ایک دشمن کی تلاش میں

indian muslims posted by aakashtimes

ساگاریکا گھوش (8اگست 2018ئ)
ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاءالدین ، ناندیڑ مہاراشٹر
رابطہ:9890245367

بی جے پی اور شیوسینا ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوخفیہ ساز باز میں ہو۔ لیکن باوجود اس کے ان دونوں میں قدرِ مشترک ہے کہ وہ ہمیشہ دشمن کی تلاش میں رہتے ہیں۔ شیوسینا کے سپریمیو بال ٹھاکرے نے جنگ کا اعلان مراٹھی مانوس کے لئے ٹامل ، گجراتی مسلم اور بعد ازاں عمومی طور شمالی ہند والوں کے خلاف کیا تھا۔ بی جے پی او رسنگ پریوار 1990ءسے ایودھیا تحریک کے دوران ”بابر کی اولاد “سے لیکر بنگلہ دیشی مسلم کے خلاف جنگ کا بگل بجاتے ہیں۔ آج بھی مسلمان سب سے پہلے دشمن ہیں جنہیں سیاست داں نے انہیں دشمن کے زمرے میں رکھا ہے تاکہ وہ اقتدار حاصل کرسکیں۔ جبکہ درحقیقت اس بات کی ضرورت ہے کہ اعتماد پیدا ہو۔ بغیر اعتماد کے جیسا کہ امریتا سین نے ہمیں یاد دلاتے ہوئے کہا کہ اس کے بغیر کوئی وکاس نہیں ہوسکتا۔
سیاسی موبلائزیشن کے ذریعہ اس دشمنی کو فوکس کیا گیا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اندرا گاندھی بھی متعدد مرتبہ دشمن کا خوف بتانے کی خاطر ”بیرونی ہاتھ “ اور ” سی آئی اے ایجنٹ “کے بارے میں بات کیا کرتی تھیں تاکہ وہ اپنے مخالفین کو متاثر کرسکیں۔ 1983ءکے جموں اور کشمیر الیکشن کے دوران وہ اپنی مہم کے دوران مسلم علیحدگی پسند قومی دشمن کے پلیٹ فارم کو 1984ءمیں قومی انتخابات کے دوران کانگریس نے سیاسی مہم و مرکز اس بات کو بنایا تھا کہ وہ مخالف سکھ نعرے لگاتے رہے۔ 21 ویں صدی کے اوتار بی جے پی کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ ہمیشہ متواتر دشمن کی تلاش کرتی رہتی ہے جیسے کہ دشمن Anti-National, Urban Nexle, Mausts اور اب بنگلہ دیشی مسلم مہاجر ۔
مستقل طور پر عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے اور جو واقعی طور پر معاملات و مسائل ہیں ان سے توجہ ہٹانے کی خاطر وہ کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی کہ کس طریقے سے شدید دماغی خلل والے احساسات کو اپنے ماننے والوں کے درمیان پیدا کرے۔ اس طرح وہ خیالی طور پر متاثر کرنے والے دشمن کے ذریعے سے ہونے والی اسٹریجی قومی سطح پر تیار کرتے ہیں۔ آج کا جو دشمن ہے وہ مختلف ہے۔ کیونکہ اس کا تعلق علاقائی ہے۔ مشرقی ہندوستان میں جو دشمن ہے وہ (آزادی)، جس کی پکار ، خوف و خطر کی وجہ سے لوگ ہمدردی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح کیرالا کے حصہ میں جو دشمن ہیں وہ ”لوجہاد“ کی وجہ سے لوگوں کو تیار کرتے ہیں۔ کرناٹک میں جو دشمن ہیں وہ ”ٹیپوسلطان “ ہے۔ اترپردیش میں وہ لوگ دشمن ہیں جو رام مندر کی مخالفت کرتے ہیں۔ گجرات میں دشمن ہیں وہ انڈر ورلڈ لطیف۔
