جامعہ نسواں السلفیہ تروپتی آندھرا پردیش کایک روزہ سفر

 مطیع الرحمن عزیز

مدراس یعنی چنئی سے 141 کلو میٹر دور تروپتی آندھرا پردیش کا ایک تاریخی شہر ہے۔ اس شہر کو ہندو مت میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ شہر ہندوستان بھر میں بالا جی کی مندر کیلئے جانا جاتا ہے۔ اور بنارس کی طرح اس شہر کو بھی مندروں کے شہر کے نام سے لوگ پکارتے ہیں۔ اللہ کی رحمت ہی ہے ایسے شہروں پر کہ جہاں تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے ہوتے ہیں اسے مکہ شہر بنا دیتا ہے۔ اور بنارس جہاں دنیا بھر سے غیر مسلم مذہبی عقیدت کیلئے سفر کرکے زیارت کیلئے آتے ہیں وہاں جامعہ سلفیہ قائم ہوتا ہے اور تروپتی بالا جی کا مندروں والا شہر جہاں قدیم زمانے سے پایا جاتا ہے وہیں جامعہ نسواں السلفیہ کا قیام عمل میں آتا ہے۔ اللہ جس فرد اور جس مقام سے حق کا کام لینا چاہے منتخب کرتا ہے یہ اسی کے شان ہے جس میں کسی خاص شخص کی کوئی پلاننگ اور سوچ وفکر کار آمد نہیں ہوا کرتی ہے۔
میرا جامعہ نسواں السلفیہ کا سفر اپنی بچی کے داخلہ کے سلسلے میں ہوا ۔ میرا یہ سفر دو سالوں کی محنت کا ثمرہ تھا ۔ جامعہ نسواں السلفیہ کو پہلی بار جاننے کا موقع بھائی محمد عاقل صاحب کے ایک مضمون کے تحت ملا۔ جس میں انہوں نے وہاں کے قیام وطعام کے تمام مراحل اور خوبیوں کا اندراج کیا تھا۔ ان کا مضمون پڑھنے کے بعد یو ٹیوب پر سرچ کرنے پر معلوم ہوا کہ جناب محمد عاقل صاحب کے مضمون میں آئی تمام باتیں سو فیصد حقیقت پر مبنی ہیں۔ مجھے یو ٹیوب پر ایک گھنٹے کا ایک ویڈیو بھی حاصل ہوا تھا جس میں جامعہ نسواں السلفیہ کے مخصوص اسپتال، بچوں کی رہائش اور ہر طرح کے انتظامات کوباقاعدہ دکھایا گیاتھا ۔ بعد میں وہ ویڈیو غالبا ڈلیٹ ہو گئی ۔ جو اپنے گھر پر بیٹھ کر کافی حد تک جامعہ کو جاننے اور سمجھنے کیلئے کافی تھا۔ میری دعا ہے کہ جامعہ نسواں السلفیہ جیسے ادارے ملک میں اور بھی فراہم ہوتے تو دور دراز میں رہنے والے افراد اپنی بچیوں کو دین حق کی تعلیم دلانے میں سہولت اور آسانی محسوس کرتے۔ کیونکہ جامعہ نسواں السلفیہ کی دوری دہلی سے تقریبا 2200 کلو میٹر ہے۔ ایک برسر روزگار فرد کیلئے اتنے دور کی مسافت سال میں چار بار کرنا مشکل کام ہے۔ لیکن اس کے باوجود میری کچھ تصاویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد دوستوں کو جامعہ نسواں السلفیہ کے تعلق سے جاننے اور وہاں کے بہتر انتظامات اور بہتر تعلیم سے فائدہ اٹھانے کے لئے بچیوں کے داخلہ کے لئے سیکڑوں فون اور واٹس ایپ ایس ایم ایس دستیاب ہوئے۔ جن کا اپنی معلومات کی حد تک تسلی بخش جواب دینے کی میں نے پوری کوشش کی۔ اس کے علاوہ مجھے محسوس ہوا کہ کچھ برادران جو جامعہ نسواں السلفیہ کے تعلق سے جاننے کے مشتاق ہیں اپنے مطالعے پر منحصر ان کیلئے ایک تحریر جاری کی جائے۔
