سوئس بینکوں میں ہندوستانیوں کا کتنا ہے کالا دھن ؟

راجیہ سبھا میں حکومت سے اپوزیشن کاسوال،سوئس بینکوں میں ہندوستانیوں کی جمع رقم میں 34فیصد کی کمی،وزیرخزانہ پیوش گوئل کا دعویٰ، ہنگامہ کے بعد کارروائی ملتوی

نئی دہلی، 24۔جولائی ،ہ س: سوئس بینکوں میں ہندوستانیوں کے کالے دھن کے بارے میں وزیر خزانہ پیوش گوئل کے جواب سے ناراض ترنمول کانگریس کے ارکان نے منگل کو راجیہ سبھا میں زوردار ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دو بجے تک کے لئے ملتوی کرنی پڑی ۔ترنمول کانگریس کے سکھیندو شیکھر رائے نے کہا کہ 1994سے لے کر 2018 تک مرکز کی مختلف حکومتوں نے الگ الگ چار معاہدے کئے ہیں۔کیا وزیر خزانہ یہ بتائیں گے کہ سوئس بینکوں میں ہندوستانیوں کا کتنا کالا دھن جمع ہے اور حکومت نے کتنے معاملات میں اب تک کارروائی کی ہے اور ہر شہری کے اکاو نٹ میں 15لاکھ روپے کی رقم کب تک جمع ہو جائے گی؟مسٹر گوئل نے کہا کہ لگتا ہے رکن پارلیمنٹ کے پاس حکومت سے زیادہ معلومات ہے ۔اگر رکن پارلیمنٹ یہ معلومات حکومت کو دیں تو ان معاملوں میں کارروائی کی جائے گی۔ ان کا اتنا کہتے ہی مسٹر رائے نے اس پر سخت احتجاج کیا اور کہا کہ ان پرالزام لگایا جا رہا ہے۔ترنمول کانگریس، کانگریس اور کچھ دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے ممبران نے بھی اس کی مخالفت کی۔ترنمول کے رکن چیئرکے قریب آکر کالا دھن واپس لانے کا مطالبہ کرنے لگے ۔چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ وزیر نے کسی پر الزام نہیں لگایا ہے اور اراکین اپنی جگہوں پر واپس جائیں اور وقفہ سوالات چلنے دیں۔ ان کی اپیل کا اثر نہ ہوتے دیکھ چیئرمین نے 12 بجکر 35 منٹ پر ایوان کی کارروائی دو بجے تک کے لئے ملتوی کر دی، جس کے بعد وقفہ سوالات پورا نہیں ہو سکا۔اس سے پہلے مسٹر گوئل نے شور شرابے میں کہا کہ حکومت کو سال 2014 سے لے کر 2018 تک سوئس بینکوں میں اکاونٹس کے بارے میں 4،843 ر رپور ٹیں ملی ہیں۔
قبل ازیں حکومت نے ہندوستانیوں کے سوئس بینکوں میں جمع رقم دوگنا ہونے سے متعلق میڈیا رپورٹوں کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے برخلاف گذشتہ سال ان بینکوں میں ہندوستانیوں کی جمع رقم اور قرض میں 34فیصد کی کمی آئی ہے ۔وزیرخزانہ پیوش گوئل نے انڈین لوک دل کے رام کمار کشیپ کے کالے دھن کے خلاف حکومت کی مہم کے پس منظر میں سوئس بینکوں میں ہندوستانی شہریوں کی جمع رقم کے بار ے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ بے بنیاد میڈیا رپورٹوں کی بنیاد پر عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے کہ سوئس بینکوں میں ہندوستانیوں کی جمع رقم دو گنا ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سوئس افسران نے ان رپورٹوں کے بارے میں تحریری جواب بھیجا ہے اور کہا ہے کہ ان میں اعدادو شمار کا غلط حساب پیش کیا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سوئس افسران نے کہا ہے کہ ہندوستانی شہریوں کی سوئس مالیاتی اداروں میں جمع رقم کے بارے میں سوئس نیشنل بینک کے ذریعہ شائع اعدادو شمار کا ہندوستانی میڈیا میں باقاعدہ معتبر اشاروں کے طورپر ذکر کیا جاتا ہے ۔ بالعموم ان میڈیا رپورٹوں میں ان طریقوں پر توجہ نہیں دی جاتی جن کی بنیاد پر اعدادو شمار کی تشریح کی جاتی ہے اس کا نتیجہ گمراہ کن ہیڈ لائن اور تشریح کی شکل میں سامنے آتا ہے ۔ اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہندوستانی شہریوں کی وہاں جمع رقم اور جائیداد غیر اعلانیہ ہے جسے مبینہ کالا دھن کہا جاتا ہے ۔مسٹر گوئل نے بتایا کہ سوئس افسران نے یہ بھی کہا ہے کہ سوئٹزر لینڈ میں ہندوستانی شہریوں کی جمع رقم کا تجزیہ کرنے کے لئے اعدادو شمار کا تجزیہ کرنے کے لئے ایک دیگر ذرائع کا استعمال کیا جانا چاہئے جسے لوکیشنل بینکنگ اسٹاٹسٹکس کہا جاتا ہے ۔ سوئس نیشنل بینک ان اعدادو شمار کو بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے تعاون سے جمع کرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹ کے تعاون سے سوئس نیشنل بینک کے ذریعہ یکجا اعدادو شمار سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سال2017میں سوئس بینکوں کے علاوہ دیگر ہندوستانی کمپنیوں یا افراد کے ذریعہ سوئس بینکوں میں جمع رقم اور دیگر قرض 2016 کے مقابلے میں 34.5 فیصد کی کمی آئی ہے ۔ اس کے علاوہ سال 2013 اور 2017 کے درمیان ہندوستانیوں کے سوئس غیر بینک قرضوں اور جمع رقم میں 80.2 فیصد تک کی کمی آئی ہے ۔مسٹر گوئل نے کہا کہ حکومت نے کالے دھن پر روک لگانے کے لئے ایک کے بعد ایک کئی قدم اٹھائے ہیں اوران کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوئس افسران نے وہاں کے بینکوں میں جمع ہندوستانیوں کی رقم کے بارے میں 4843 معلومات دی ہیں اور ان کی بنیاد پر سخت کارروائی کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ جنوری کو سوئٹزرلینڈ کے ساتھ ایک معاہدہ پر دستخط کئے گئے ہیں جس کے تحت وہاں ہندوستانیوں کے ذریعہ کی جانے والی کسی بھی لین دین کی معلومات خود بخود ہندوستان کو ملتی رہے گی۔ اس کے تحت2019 سے ایسے لین دین کے بارے میں معلومات ملنی شروع ہوجائے گی۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