ایک فاضلانہ مشورہ

حکومت کو لاءکمیشن کے مشورے کو جو متوازی انتخابات اور بغاوت والے قانون کے سلسلے میں دیا ہے اُس پر عمل کرنا چاہئے

اداریہ: انڈین ایکسپریس (یکم ستمبر 2018ء)
ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاءالدین
ناندیڑ( مہاراشٹرا)

مرکزی حکومت کے مطلوب و مقصود دو معاملات کے سلسلے میں لاءکمیشن نے اپنا رہنمایانہ مشورہ دیا ہے۔پارلیمنٹ اور اسمبلی کے ایک ساتھ الیکشن کروانے سے متعلق او ردوسرا بغاوتی قانون سے متعلق۔ حکومت کو اس احتیاطی مشورے کی طرف نہ صرف غور و فکر کرنا چاہئے بلکہ کمیشن نے ایک طریقے سے اس معاملہ میں ضرب بھی لگائی ہے۔ جبکہ کمیشن کے اختتامی مدت اگلی جمعہ کو ہی ختم ہونے والی تھی۔ کمیشن نے ایک مسودہ متوازی انتخابات کے سلسلے میں مرکزی حکومت اور بی جے پی کو لکھا۔ جس میں اس نے کہا کہ ” موجودہ دستوری طریقہ کار میں یہ ناممکن ہے۔“ جبکہ لاءکمیشن نے پینل میں اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے خواہش کی ہے کہ متوازی انتخابات ہونا چاہئے۔ لیکن اس نے تنبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے لئے دستور میں بنیادی طور پر ترمیمات کی ضرورت ہے۔ کمیشن کا یہ کہنا ہے کہ ” یہ ایک نہایت سنجیدہ معاملہ ہے اس کے لئے وسیع تر گفتگو جو پبلک اور دستوری ماہرین کے درمیان ہونی چاہئے۔ “ بغاوت کے قانون سے متعلق جو تعزیرات ہند کی دفعہ 124(A) کے بارے میں کمیشن نے ایک پیپر جاری کرتے ہوئے اس بات کا مشورہ دیا ہے کہ ان دفعات کو سختی کے ساتھ وہیں استعمال کرنا چاہئے جہاں اُس اقدام کے پیچھے نیت اس بات کی ہو کہ وہ پبلک امن عامہ میں خلل اندازی کرے اور تشدد کے ساتھ غیر قانونی طور پر حکومت کا تختہ پلٹنے کا موجب بنے۔ اس تناظر میں قومی سطح پر ایک بحث ہونی چاہئے۔جس میں کمیشن نے کہا کہ ایک ہی سُر میں آواز ملانا یہ حب الوطنی کا کوئی معیار نہیں ہے۔“ جبکہ جمہوریت میں لوگوں کو اس بات کی آزادی ہونا چاہئے کہ وہ اپنے جذبات اپنے طریقوں سے اظہار کریں۔
بغاوت کے قانون سے متعلق کمیشن نے نشاندہی کی ہے کہ حکومت کی پالیسی کی مطابقت میں اگر اظہار رائے آج کی حکومت کے مطابق نہ ہو اور متذکرہ قانون کو اسی وقت استعمال کرنا چاہئے جب یہ کسی بھی عمل کے پیچھے باغیانہ عمل کرنے والے کی نیت جب تک امن عامہ میں خلل پیدا کرنا اور حکومت کو شدت کے ساتھ جارحانہ طریقے سے اُکھاڑ پھینکنے کی کوشش کرنا نہ ہو۔
اسی طرح متوازی انتخابات کے لئے اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گو کہ حکومت کی یہ توقع ہے اور انہیں اس بات کی سہولت بھی مل جائے کہ اگر دونوں انتخابات ایک ساتھ ہوں، اخراجات میں کمی واقع ہوگی۔ جبکہ کمیشن نے ایک طویل تفصیلی طور پر اس خصوص میں توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ اگر اس پر عمل کیا جائے تو اپنے دستور کے بنیادی ڈھانچہ کے مطابقت میں نہ ہوگا۔ جبکہ ریاستوں کو وفاقی طرز حکومت کا خصوصی طور پر فائدہ ملنا چاہئے۔ جس کا یکسانیت کے طور پر جنرل الیکشن میں خاتمہ ہونے جارہا ہے۔ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلی کے علاحدہ علاحدہ موضوعات اور وہاں کی زندگی کی الگ شکلیں ہوتی ہیں۔ اگر متوازی طو رپر ان دونوں انتخابات کو ایک ساتھ کیا جائے تو معلق اسمبلی، پارلیمنٹ کی وجہ سے حکومت کی ناکامیاں ہوسکتی ہیں۔ ریاستی قانون سازی کو نہ وسعت دینی چاہئے یا انہیں محدود کرنا چاہئے کہ کس طرح پارلیمنٹ کے جنرل الیکشن کا انعقاد ہو۔ جبکہ یہ مطالبہ اس بات کا متقاضی ہے کہ بنیادی طور پر وفاقی ڈھانچہ کی جو روح ہے جس پر مرکز و ریاست کے تعلقات ہیں وہ متاثر نہ ہوں۔

 

(مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com