جامعہ نسواں السلفیہ تروپتی شہر سے 10کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ ریلوے اسٹیشن اور بس اسٹاپ سے 13کلو میٹر اور ایئر پورٹ سے 25کلو میٹر کی مسافت ہے۔ 2017میں میں اور میری بچی دونوں کیلئے بذریعہ ٹرین جامعہ جانے کا ٹکٹ تھا ، لیکن سفر کے مشکلات اور دوری نے ہمت توڑ دی۔ جس کا ملال مجھے سال بھر رہا ۔ دسمبر 2017میں جب سالانہ اجلاس کی تاریخ منظر عام پر آئی تو اس دفعہ کوئی کوتاہی نہ ہوجائے اس لئے فلائٹ ٹکٹ چار مہینے قبل لے لیا ، تاکہ اس بار سفر کی دوری کے مشکلات حائل نہ ہوں۔ لیکن کرناٹک الیکشن میں جامعہ نسواں السلفیہ کی بانیہ ڈاکٹر نوہرا شیخ کی مصروفیت کی وجہ سے سالانہ اجلاس 28اپریل کے بجائے 22اپریل کو کر دیا گیا۔ اس سال بھی میرے جانے کا معاملہ ادھورا ہونے والا تھا۔ کیونکہ ٹکٹ ناٹ رفنڈیبل تھا۔ لیکن اللہ نے غیبی مدد فرمائی اور بہار شریف کے جناب عمران عالم صاحب نے میرے سفر کیلئے آنے جانے کا بذریعہ فلائٹ اپنی جانب سے فراہم کرایا۔ اللہ تعالیٰ جناب عمران عالم صاحب کو اس کیلئے جزائے خیر عنایت فرمائے۔ آمین۔
21تاریخ کو تروپتی پہنچنے کے بعد شیخ الجامعہ جناب مولانا ابراہیم صاحب مدنی نے میرے ٹھہرنے کا انتظام ایک ہوٹل میں کرایا۔ صبح جامعہ کیلئے نکلتے وقت پتہ چلا کہ میرے سامنے والے کمرے میں شیخ جلا ل الدین قاسمی صاحب، جناب ثناءاللہ مدنی صاحب اور شیخ جرجیس صاحب بھی وہیں پر ٹھہرائے گئے تھے۔ ناشتے کا انتظام ہوٹل میں ہی تھا لہذا ہم تمام لوگوں نے ساتھ ہی ناشتہ کیا اور میں جامعہ کیلئے چلا گیا۔ جامعہ جانے کے بعد وہاں کے منظر قابل دید تھے۔ تقریبا 100 بگہے زمین پر منحصر تمام جامعہ کی پراپرٹی جس میں ایک چوتھائی حصہ میں جامعہ کا خوبصورت ہاسٹل و درسگاہ قائم ہے۔ جامعہ کے برابر والی جگہ میں بچیوں کے کھیلنے اور سیر وتفریح کے لئے خوبصورت پیڑوں کے درمیان ہری بھری گھاس اور جھولوں سمیت چھایا دار بیٹھک قابل فرحت بخش محسوس ہوتے ہیں۔ جامعہ کے ایک سمت خالی پلاٹ میں خواتین کیلئے کولر اور سیکڑوں پنکھوں سے مزین ایک بڑا پنڈال بنایا گیا تھا۔ اور تیسری جانب جامعہ کے آدھے رقبے میں اسٹیج اور درمیان میں پارٹیشن کرکے مردوں اور طالبات سمیت خواتین کیلئے مقررین اور بچیوں کے پرفارمنس دیکھنے کیلئے اسٹیج کے سامنے بہتر انتظام کئے گئے تھے۔ صبح آٹھ بجے کا سہانا منظر نو اور دس بجے کے درمیان لوگوںکی جم غفیر میں تبدیل ہو چکا تھا۔ مولانا اسماعیل شیخ ناظم جامعہ اور ڈائرکٹر ہیراکے اندازے کے مطابق پندرہ ہزار افراد کی شرکت نے جامعہ کے سالانہ اجلاس کو چار چاند لگا دیا تھا۔
بچیوں کے مکالمے کے درمیان حضرت مولانا جناب ابراہیم صاحب مدنی حفظہ اللہ تعالی کے معلوماتی بیان بھی ہوا کرتے تھے۔ جس میں سے پہلا معلوماتی تقریر شیخ کی طرف سے داخلہ پروسیز کے تعلق سے کیا گیا۔ جس میں بتایا گیا کہ جامعہ نسواں السلفیہ میں داخلہ لینے کے خواہش مند حضرات ویب سائٹ ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو ڈاٹ جے این اے ایس ڈاٹ کو ڈٹ ان پر لاگ آن کرکے داخلہ فارم فل کر سکتے ہیں۔ فارم فل کرنے کے بعد ایک رسپٹ موصول ہوگی۔ اس کے بعد فون کالز یا ایس ایم ایس کے تحت جامعہ میں بچی کو انٹرویو دلانے جانا ہوگا۔ تعلیمی سال تمام مدارس کی طرح ہوتے ہیں۔ اور سالانہ اجلاس کے اختتام کے ساتھ ہی بچے اپنے اپنے رزلٹ لے کررمضان اور گرمی کی چھٹیوںکیلئے اپنے گھروں کو جا سکتے ہیں۔ عید الاضحی میں دس ایام کی چھٹی منعقد کی جاتی ہے اور ششماہی میں ایک ہفتے کی ۔ جس میں دور دراز کی بچیاں جامعہ میں رہتی ہونگی جب کہ قریب کے بچے اپنے گھروں کو جاتے اور پھر واپس آتے ہیں۔
