ملکی قانون کی پامالی ہوئی ایسا نظر آتا ہے۔
میں ایک شہری اور تجربہ کار ملازم ہونے کے ناطہ میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ اس موقع پر اپنے گہرے جذبات کا اظہار کرنا میرا ایک فریضہ ہے۔ خصوصی طور پر جبکہ ہم میں سے بہت سوں نے ان روایات کو قائم رکھنے کی کوشش کی جب ہم یونیفارم میں تھے۔ ہمیں اس بات کی تربیت بھی دی گئی تھی لیکن اب ہم خاموش ہیں۔ ہماری اس خاموشی کا مطلب یہ نہ لیا جائے ہم حکومت کی کارروائی کے بارے میں رضامند ہیں۔ بہت زیادہ اور کئی مشہور لوگ بنیادی طور پر اس کارروائی سے ناخوش ہیںجو ہماری جمہوریت میں کی گئی ہے۔ وہ چند ہی ہیںجنہوں نے اپنے قلم سے ملک کی عظمت کے لئے اپنا حصہ ادا کیا اور ملک سے تعلق رکھا۔
مجھے اس بات کی خوشی ہے عدالت عظمیٰ نے گرفتاری کی ان کارروائیوں پر روک لگائی۔ میں ان عدلیہ کے ججوں کی آواز کو ایک گونج کی طرح محسوس کرتا ہوں کہ کس طرح جمہوری نظام کے ایک ستون نے اپنے فرائض کی تکمیل کرتے ہوئے کہا کہ ” اختلاف رائے ہی جمہوریت کا سیفٹی وال ہے۔“

(محرر قلم سابقہ انڈین نیوی کے چیف ہیں)

 

(مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com