دہلی: سیلنگ میٹنگ ہنگامے کی نذر ، سپریم کورٹ جائے گی’آپ‘

نئی دہلی، 30جنوری: وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے دہلی میں ناجائز مکانات اوردکان کی سیلنگ کے بارے میں جو میٹنگ بلائی تھی وہ ہنگاموں کی نظر ہوگئی ۔ کیونکہ بی جے پی کے رہنماﺅں نے اسے وا ک آﺅ ٹ کیا اور عام آدمی پارٹی کے رہنماﺅں پر الزام لگایا کہ میٹنگ کے دوران نہ صرف مذاق اڑا یا بلکہ فقرے بھی کسے۔ بی جے پی کے دہلی کے سابق منوج تیواری میٹنگ چھوڑ کر وہاں سے واک آﺅٹ کیا اور کہا ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت انہیں وہاں پر حملے کیاگیا۔ لیکن وزیر اعلیٰ اورعام آدمی پارٹی کے رہنماﺅں نے ان کے اس بیان کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ وہ اس لئے میٹنگ چھوڑ کر بھاگے کیونکہ وہاں پر کئی صحافی موجود تھے ۔میٹنگ کو برخاست کرنے کے بعد اروند کجریوال نے کہا کہ اس مسئلے کو سپریم کورٹ لے جائیں گے تاکہ عوام کو راحت مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات پر دکھ ہے کہ یہ میٹنگ فائدہ مند ثابت نہیں ہوئی اور کہا کہ ہماری حکومت اور پارٹی سیلنگ پر روک لگانے کے حق میں ہے۔ بی جے پی کے تین ممبران اسمبلی اور دو میونسپل کارپوریشن کے میئر اس میٹنگ میں شمولیت کےلئے آئے تھے جب وہ داخل ہوئے تو وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ اس میٹنگ کی کارروائی کو لوگوں پر پہنچانا چاہتے تھے لیکن بی جے پی کو اس پر اعتراض تھا۔ دہلی میونسپل کارپوریشن نے کئی ہفتوں سے ان رہائشی مکانات کو بند کردیا جنہیں لوگ کاروبار کے لئے استعمال کرتے تھے۔ کجریوال نے دعوی کیا ہے کہ بی جے پی جو شمال،مشرق اور جنوبی راجدھانی میں تینوں میونسپل کارپوریشنوں کو کنٹرول کرتے ہیں، انہوں نے اس مسئلے پر تبادلہ خیال سے انکار کیا ہے، جس کے بعد وہ ریلیف طلب کرنے کے لئے سپریم کورٹ کا رخ کرنے کےلئے مجبور ہوگئے ہیں۔ دہلی یونٹ کے صدر منوج تیواری کی قیادت میں ایک بی جے پی وفد نے میٹنگ سے قبل وزیراعلی کی رہائش گاہ سے باہر نکل کر الزام عائد کیا کہ اے اے پی حکومت معاملے کو دیگر سمت دینا چاہتی ہے۔ دہلی کے وزیراعلی نے کہاکہ بی جے پی نے مجھ سے بات کرنے سے انکار کردیا اس لئے میں عدالت عظمی کا دروازہ کھٹکھٹانے کےلئے مجبور ہوگیا ۔ کجریوال نے کہا کہ ایک عرضی پہلے ہی تیار کی گئی تھی اور سرکاری وکلاء کی طرف سے چھان بین کی جارہی تھی ۔ تیواری نے کہاکہ کجریوال کے ساتھ میٹنگ سے جیسے ہی بی جے پی کا وفد نکلا ، کجریوال ایک عوامی ریلی میں تبدیل ہوگئے۔ ہم نے ان کے خطرناک طریقہ کار کو بھانپ لیا اور احساس کیا کہ وہ مسائل کا حل نکلنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال دسمبر سے کارپوریشن سیلنگ مہم کو انجام دے رہا ہے۔ سپریم کورٹ کی تقرر کردہ نگراں کمیٹی کی ہدایات پر ہزاروں دکانیں سیل کردی گئی ہیں۔ یہ دکانیں کنورزن فیس کی عدم ادائیگی ،تجاوزات اور غیرقانونی تعمیر کی وجہ سے سیل کی گئی ہیں۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com