یہ سب وہ معلومات ہیں جو جامعہ کے ویب سائٹ پر بھی شائع ہیں۔ میں یہاں ان تجربات کو بھائیوں سے شیئر کرنا چاہتا ہوں جو کہ میرا ذاتی ہے۔ جامعہ نسواں السلفیہ کے محل وقوع پر بات کی جائے تو یہ سمجھ لیں کہ جامعہ ایک ایسی خوبصورت وادی میں واقع ہے جس کے ایک کلو میٹر کی دوری پر چاروں جانب پہاڑ ہے اور بالکل درمیان میں بیچوں بیچ جامعہ کا خوبصورت منظر بذریعہ فلائٹ پرواز کرنے والوں کو نہایت ہی خوبصورت اور پر فریب محسوس ہوتا ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ جامعہ پہاڑوں کی گود میں واقع ہے۔ گزشتہ دو سال سے ویڈیو مناظر دیکھنے کے بعد میں ایسا محسوس کرتا تھا کہ جامعہ کا کوئی ایک منزل خوبصورتی سے مزین ہوگا۔ لیکن وہاں جانے کے بعد میری یہ غلط فہمی دور ہوگئی اور مطالعہ میں آیا کہ ہاسٹل کے ہر منزل پر ایک قسم کی نقش نگاری اور فرش ومکمل دیواروں پر خوبصورت ٹائلس کا کام کیا گیاہے۔ یہاں تک کہ کوئی فرد اگر پورے ساتوں منزلوں پر بغیر جراب پہنے ہوئے چلے تو اس کے پیروں میں دھول نہیں لگے گی۔ ماشا اللہ۔ ایسا بہتر اور خوبصورت منظر ہے جامعہ نسواں السلفیہ کا۔ اللہ تعالیٰ اسے ہمیشہ ہمیشہ قائم ودائم رکھے۔ آمین۔
سیکڑوں برادران نے مجھ سے جامعہ میں داخلے کے پروسیز کے تعلق سے بات چیت کرتے ہوئے اخراجات کے تعلق سے دریافت کیا۔ جس کی تفصیل میں حقیقت یہ ہے کہ صبح بچیوں کو ناشتے میں دودھ اور بہتر غذا اور پھل فروٹ، دوپہر اور شام کے کھانے میں اچھے چیزوں کی فراہمی بچیوں کو اس تعلق سے گھر کی یاد کم ہی دلاتی ہوگی۔ میں نے بھی ہاسٹل میں زندگی گزاری ہے ۔ دیکھنے میں آتا تھا کہ جب کھانے کا وقت ہوتا تھا تو بچے گھر کی چیزوں اور اپنے ناز ونخرے کو یاد کرکے روتے ہوئے دیکھے جاتے تھے۔ کیونکہ ہاسٹل میں امی اور ابو جیسا کھانے کیلئے سفارش کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ لیکن جامعہ نسواں السلفیہ میں آٹھ سال کی بچی سے لے کر فضیلت تک کی بچیاں ایک بہتر ماحول اور ملازماﺅں کی سرپرستی میں رہتی ہیں۔ جنہیں نہ تو اپنی طبیعت کی خرابی کی فکر ہوتی ہے اور نہ ہی کپڑے دھلنے سمیت دوسرے کاموں کی۔ صحت و تندرستی کا خیال کرنے کے لئے جامعہ میں ہی اسپتال اور ایڈمٹ ہال کا قیام ہے، جس میں چوبیس گھنٹے ڈاکٹرس کی ٹیم اپنے اپنے وقت کے مطابق متعین ہوتی ہیں۔ بچیوں کی ضروریات کے لئے دو سو کے قریب ملازمائیں جامعہ میں چوبیس گھنٹے کام کرتی ہیں۔ جن کا کام ہاسٹل اور بچیوں کے روم کی صفائی ، بچوں کے کپڑوں کی صفائی ، کپڑوں پرپریس کرنا وغیرہ انہیں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جب کہ ان تمام سہولیات، کتاب ، کاپی، پنسل ،ربڑ ، کھانے پانی پر کسی طرح کی فیس نہیں لی جاتی ۔ جو ایک طرح سے اللہ کی بڑی نعمت اور ڈاکٹر نوہرا شیخ کا قوم پر ایک بہت بڑا احسان سمجھا جانا چاہئے۔
