سپریم کورٹ کے فیصلے پر نگاہیں،کل طے ہوگا نماز کےلئے مسجد ضروری ہے یا نہیں

لکھنو، 26ستمبر ۔ہ س: ملک کی سیاسی سمت بدل دینے والے اجودھیا کے مندر مسجد مقدمے کے دوران نماز کے لئے مسجد کی ضرورت پر اٹھے تنازعہ کے سلسلے میں آئندہ جمعہ کو سپریم کورٹ سے آنے والے فیصلے پر لوگوں کی نگاہیں لگی ہوئی ہیں۔
اس فیصلے کے ذریعہ طے ہو گا کہ مسجد میں ہی نماز پڑھنا ضروری ہے یا نہیں۔ اس فیصلے سے حالانکہ تنازعہ کے ملکیت والے اصل مقدمے پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، لیکن قانونی ماہرین کی مانیں تو فریق اپنے طریقے سے ما لکانا حق کو لے کر چل رہے اصل مقدمے میں اپنا موقف مضبوط کرنے کے لیے اس کا استعمال کریںگے۔
معاملہ میں 1994 کے دوران سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران نماز کے لئے مسجد ضروری ہے یا نہیں موضوع اٹھا تھا، جس پر اسماعیل فاروقی نے عرضی دائر کی تھی۔ درخواست پر 28 ستمبر کوفیصلہ آنا ہے۔
معاملہ میں فریق سنی سینٹرل وقف بورڈ کے وکیل اور بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ظفریاب جیلانی نے ہندوستھان سماچار کو بتایا کہ 28 ستمبر کو آنے والے فیصلے کا اصل مقدمے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، لیکن وہ تسلیم کرتے ہیں کہ جنہیں قانون کی معلومات نہیں وہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ فیصلہ حقیقی مقدمے پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ درخواست مسجد کے لئے ضروری ہے یا نہیں ، اس موضوع پر مرکوز ہے۔ جیلانی نے کہا کہ تین ججوں کی بینچ اس معاملہ پرسماعت کر رہی ہے۔
ادھر، معاملے میں ایک دیگر فریق دھرمداس کے مطابق 28 ستمبر کو آنے والا فیصلہ براہ راست تو مقدمے کو متاثر نہیں کرے گا لیکن اس کے فریق مقدمے میں اسے اپنے حساب سے رکھیں گے۔ قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے اس سلسلے میںگذشتہ 20 جولائی کوسماعت کر فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com