خمینی اور امریکی آغاز

مشاری الذایدی

خمینی کی انتظامیہ نے دھوکہ دینے کے لیے سب سے زیادہ جو آواز بلند کی ہے وہ امریکی زوال کی آواز ہے اور اس آواز کے ذریعہ پروپگنڈہ کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنا مقصود ہے اور اسی آواز سے فطری طور پر بیت المقدس اور فلسطین کی آواز بھی نکلتی ہے اور ہر حال میں جاننے والا جانتا ہے کہ فلسطینی مسئلہ میں ایران کی مداخلت ہنگامی مداخلت ہے۔
جہاں تک حقیقت کی بات ہے تو خمینی انتظامیہ کے محافظین ہر حال میں ان پروپیگنڈے سے دور انتظامیہ کے لیے حقیقی مفادات کی تلاش میں رہتے ہیں جن کے ذریعہ وہ عوام اور بیمار لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔
خمینی کے ہمنواؤں نے بڑے شیطان کے ساتھ مفادات کے تعلقات پیدا کیے ہیں اور اس کا آغاز سنہ 1985 – 1986 میں ایران کی ہونے والی ذلت ورسوائی سے لیکر اس عظیم الشان خفیہ معاہدہ تک نہیں ہوا تھا جسے حسن روحانی کے فریق نے اوباما کے وزیر خارجہ کیری کے ساتھ انجام دیا تھا۔۔۔ بلکہ اس کا آغاز اوباما کی حکومت کے پہلے سال ہی خامنئی اور اوباما کی غزل سرائی میں عرب کے سخت موسم سے پہلے شروع ہوا تھا۔
اسی طرح بی بی سی میں فارسی خدمت ڈیپارٹمنٹ کے مفاد کا جائزہ لینے والے صحافیوں کے ساتھ ایک ایرانی صحافی کی طرف سے تیار کردہ ایک رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ خمینی نے امریکیوں کو پرزور انداز میں کہا ہے کہ وہ ان کے مفادات کی حفاظت پر کام کریں گے اور ایران کی سرزمین پر امریکی شہریوں کی سلامتی کا اہتمام کریں گے اور خمینی نے امریکہ کے سامنے یہ وعدہ کیا کہ وہ انقلاب برپا کرنے پر کام نہیں کریں گے اور وہ سعودی عرب، عراق اور کویت جیسے عرب کی پڑوسی انتظامیہ سے دشمنی نہیں کریں گے اور اسی طرح خمینی نے تیل کی مدد کے سلسلہ میں بڑھوتی سے متعلق اہل امریکہ کو اطمینان دلایا اور مناسب وقت میں بہت ہی اہم سیاسی کردار انجام دیا کیونکہ انہوں نے واشنگٹن کو مطمئن کیا کہ وہ ایران میں اپنی مداخلت جاری رکھ سکتا ہے اور یہ ایران کی تحفظ کے سلسلہ میں تھا تاکہ اس پر سویت یونین اور برطانیہ کا احتمالی قبضہ نہ ہو سکے۔
یہ خمینی کہانی شروع ہونے کے وقت کا مرحلہ ہے جس وقت وہ اور ان کے اہلکار کا واشنگٹن کے ساتھ کوئی تعلق اور تفاہم نہیں تھا اور اس وقت نئے معاملات بھی سامنے نہیں آئے تھے۔
یہ سب وائٹ ہاؤس میں بیٹھے کارٹر نامی شخص کی وجہ سے ہوا ہے اور اس کے چند دہائیوں کے بعد اوباما آیا جو اسی طرز پر کام کرتا رہا لیکن اس کے طرز میں سادگی اور مکرو فریب کا عنصر تھا۔

بشکریہ: الشرق الاوسط

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com