جامعہ کی کل عمارت سات منزلوں پر مشتمل ہے۔ جس میں تقریبا ڈھائی سو کے قریب کمرے شمار میں آتے ہیں۔ جامعہ کا ہر کمرہ بچیوں کی رہائش کے بشمول مکمل ایئر کنڈیشن ہے۔ ہاسٹل کا چھٹی منزل جہاں پر میٹنگ روم ، کانفرنس کا سو سیٹوں پر منحصر ہال اور ایک ہزار سے زائد افراد کے بندوبست رکھنے والادوسرا کانفرنس ہال اپنے آپ میں دید کے قابل ہے۔ غرض کہ جامعہ نسواں السلفیہ اپنے آپ میں خلوص کا وہ معیار ہے جو کم از کم ہندستان میں اپنی مثال نہیں رکھتا ۔ جہاں پر ہندستان ہی نہیں بلکہ مکہ، مدینہ اور ریاض سمیت کئی بیرونی ممالک کے افراد نے بھی اپنے بچیوں کے داخلے کرائے ہیں۔ اسی بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب کی پر تعیش رہائش اور جامعہ کی رہائش میں اگر کوئی اختلاف ہوتا تو بیرون ممالک جیسے انتظامات و آسائش والی جگہوں سے لوگ اپنی بچیوں کے داخلے کراکر کیسے مطمئن رہ سکتا تھا۔
جامعہ نسواں السلفیہ میں سو قابل اور جید معلمات بچیوں کو تدریس کے خدمات انجام دیتی ہیں۔ جن میں ہر فنون کی استانیاں ہندستان کے کونے کونے سے چن کر لائی جاتی ہیں۔ جو بچیوں کو بہت ہی محبت اور لاڈ پیار سے پڑھاتی ہیں۔ ہر سال جامعہ سے عالمیت ، فضیلت اور دعوہ کورسز میں سند لے کر سو کے قریب بچیاں فراغت حاصل کرتی ہیں، اور جامعہ سے جاتے وقت پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے دیکھی جاتی ہیں۔ اس کا خاص اثر محترمہ ڈاکٹر نوہرا شیخ کی محبت اور الفت بتایا جاتا ہے۔ ایک صاحب جن کی اپنی بیٹی وہاں پر معلمہ ہیں۔ بتاتے ہیں کہ جب آپا نوہرا جامعہ میں آتی ہیں تو ایسا منظر ہوتا ہے جیسے کوئی ماں اپنے بچوں سے دور جانے کے بعد واپس آتی ہے۔ جس کے آنے کی خوشی میں بچیاں چہکتی ، کھلکھلاتی اور بہت خوش وخرم ہوتے ہوئے جشن مناتی ہیں۔ جامعہ نسواں السلفیہ کی بانیہ ڈاکٹر نوہرا شیخ کابچیوں کے تعلق سے ایک نادراور قابل رشک قدم جسے ہر شخص سن کر حیران ہوگا وہ یہ ہے کہ جامعہ میں ملازمین سے زیادہ بچیوں پر اچھی نظر رکھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جامعہ کے ہر فلور پر ایک باکس رکھا گیا ہے جس میں ہدایت ہے کہ ہر وہ بچی جس کو کسی سے کوئی شکایت ہے یا کھانے وغیرہ کے کسی معاملے میں کچھ کہنا ہے وہ بغیر نام درج کئے اپنا رقعہ باکس میں ڈال دے۔ تو بہت جلد کمی دور کی جاتی ہے اور کسی ملازم کے خلاف شکایت ہونے پر تادیبی کاررائی کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جامعہ نسواں السلفیہ کے تمام کارکنان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔ یہ مضمون ان تمام بھائیوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے جو بچیوں کو دین کی اعلیٰ تعلیم نہیں دلا پاتے ۔ کیونکہ بچیاں اپنے آپ میں نازک مزاج ہوتی ہے۔ اور سیکورٹی کی قلت کے سبب دل ہمیشہ ڈرتا ہے۔ جب کہ جامعہ اپنے آپ میں سیکورٹی میں بھی اول مقام رکھتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ جامعہ نسواں السلفیہ کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جو انگلی اٹھانے کے قابل ہو بلکہ اپنے تمام انتظام وانصرام میں اول بلکہ جید مقام رکھتا ہے۔ مہمانوں کیلئے بڑا دل رکھنے والا جامعہ تمام بھائیوں کو اس بات کیلئے دعوت دیتا ہے کہ ایک بار ضرور ہمارے جامعہ تشریف لائیں اور اپنے قیمتی مشوروں سے نوازیں

(مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com