جھارکھنڈ میں بند کا زبردست اثر، دو ہزار لیڈر-کارکنان گرفتار

رانچی،05جولائی،ہ س:تحویل اراضی قانون میں ترمیم کے خلاف اپوزیشن کے جھارکھنڈ بند کے دوران جمعرات کو راجدھانی رانچی سمیت پوری ریاست میں زبردست اثر دیکھنے کو ملا۔ رانچی میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے کارگزار صدر اور اپوزیشن لیڈر ہیمنت سورین کانگریس کے سبودھ کانت سہائے، جھارکھنڈ وکاس مورچہ کے سربراہ بابولال مرانڈی اور قومی جنتادل کے سابق ریاستی صدر گوتم ساگر رانا سمیت مختلف پارٹیوں کے قریب دو ہزار لیڈروں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ اس سے پہلے ہیمنت سورین نے تحویل اراضی ترمیمی بل کے خلاف اپنے حامیوں کے ساتھ رانچی یونیورسٹی گیٹ سے مارچ کرتے ہوئے البرٹ ایکا چوک پہنچے۔ یہاں انہیں پولس نے گرفتار کرلیا۔ گرفتاری سے پہلے ہیمنت پارٹی جنرل سکریٹری ونود پانڈے، سپریو بھٹاچاریہ اور پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں کے ساتھ راجدھانی کے البرٹ ایکا چوک سے چند فاصلے پر سرجنا چوک پر مارچ کرتے ہوئے پہنچے، جہاں پولس نے انہیں گرفتار کرلیا۔ ہیمنت سورین اوران کے حامیوں کوسمر کیمپ جیل لایا گیا ہے۔ سورین نے ریاست کی بی جے پی قیادت والی رگھوور حکومت پر جم کر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز اور ریاست کی بی جے پی حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف غصہ ہے، یہ ریاستی بند۔ انہوں نے جھارکھنڈ بند کو پوری طرح سے کامیاب بتایا۔ ہیمنت نے حکومت کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بند انتخابی فائدے لینے کے لئے نہیں بلکہ آدیواسیوں کے وجود کو بچانے کے لئے ہے۔ ہمیں لوگوں کی حمایت مل رہی ہے۔ اسی طرح جے وی ایم سپریمو بابولال مرانڈی، اسمبلی میں پارٹی لیڈر پردیپ یادو، بندھو ترکی سمیت سیکڑوں پارٹی لیڈروں اور کارکنوں کے ساتھ ڈبڈیہہ میں پارٹی دفتر سے ریلی نکالتے ہوئے سجاتا چوک پہنچے۔ بند کے دوران جے وی ایم کارکنوں نے پارٹی سپریمو بابولال مرانڈی کی قیادت میں ارگوڑا چوک کے پاس ٹرائر جلاکر احتجاج کیا۔ پیدل مارچ کے دوران تین مقامات پر پولس نے جے وی ایم حامیوں کو حراست میں لینے کی کوشش کی لیکن اس دوران حامیوں نے پولس کی مخالف کی۔ حراست میں لینے کے دوران جے وی ایم کارکنوں اور پولس دستہ کے درمیان ہلکی جھڑپ بھی ہوئی۔ ساتھ ہی مین روڈ پہنچنے پر حامی دکانوں کو بند کرانے کے لئے ڈوڑ پڑے لیکن پولس کی مداخلت کے بعد انہیں پیچھے ہٹنا پڑا۔
اس کے بعد جے وی ایم سپریمو بابو لال مرانڈی سمیت ان کے حامی سجاتا چوک پر دھرنے پر بیٹھ گئے اور رگھوور حکومت کے تحویل اراضی ترمیمی بل کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ اس دوران سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر سبودھ کانت سہائے بھی ان کے ساتھ تھے۔ سجاتا چوک پر ان سبھی کو پولس نے حراست میں لے لیا۔ پولس حراست میں لئے جانے سے قبل بابولال مرانڈی نے کہا کہ حکومت ریاست کے کسانوں، آدیواسیوں کو بھکاری بنانا چاہتی ہے۔ ایسے میں بند میں عوام کی مل رہی حمایت ریاستی حکومت کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ مرانڈی نے کہا کہ ریاست کی رگھوور حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف لوگوں میں غصہ صاف دکھ رہا ہے۔ حکومت کسانوں کو بھکاری بننا چاہتی ہے، اس لئے اس قانون کو لایاگیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ جس طرح سے سی این ٹی- ایس پی ٹی ایکٹ ترمیمی بل کو واپس لیا گیا تھا۔ اس طرح اس بند میں عوامی حمایت کو دیکھتے ہوئے تحویل اراضی ترمیمی بل کو بھی واپس لینا چاہئے۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک تحویل اراضی ترمیمی بل واپس نہیں ہوتا ہے تب تک تحریک جاری رہے گی۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