بینک کھاتوں،اسکولوں میں داخلے اور موبائل کنکشن کےلئے آدھار لازمی نہیں:سپریم کورٹ

عدالت نے کہا کہ یو آئی ڈی اے آئی ایک آئینی ادارہ ،انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کے لئے آدھار لازمی

نئی دہلی،26ستمبر،ہ س:
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بینک کھاتوں،اسکولوں میں داخلے اور موبائل کنکشن کےلئے آدھار لازمین نہیں بنایا جا سکتا ہے ۔ سپریم کوٹ نے منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت بینک کھاتوں کو آدھار سے لنک کرنے سے متعلق ترمیم کو مسترد کر دیا ہے ۔ جسٹس اے کے سیکری نے یہ فیصلہ سنایا ۔ ان کے فیصلے کے ساتھ چیف جسٹس دیپک مشرا اور اے ایم کھانویلکر بھی شامل ہیں۔ جسٹس سیکری نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ان کم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کے لئے آدھار ضروری ہے۔ جسٹس سیکری نے کہا کہ یو آئی ڈی اے آئی ایک آئینی ادارہ ہے ۔ تمام شہری اسے پانے کے حق دار ہیں اور یہ کام کسی اور کو نہیں دیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ یونک ہے ۔ اس میں ڈپلیکسی کے امکانات نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آدھار رازداری کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے کیونکہ اس میں کم سے کم ڈاٹا جمع کیا جتا ہے ۔ لیکن وہ بڑے پیمانے پر عوامی مفاد کے لئے ہے ۔ جسٹس سیکری نے کہا کہ یو جی سی ،نیٹ اور سی بی ایس ای آدھار کو لازمی نہیں کر سکتے ہیں ۔18سال سے کم کے بچوں کے والدین کی رضا مندی ضروری ہے ۔18سال کے اوپر کے طلبہ کو اس سے باہر جانے کا متبادل دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بایو میٹرک ڈاٹا شیئرنگ بغیر عدالتی حکم کے نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ جسٹس سیکری نے کہا کہ آدھار کو مالی بل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے ۔
جسٹس ڈی آئی چندر چوڑ نے اپنے فیصلے می کہا ہے کہ آدھار کو منی بل کے طور پر شامل نہیں کرنا چاہئے ۔جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے کہا کہ آدھار کو منی بل کے طور پر پیش کرنا ایک دھوکہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا کے اسپیکر کے فیصلے کا عدالتی جائزہ لیا جا سکت اہے ۔ انہوں نے کہا کہ آدھار بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ شناخت چوری کا یو آئی ڈی اے آئی کے پاس کوئی حل نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاٹا جمع کرنے کو پرائیویٹ ہاتھوں میں دینے سے غلط استعمال کے امکانا ت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پین سے آدھار کولنک کرنا غیر آئینی ہے ۔
جسٹس اشوک بھون نے کاہ کہ آدھار سے موبائل کنکشن اور بینک کھاتوں کو لنک کرنا غیر آئینی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آدھار پرائیویسی کی خلاف ورزی نہیں کر تا ہے ۔
پچھلے دس مئی کو سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا ۔ پچھلے 17جنوری سے شرو ہوئی یہ سماعت کل 38دنوں تک چلی ۔ سماعت کے دوران وکیل گوپال سبرامنیم نے پوچھا تھا کہ کی اآدھار ایکٹ سروس کی ڈلیوری کے لئے ہے ۔ یہ ایکٹ صرف شناخت کے لئے ہے ۔ ہمیں قانون کے اصلی مقصد کوسمجھنا چاہئے ۔ کیا وہ مقصد پورا ہو پایا ہے ۔انہوں نے کہا تھا کہ آدھار ایکٹ کی دفعہ سات کے تحت احترام اور پرائیویسی کو تحفظ فراہم نہیں کیا گیا ہے ۔ اس ایکٹ کے مرکز میں رجسٹرڈ ہے اور اگر رجسٹریشن فیل ہوتا ہے تو سروس سے محروم ہونگا پڑے گا۔ تب جسٹس چندر چوڑ نے کہا تھا کہ آدھار ایکٹمیں ایک ریگولیٹر کی ضرورت ہے جو موجود نہیں ہے ۔ ریاست ہماری تفصیلات لینا چاہتا ہے لیکن ڈاٹا کے تحفظ کے لئے کوئی تجویز نہیں ہے ۔
