بودھ گیا دھماکہ معاملہ: ایس ٹی ایف کے ہاتھ لگاایک اور دہشت گرد

کولکاتہ، 20 ستمبر ،ہ س: دنیابھر میں مشہور بودھ گیا مندر میں اسی سال جنوری ماہ میں ہوئے دھماکے سلسلے میں کولکاتہ پولس کی اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کے ہاتھ ایک اور دہشت گرد لگا ہے۔ اس کا نام عبدالرزاق ہے۔بنیادی طور پر مرشد آباد کے شمشیرگنج تھانہ کے تحت چاندنی داہا گاوں کے رہنے والے عبدالرزاق کو ایس ٹی ایف ٹیم نے بدھ کی دیررات بردھمان سے گرفتار کیا ہے۔ وہ جماعت المجاہدین بنگلہ دیش (جے ایم بی)کا سرگرم رکن ہے۔ جمعرات کے روز ایس ٹی ایف کے ڈپٹی کمشنر مرلی دھر شرما نے اس سلسلہ میں معلومات دی۔
انہوں نے بتایا کہ اسی سال19 جنوری کو بدھ مت مذہبی رہنما دلائی لاما کی موجودگی میں آئی ای ڈی دھماکہ کیا گیا تھا۔ اس کے لئے دھماکہ خیز مادہ مرشد آباد ضلع سے بودھیا لے جایا گیا تھا۔ اس میں استعمال گاڑی چوری کی تھی اور اس گاڑی کو عبدالرازق نے ہی چرایا تھا۔
مرشد آباد میں ہی بیٹھ کر بودھ گیاھماکے کابلیو پرنٹ بنایا گیا تھا اور عبدالرزاق اس میں براہ راست طور پر ملوث تھا۔ دھماکے کے بعد وہ بردھمان میںآ کر چھپ گیا تھا اور یہیں کچھ کام کر اپنی شناخت کو خفیہ رکھا تھا۔ اس سے پوچھ گچھ کر دیگر دہشت گردوں کا پتہ لگا نے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اس معاملے میں ایس ٹی ایف ٹیم نے پہلے ہی سات دہشت گردوں کو مرشد آباد اور دیگر اضلاع سے گرفتار کیا ہے۔ دھماکے کے کیس کی تحقیقات بنیادی طور پر قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کر رہی ہے۔ این آئی اے نے بھی بہار اور ملک کے دیگر حصوں سے دھماکے کے کیس میں ملوث کئی دیگر دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے۔ این آئی اے کو عبدالرازق کی گرفتاری کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اس کیس میں ایس ٹی ایف کے ذریعہ گرفتار دہشت گردوں سے پوچھ گچھ کے بعد اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ دھماکے کے بعد دہشت گرد آسام ، جھارکھنڈ، مغربی بنگال اورکیرالہ سمیت جنوبی ہند کی کئی ریاستوں میں بھاگ گئے تھے۔ وہاں جاکر بھی ان لوگوں نے دہشت گردانہ کیمپ کھولے تھے اور نوجوانوں کو تربیت دینا اورانہیں دہشت بنانا شروع کر دیا تھا۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com