ان تمام اور مختلف دشمنوں کے درمیان اگر کوئی ہیں وہ تمام کے تمام مسلم، یا مسلمانوں کے ہمدرد۔ شمال مشرقی علاقہ جہاں بی جے پی نے بہت ہی متاثر اور مربوط کرنے والی اکثریت 2016ءکے آسام الیکشن میں حاصل کی اسی طرح تریپورہ میں 2018ءمیں کامیابی حاصل کی۔ سنگھ کے کیڈر کو ہمیشہ اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ موبلائزیشن کے ہتھیار کو تیار رکھیں جس کا انہوں نے اب بنگلہ دیشی مسلم کی شکل میں شروع کیا ہے۔ اب یہ نیا نظریاتی دشمن ہے۔ قبل اس کے کہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزن آسام کی اشاعت کو بی جے پی کی حکومت سٹیزن شپ ترمیمی بل 2016ءکے بارے میں غور اس لئے کررہی تھی کہ وہ یہاں مختلف گروپس یا مذہبی قوموں کو پڑوسی ممالک سے درآمد یا قبول کرسکے، سوائے مسلم کے۔
گوکہ یہ متنازعہ بل ابھی بھی الماری میں بند ہے لیکن حال ہی میں بی جے پی کے وزیر اشونی چوبے جو پارلیمنٹ کے باہر بحث کررہے تھے کہ کیوں نہ بنگلہ دیشیوں کو باہر پھینک دیا جائے۔ حکومتی جماعت کے ایک ایم ایل اے نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ روہنگیاﺅں کو گولی مارنے چاہئے اگر وہ ہندوستان نہ چھوڑیں۔ بی جے پی صدر امیت شا نے اس نئے سیاسی دشمن کو ”گھس پیٹھئے “اور ”مداخلت کار “کہا ہے۔ جمہوریت پسند واضح طور پر اس سے علیحدہ ہے کہ یہ سب دشمنی اس لئے پھیلائی جارہی ہے یہاں جو پایا جانے والا اعتماد اور یقین ہے وہ اس طرح ہے کہ یہاں بیرون شہری کا لفظ ہی یہاں نامانوس ہے جو ہندوستان کا بنیادی نظریہ ہے۔ جس طرح کہ ہمارے یہاں کہا جاتا ہے ”واسودھئے کٹمبکم“۔ جتھے کے جتھے بیرون ملک سے یہاں آئے اور اس برصغیر کو انہوں نے اپنا گھر بنایا۔ وہ یہاں جذب ہوئے اور ہندوستانی بن گئے۔ بجائے اس کے کہ این آر سی ایک بہتر ذریعے ہے کہ کس طریقے سے ہم غیر قانونی مہاجروں کی ہمت افزائی نہ کی جائے۔ بلکہ اپنے قومی بارڈر کو نرم کیا جائے نہ کہ سخت رکھا جائے۔ اس قسم کی کوشش منموہن سنگھ کے زمانے میں مختصر عرصے کے لئے 2005-06ءمیں پاکستان کے ساتھ کی گئی تھی۔ جبکہ منموہن سنگھ نے ڈکلیئر کیا تھا کہ ہمیں نرم بارڈر کی ضرورت ہے جہاں سے لوگ بہ آسانی آزادانہ طور پر جا آ سکیں۔ جس کی وجہ سے سری نگر۔ مظفرآباد بس سرویس کا 2006ءمیں آغاز بھی ہوا۔ جنوبی ایشیاءہمیشہ سے آزادانہ نقل و حرکت کا علاقہ زائرین، تاجرین، بیوپاریوں کے لئے کھلا رہا ہے۔ اگر بارڈر کو سختی کے ساتھ سیل کیا جائے اور انہیں کھلا نہ چھوڑا جائے تو بارڈر سے پار آنے والے دہشت گردی سمجھی جاتی ہے لیکن یہ کوئی معقول و ضروری معنی و مطلب نہیںہے کہ اگر یہ بارڈر کمزور ہو تو خودکش بامبرس کا سیلاب امڈ پڑے۔اگر نیپالی اور بنگلہ دیشی ہندوستان آنا چاہے ( جیسا کہ اکثر ہندوستانی امریکہ کو جاتے ہیں) تاکہ وہ اپنے بہتر معاش و زندگی کامیابی کے ساتھ بطور ہندوستانی گزار سکیں۔
