بالی وڈ راؤنڈ اپ: رام گوپال ورما کی ‘گاڈ،سیکس اینڈ ٹروتھ‘

نصرت جہاں
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

نندتا کہتی ہیں کہ جس طرح کے حالات ہیں انھیں محسوس ہوتا ہے کہ اب وہ ‘فراق’ اور ‘فائر’ جیسی فلم میں کام نہیں کر سکتیں
یوں تو یہ ہفتہ بھی فلم ’پدماوت‘ کے خلاف کرنی سینا کےاحتجاج کی نظر ہوا لیکن خدا خدا کر کے سنجے لیلا بھنسالی کی یہ فلم ریلیز ہو ہی گئی۔
’پدماوت‘ کی مخالفت اور حمایت کا ایسا دنگل چل رہا تھا کہ لوگ فری سٹائل بھول چکے تھے۔ ایسے میں اداکارہ نندتا داس کی بات ایک تلخ حقیقت لگی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دور فنکاروں اور ادیبوں کے لیے انتہائی خوفناک ہے۔
نندتا کہتی ہیں کہ جس طرح کے حالات ہیں انھیں محسوس ہوتا ہے کہ اب وہ ‘فراق‘ اور ‘فائر’ جیسی فلم میں کام نہیں کر سکتیں۔ نندتا کی اس بات سے محسوس ہوا کہ جس طرح کا کام یا فلمیں کچھ سال پہلے بنائی جاتی تھیں ان کی مخالفت یا ان سے اتفاق کرنے یا نہ کرنے کا طریقہ اب بدل چکا ہے اور اس کی جگہ تشدد اور ہٹ دھرمی نے لے لی ہے۔
’پدماوت‘ کے علاوہ کچھ اور بات ہو ہی نہیں رہی تھی لیکن کچھ لوگ تھے جو اس دوران بھی کام تو نہیں کر رہے تھے البتہ سرخیاں بٹورنے میں مصروف تھے جن میں سے ایک تھے رام گوپال ورما۔
رام گوپال ورما نے امریکی پورن سٹار میا مالکووا کے ساتھ اپنی فلم ‘گوڈ سیکس اور ٹروتھ’ کے سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹر شائع کیے جس پر خواتین کی ایک تنظیم نے ان کے خلاف کیس درج کرایا ہے
کہا جا رہا ہے کہ رامو آج کل انتہائی سستی شہرت حاصل کرنے میں مہارت حاصل کر رہے ہیں۔ کبھی وہ بیچارے ٹائیگر شروف کے نام کا سہارا لے کر سوشل میڈیا پر ٹرول ہوتے ہیں تو کبھی سنی لیونی کے سبب ان کا نام میڈیا میں آجاتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ لوگ انھیں لعنت ملامت کرتے نظر آتے ہیں لیکن شاید وہ اس کہاوت میں یقین رکھتے ہیں کہ ‘بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا۔‘ اب رامو کے خلاف ان کی فلم کے حوالے سے ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
رام گوپال ورما نے امریکی پورن سٹار میا مالکووا کے ساتھ اپنی فلم ‘گوڈ سیکس اور ٹروتھ‘ کے سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹر شائع کیے جس پر خواتین کی ایک تنظیم نے ان کے خلاف کیس درج کرایا ہے۔ لگتا ہے رامو اپنی اس فلم کی ریلیز سے پہلے سوشل میڈیا پر مزید سرگرم ہونے والے ہیں۔ آخر فلم کی پبلسٹی بھی تو ضروری ہے۔ایک اور صاحب ہیں جو پبلسٹی بٹورنے میں ماہر ہو چکے ہیں اور وہ ہیں رنبیر کے پاپا رشی کپور۔ وہ کبھی تصویر اتارنے پر میڈیا پر برس پڑتے ہیں تو کبھی سوال پوچھنے پر مارنے کی دھمکی دیتے ہیں اور سوشل میڈیا پر پہلے تو لوگوں کو مذاق کا نشانہ بناتے ہیں اور جب بات ان پر آئے تو لوگوں کو بلاک کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔رشی کپور نے چند روز پہلے بتایا کہ انھوں نے ٹوئٹر پر پانچ ہزار لوگوں کو بلاک کیا ہے۔ رشی کپور کہتے ہیں کہ جیسے ہی کوئی ان کے یا ان کی فیملی کے بارے میں غلط بات کرتا ہے تو وہ فوراً اسے بلاک کر دیتے ہیں جو بلکل درست بات ہے۔ ایسے لوگوں کے خلاف ایسا ہی کیا جانا چاہیے لیکن کوئی رشی کپور سے پوچھے کہ جب آپ نے ہما قریشی کے کام کا مذاق اڑایا تھا تو کیا انھیں بھی آپ کو بلاک کر دینا چاہیے تھا؟

بشکریہ: بی بی سی اردو

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com