اروند داتار نے اس سلسلے میں کہا تھا کہ آدھار منی بل نہیں ہو سکتا ہے ۔ زیادہ سے زیادہ یہ آئین کی دفعہ 117(3) کے تحت فائننشیل بل کی تیسری کیٹگری میں رکھا جا سکت اہے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ اسپیکر کا فیصلہ حتمی ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کا عدالتی جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔ منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت آدھارصرف بینک تک محدود ہے لیکن اس کا میوچول فنڈ ،بیمہ پالیسی اور کریڈٹکارڈ تک کے لئے استعمال ہو رہا ہے ۔
داتار نے کہا تھا کہ سرکار کالا دھن ،قومی تحفظ اور دہشت گرد جیسے جادوئی الفاظ کا استعمال کر رہی ہے ۔ آدھار آئین کے دفعہ 300اے کے تحت ویلد نہیں ہے ۔ آدھارکو لنک کرنے سے منی لانڈرنگ یا کالا دھن کے مسئلے ختم نہیں ہو سکتے ہیں کیونکہ ایسی رقم کے ذرائع دوسرے ہیں ۔ یہ لوگوں کے بایو میٹرک جمع کرنے کےلئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ آدھار سے باہر نکلنے کا متبادل ہونا چاہئے ۔
سینئر وکیل پی چدمبرم نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ آدھار ایکٹ کی دفعہ 57آئین کے دفعہ 110کے موافق نہیں ہے ۔ دفعہ 110(1) جی کوغور کے ساتھ پڑھا جانا چاہئے ۔چدمبرم نے کہا تھاکہ محمد سعید صدیقی اور یوگیندر کمار کے فیصلے درست نہیں ہیں۔ غیر منی بل کو منی بل کے طور پر پیش کرنے کے سنجیدہ نتائج ہیں۔ اس سے آدھے پارلیمنٹ کو کسی بھی ترمیم کرنے سے روک دیا جاتاہے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ کورٹ اس قانون کو کیسے بچا سکتی ہے جو بنیادی طور سے غیر آئینی ہو۔ وکیل کے وی وشوناتھن نے کہا تھا کہ غذائی حقوق اور پرائیویسی کے حق میں متوازن بنانے کی دلیل دینا غلط ہے ۔ آدھار ایکٹ کے دفعہ 59جب یہ ایکٹ نہیں نافذ ہوا تھا اس وقت کے آدھار کا تحفظ نہیں کرتا ہے ۔ سرکار نے غلط دلیل دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری حق ہے اور ان کا فرض ۔ تب وہ اپنے فرض پر عمل کرنے کے لئے غریبوں اور محروموں کو تکنیکی گڑ بڑی میں جھونک کر نہیں کر سکتے ہیں۔ اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہا تھا کہ سب سڈی کی متعین ڈلیوری کا مطلب ہے کہ ملک کے متعینہ فنڈ سے خرچ،یہ آئین کی دفعہ110کے تحت بھی آتا ہے ۔ بھلے ہی یہ پلے سے موجود ہے لیکن آدھار ایکٹ کا اہم مقصد سروس اور مفادا ت کی ڈلیوری کرنا ہے ۔ آدھار ایکٹ کی دفعہ 7,24اور25آئین کی دفعہ 110کے تحت آتے ہیں ۔ اس ایکٹ کی ایک بھی تجویز غیر ضروی یا غیر متعلقہ نہیں ہے ۔ جسٹس اے کے سیکری نے کہا تھا کہ دفعہ 57کے تحت سبسڈی کے فائدہ کی بحث نہیں ہے ۔ تب اٹارنی جنرل نے آینی کے دفعہ 110کو پڑھا اور کہا کہ آدھار ایکٹ کی دفعہ 57کو آئین کی دفعہ 110(1) (جی) کے تحت تحفظ ملا ہوا ہے ۔ تب جسٹس چندر چوڑ نے کہا تھا کہ اٹارنی جنرل سے پھر آئین لکھ سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے پوچھا تھا کہ کیا غذائی تحفظ اور پرائیویسی کے حق کا تحفظ نہیں ہو سکتا ہے ۔ اس سے یہ کیوں پوچھا جائے کہ دونوں میں ایک کو منتخب کرنا ہے ۔ ہمیں دونوں کو ہی منتخب کرنا ہوگا۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com