دفعہ497کالعدم، اب غیرازداوجی تعلقات جرم نہیں

شادی کے بعد دونوں فریق شادی کے وقار و احترام کو قائم رکھنے کےلئے برابر کے ذمہ دار ہیں: سپریم کورٹ

نئی دہلی، 27۔ستمبر،ہ س:
سپریم کورٹ نے دفعہ 497 کو خارج کر دیا ہے ۔ آئین کے تعزیرات ہند کی دفعہ 497پر فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس دیپک مشرا نے اس قانون کو منمانا اور غیر قانونی قرار دیا۔ انہوں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صرف بد چلنی جرم نہیں ہو سکتا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اگر متاثرہ شوہر یا بیوی بد چلنی کی وجہ سے خود کشی کرتے ہیں اور اس کے شواہد ملتے ہیں تو خود کشی کے لئے اکسانے کا معاملہ چلے گا۔ چیف جسٹس نے اپنا اور جسٹس اے ایم کھانولکر کا فیصلہ سنایا ۔ آئینی بنچ کے تیسرے جج جسٹس نریمن نے بھی بد چلنی کے قانون کو غلط بتایا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ مساوات بنیادی اصول ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ شوہر کو بیوی کا مالک نہیں سمجھیں۔ انہوں نے کہا کہ خاتون کا وقار سر فہرست ہے چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی بھی قانون جو خواتین کے عزت و احترام سے کھلواڑ کرنے والا ہو ، غیر قانونی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی خوبصورتی میں ،تم اور ہم میں ہے ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ بد چلنی شادی سے جڑا ہے اور پارلیمنٹ نے خواتینی کے حقوق کے تحفظ کے لئے قانون بنایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بد چلنی طلاق کی بنیاد ہو سکتی ہے ۔ جسٹس چندر چوڑ نے کاہ کہ بد چلنی کا قانونی خاتون کے جنسی چوائس کو روکتا ہے ۔ اس لئے یہ غیر آئینی ہے ۔ یہ آئین کی دفعہ 14کی خلاف ورزی ہے ۔ جسٹس اندو ملہوترا نے کاہ کہ شادی کے بعد خاتون مرد کا سایہ نہیں ہو سکتی ہے ۔ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بنچ نے پچھلے 8اگست کو اس معاملے پر سماعت پوری کرلی تھی ۔اس معاملے پر سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے یکم اگست سے سماعت شروع کی تھی ۔ اس معاملے کی سماعت کر رہی سپریم کورٹ کی آئینی بنچ میں چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس روہنٹن نریمن،جسٹس ایم کھانولکر ،جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس اندو ملہوترا شامل ہیں۔
اس معاملے پر سماعت کے دوران آئینی بنچ کی واحد خاتون جج جسٹس اندو ملہوترا نے پوچھا تھا کہ کیا بیوی کے ساتھ ایک جائیداد کی طرح سلوک ہونا چاہئے ۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ یہ حیران کن ہے کہ اگر ایک غیر شادی شدہ مرد کسی شادی شدہ خاتون کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرتا ہے تو وہ بد چلنی کے زمرے میں نہیں آتا ہے ۔سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ شادی کے بعد دونوںفریق شادی کے وقار کو بنائے رکھنے کے لئے برابر کے ذمہ دار ہیں ۔ کورٹ نے کاہ تھا کہ شادی شدہ خاتون اگر اپنے شوہر کے علاوہ کسی شادی شدہ مرد کے ساتھ تعلقات قائم کرتی ہے تو اس کے لئے صرف مرد کو ہی کیوں سزا دی جائے کیونکہ اس میں دونوں برابر کے حصہ دار ہیں ۔ سپریم کورٹ نے پوچھا تھا کہ کئی معاملوں میںجب خاتون اپنے شوہر سے الگ رہ رہی ہے تو وہ دوسرے مرد کے ساتھ جنسی سر گرمیوں میں شامل ہوتی ہے تو کیا اس کے شوہر کی شکایت پر خاتون کے خلاف بد چلنی کا جرم قائم ہوتا ہے ۔ سماعت کے دوران جب عرضی گزار کے وکیل نے امریکی کورٹ کے ایک فیصلے کی مثال دی جس میں کسی بھی شادی شدہ حالت میںبھی جنسی تعلقات کی اختیارات کی وکالت کی گئی ہے تب چیف جسٹس دیپک مشرا نے کہا تھا کہ شادی کو لے کر ہمارا نظریہ ان کے نظریہ سے الگ ہے ۔ چیف جسٹس نے کاہ تھا کہ شادی کے وقار پر حملہ مت کیجئے۔ عرضی گزار کے وکیل کالی شورم راج نے کہا تھاکہ ہم اس قانون کو چیلنج نہیں دے رہے ہیں کہ بد چلنی طلاق کی ایک بنیاد ہے ۔ جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے کہا تھا کہ اگر ایک شادی شدہ مرد کسی غیر شادی شدہ عورت سے جنسی تعلقات قائم کرتا ہے تو یہ بد چلنی نہیں ہے لیکن کیا یہ شادی کی پاکیزگی کو ختم نہیں کرتی ہے ۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com