این آر سی پرخانہ جنگی چھڑنے اور ملک کے تقسیم ہونے کا خطرہ: ممتا بنرجی

نئی دہلی،31۔جولائی ،ہ س:مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے منگل کو یہاں کہاکہ آسام میں قومی شہریت رجسٹر سے40لاکھ لوگوں کا نام ہٹایا جانا ایک تشویش ناک واقعہ ہے، جس سے ملک میں خانہ جنگی چھڑنے اور ملک کے تقسیم ہونے کا خطرہ ہے۔ دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ایک عیسائی تنظیم کی طرف سے ”پڑوسی سے پریم کرو“ کے موضوع پر منعقد پروگرام میں ممتا بنرجی نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت ملک میں پھوٹ ڈالنے کی سیاست کررہی ہے، جس سے ملک کے مختلف ریاستوں میں مقامی لوگوں اور باہری لوگوں کے درمیان خلیج پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کچھ سالوں کے لئے اقتدار میں آئی ہے اور اسے اس کی اجازت نہیںدی جاسکتی کہ وہ ملک کو تقسیم کردے۔ عیسائی مذہبی رہنماو¿ں کی موجودگی میں ممتا بنرجی نے اپنا سیاسی ایجنڈا سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ2019میں مودی حکومت کو اقتدار سے باہر کرنا ملک کے مستقبل کے لئے بے حد ضروری ہے۔ ترنمول کانگریس لیڈر نے کہا کہ وہ اتحاد اور متحدہ بھارت کے حق میں ہیں، جس میں سبھی لوگ ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور بھائی چارہ کے ساتھ رہیں۔ آسام میں قومی شہریت رجسٹر کے ذریعہ جو خطرناک کھیل کھیلا جارہا ہے وہ دیگر ریاستوں میں بھی کھیلا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بنگال میں اترپردیش کے لوگوں، اترپردیش میں بنگالیوں، جنوبی بھارت میں شمالی ہند اور شمالی ہند میں جنوبی ہند کے لوگوں کو بھار نکالنے کی مہم شروع ہوئی تو اس کا حشر کیا ہوگا، تو ملک کا مستقبل کیا ہوگا۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ این آر سی کے بعد آسام کے حالات بگڑنے لگے ہیں۔آسام کے کئی علاقوں میں قانون وانتظام کی حالت بگڑ رہی ہے۔ سبھی ذمہ دار اور پرامن لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ حالات کو سنبھالیں۔ممتا نے آزادی کے بعد ہوئے ”پنڈت نہرو- لیاقت علی معاہدہ“ اور شیخ مجیب -اندرا گاندھی سمجھوتہ“ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور پاکستان کی تقسیم اور بنگلہ دیش کی پیدائش کے پہلے بھارتی برصغیر ایک ملک تھا۔ ایسے میں1971سے پہلے ملک میں آنے والا کوئی بھی بنگلہ دیشی بھارت کا ہی شہری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسام میں40لاکھ لوگوں کو شہریت کے مطابق ووٹنگ سے محروم کیا جارہا ہے۔ وہ مغربی بنگال میں ایسا کچھ نہیں ہونے دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزن ( این آر سی) آخری مسودہ میں سابق صدر جمہوریہ ہند فخرالدین علی احمد کے خاندان کا نام نہیں ہے۔ اسی طرح ایک ممبراسمبلی اور یونیورسٹی کے پروفیسر کا نام بھی نہیں ہے۔ ممتا نے کہا کہ آسام میں چل رہے این آر سی پروگرام سے صرف بنگالی اور اقلیت متاثر نہیں ہیں بلکہ ہندو اور بہاری بھی متاثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے حکمراں پارٹی کی حکومت کو ووٹ کیا ہے انہیں کو آج حکومت ملک میں پناہ گزین بتا رہی ہے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