سبریمالا مندر میں خواتین کے داخلہ پر پابندی غیر آئینی: سپریم کورٹ

نئی دہلی، 28 ستمبر ،ہ س:
سپریم کورٹ نے سبریمالا مندر میں غیر خواتین کے داخلے پرپابندی کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ اس معاملہ میں چار فیصلے سنائے گئے ہیں۔ یہ فیصلہ چار۔ایک کی اکثریت کا فیصلہ ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا نے اپنا اورجسٹس ایم این کھانولکر کے فیصلہ کو پڑھ کر سنایا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ خواتین کے ساتھ کافی وقت سے تفریق ہوتی رہی ہے۔ خواتین مردوں سے کم تر نہیں ہیں۔ ایک طرف ہم عورتوں کو دیوی کا روپ مانتے ہیں دوسری طرف ہم ان سے تفریق کرتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حیاتیاتی اور جسمانی وجوہات کی وجہ سے خواتین کے مذہبی عقائد کی آزادی کوختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ آئین کی دفعہ۔ 25 کے تحت ملے حقوق کے خلاف ہے۔ چیف جسٹس اور باقی تین ججوں نے خواتین کے داخلے پر پابندی کے خلاف فیصلہ سنایا۔ جسٹس اندوملہوترا نے باقی چار ججوں کے فیصلے سے الگ فیصلہ سنایا۔
گذشتہ01 اگست کو آئینی بینچ نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ اس معاملے پر سماعت کر رہی سپریم کورٹ کی آئینی بنچ میں چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس روہنٹن نریمن، جسٹس ایم کھانولکر، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس اندو ملہوترا شامل تھے۔
سماعت کے دوران اےمیکس کیوری کے رام مورتی نے کہا تھا کہ یہ مذہبی عقیدہ کا معاملہ ہے اور اسے کسی تحقیقات سے نہیں گزارا جا سکتا ہے۔ آئینی احکامات کا خوش اصلوبی کے ساتھ نفا ذ ہونا چاہیے۔ ریاست نہ تو مندر کے سیکولر معاملات میں مداخلت کرسکتا ہے اور نہ ہی مذہبی نقطہ نظر سے مداخلت کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس عدالت کے سامنے بڑی چیزوں کے بارے میں بات کرنی چاہئے،سبریمالا مندر میں خواتین کے داخلہ پر بحث نہیں کی جانی چاہیے۔ رام مورتی نے کہا تھا کہ ہم دفعہ ۔17 کی گہرائی جیسے چھوا چھوت وغیر میں نہیں جانا چاہتے۔
درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے کہا تھا کہ مندر میں ہریجنوں اور عورتوں کے داخلے کے لئے قانونی تجویز ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس عدالت نے دفعہ 15پربہت زیادہ فیصلہ نہیں دیا ہے۔ اندرا جے سنگھ نے کہاتھا کہ دفعہ۔ 15میں جنس اور مذہب یا صنف اور روایت کی بنیاد پر متعصب نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرین آف ہارمونیس کنسٹرکشن آئین کی پہلی دفعہ سے لے کر آخری دفعہ تک نافذ ہونا چاہیے۔ یہ صرف 14، 19 اور 21 پر لاگو نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے امریکہ کی مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک سیکورٹی گارڈ کے لئے 6 فٹ ہونے کی شرط کو مساوات کی بنیاد پر ختم کر دیا گیا ۔ خواہ وہ تفریق جنس کی بیناد پر نہیں تھی لیکن اس شرط کو خواتین کے لئے پورا کرنا مشکل تھا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی روایت جو دفعہ 14 اور 15 کی خلاف ورزی کرتی ہے اسے اس عدالت نے قبول نہیں کیا ہے۔ کسی بھی روایت پر حتمی فیصلہ عدالت ہی کرے گا۔ اس دلیل کا وکیل کے رادھا کرشنن نے مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم میں کسی نے نہیں کہا کہ جو ضروری ہوگا اس پر فیصلہ کریںگے۔
ادھر اس فیصلہ کے بعد تراون کور دیواسم بورڈ کے صدر اے پدم کمار نے کہا ہے کہ دوسرے مذہبی سربراہان سے حمایت ملنے کے بعد وہ اس فیصلہ کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کریںگے۔
واضح ہو کہ کیرالہ میں واقع سبریمالا مندر میں 10سے 50سال کی عمر کی خواتین کی مند ر میں داخلہ پر پابندی عائد تھی۔ اس کے لئے دلیل دی گئی تھی کہ اس عمر کی خواتین کوحیض آنے کی وجہ سے انہیں ناپاک مانا جاتا ہے۔ 2006میں جنسی برابری کو بنیاد بنا کر کئی خاتون وکیلوں نے مندر میں خواتین کے داخلہ پر پابندی کو چیلنج کرنے والی عرضی داخل کی تھی۔ اس کے بعد اس سلسلہ میں کئی اور درخواستیں دائر کی گئیں جس پر یہ فیصلہ آیا ہے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com