“رام مندر کی تعمیر کو لیکر دیئے جانے والے بیانات عدالت کی توہین ہی ہے”

ممبئی،30۔جون:بابری مسجد رام جنم بھومی تنازعہ کی اہم فریق جمعیۃ علماء ہند ہے اور اس نے اخبارات میں بیان بازی کی بجائے عدالت میں پختہ دلائل پیش کرنے میں یقین رکھا ہے نیز فرقہ پرست عناصر کی جانب سے رام مندر کی تعمیر کو لیکر دیئے جانے والے متنازعہ بیانات کا عدالت عظمی کوازخود نوٹس لینا چاہے۔اب جبکہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے عدالت کے فیصلہ کا انتظار کیئے بغیر ایسے بیانات کا دینا عدالت کی توہین کے مترداف ہے۔ یہ بیان آج یہاں ممبئی میں جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ روزانہ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں اس طرح کے بیانات زینت بنتے ہیں لیکن ہندوستانی مسلمانوں نے بھی ٹھان لیا ہے کہ وہ اس معاملے میں عدالت کے فیصلہ کا احترام کریں گے کیونکہ انہیں ہندوستانی عدلیہ پر مکمل بھروسہ ہے ۔ مسلمانوں کو مشتعل ل کرنے کے لیئے ایسے بیانات جاری کیئے جاتے ہیں لیکن اب مسلمان اشتعال انگیز بیانات کو سمجھنے لگا ہے اور ا س نے قانون کو اپنا محافظ بنایا لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو ایسے بیانات دینے والوں پر سخت کارروائی کرنا چاہئے ، بیان دینے والے چاہئے کسی بھی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو۔
گلزار اعظمی نے کہا کہبابری مسجد کی ملکیت کے تنازعہ کو لیکر سپریم کورٹ آف انڈیا میں زیر سماعت پٹیشن نمبر 10866-10867/2010 پر ۶ جولائی سے سپریم کورٹ میں معاملے کی سماعت ایک بار پھر شروع ہونے جارہی ہے اور جمعیۃ علماء کے وکلاء ڈاکٹر راجیو دھون ، ایڈوکیٹ راجو رام چندرن، ایڈوکیٹ اعجاز مقبول ودیگر تیار ہیں ۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ فرقہ پرست عناصر نے ماضی میں اس طرح کے بیانات دیکر ماحول خراب کرنے کی کوشش کی تھی اور ان سب بیانات دینے کے پس پست ایک سازش ہے جس کا عدالت عظمی کو نوٹس لینا چاہئے تاکہ ایسے بیانات دینے والوں پر نکیل کسی جاسکے۔
خیال رہے کہ۲۳ دسمبر ۱۹۴۹ ء کی شب میں بابری مسجد میں مبینہ طور پر رام للا کے ظہور کے بعد حکومت اتر پردیش نے بابری مسجد کو دفعہ ۱۴۵ کے تحت اپنے قبضہ میں کرلیا تھا جس کے خلاف اس وقت جمعیۃ علماء اتر پردیش کے نائب صدر مولانا سید نصیرالدین فیض آبادی اور جنرل سیکریٹری مولانا محمد قاسم شاہجاں پوری نے فیض آباد کی عدالت سے رجوع کیا تھا جس کا تصفیہ ۳۰ ستمبر ۲۰۱۰ءکو الہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعہ ملکیت کو تین حصوں میں تقسیم کرکے دیا گیاتھا ۔متذکرہ فیصلے کے خلاف جمعیۃ علماء نے سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی جس پر جمعرات کو سماعت عمل میں آئے گی ۔
اس معاملے میں جمعیۃ علماء ہند اول دن سے فریق ہے اور بابری مسجد کی شہادت کے بعد دائر مقدمہ میں جمعیۃ علماء اتر پردیش کے نائب صدر مولانا سید نصیرالدین فیض آبادی اور جنرل سیکریٹری مولانا محمد قاسم شاہجاں پوری نچلی عدالت میں فریق بنے تھے پھر ان کے انتقال کے بعد حافظ محمد صدیق (سیکریٹری جمعیۃ علماء اترپردیش) فریق بنے لیکن دوران سماعت ان کی رحلت کے بعد صدر جمعیۃ علماء اتر پردیش مولانا اشہد رشیدی فریق بنے جو عدالت عظمی میں زیر سماعت اپیل میں بطور فریق ہیں ۔
جمعیۃ علماء ہند نے صدر جمعیۃعلماء مولانا سیدارشد مدنی کی ہدایت پر ۳۰ ستمبر ۲۰۱۰ء کے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کو جس میں ا س نے ملکیت کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ دیا تھا کہ خلاف سب سے پہلے سپریم کورٹ سے رجوع کیا پھر اس کے بعد دیگر مسلم تنظیموں نے بطور فریق اپنی عرضداشتیں داخل کی تھیں

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