نرم بارڈر کا ایئریا اچھا کیوں ہے؟ اگر بارڈر کو ہلکا یا نرم کیا جائے تو وہ لوگ جو ہندوستان میں کام کے لئے آتے ہیں وہ یہاں رہنا نہیں چاہتے بلکہ وہ اپنے خاندانوں کے ساتھ جو بنگلہ دیش میں ہے واپس جانا چاہتے ہیں۔ یہ وہی بات ہے جب اکثر نیپالی ہمارے یہاں آکر اڑیسہ اور بہار، گجرات اور کشمیر میں کام کرتے ہیں۔ سخت و سیل بند بارڈر کا مطلب یہ ہوگا کہ اندر آنے والوں کے لئے کوئی موقع نہیں ہے کہ وہ اپنے خاندان والوں سے مل سکے، جس کی ان کے پاس کوئی گیارنٹی نہیں کہ وہ اپنے گھروں کو واپس جائیں گے۔ پختہ اور سخت بارڈر اس بات کی تحریک اور ترغیب دیتے ہیں کہ مختلف قسم کے پُرفریب، بناوٹی شناخت و کاغذات تیار کریں۔
نرم بارڈر کی وجہ سے باہمی اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ کھلی تجارت و بیوپار ہوتا ہے اور اس بات کی زیادہ توقع ہوتی ہے کہ وہ قومی تحفظ اور تشدد بھری سرگرمیوں سے بھی وہ واقف ہوتے ہیں۔ لیکن عدم تشدد والے علاقہ جات کی تعمیر و تشکیل دونوں جانب ہوتی ہے جس کے لئے جہاں تجارت و بیوپار کے لئے امن چین چاہئے۔ بنگلہ دیش ہمارے لئے شائد ہی دشمن ملک ہو۔ لیکن وہ پڑوسی اوردوست ہے جہاں اس نے وہاں کے سخت گیر لوگوں جیسے مطیع الرحمن نظامی کو سولی پر چڑھایا۔ جو اسلحہ کی فراہمی میں ملوث تھے۔ آج کے سیاست داں ڈر اور خوف کا ماحول (باہر کے لوگوں کی وجہ سے ) پیدا کرنے میں مصروف ہیںلیکن اصل دشمن ہمارے ترقی کی کمی جسے ہم اپنے تجارت، بیوپار جو ایک سے دوسرے ممالک کے لوگوں سے بہ آسانی کیا جاسکے تو ترقی ہوسکتی ہے اور یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
سنگ پریوار کے سیاست دانوں تو بنگلہ دیشی مسلمانوں کی دشمنی کی ضرورت ہے کہ وہ مسلم جہاں درانداز ہیں اس طرح وہ اپنے سیاسی مہم کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اصل اس بات کی ضرورت ہے کہ ہندوستان اور پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں بارڈر کو نرم کیا جائے۔ روک تھام کے مراکز، بناوٹی مورچے یہ سب فن خطابت رکھنے والے سیاست دانوں کی پیداوار ہیں نہ کہ عام لوگوں کی۔ بارڈر پر دوراندیشی رکھنے والے سیاست دان کی سوچ و فکر کی ضرورت ہے۔ لیکن موجودہ الیکشن کے سال میں اس وقت ووٹ بینک کے لئے ہیجان پیدا کرنے کی خاطر اس دشمن کی تلاش اور اس کا اعلان کیا جارہا ہے۔

 

(مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