سیٹ تقسیم کے معاملے میں جے ڈی یورہے گی سخت

نئی دہلی،08۔جولائی،ہ س:با عزت سمجھوتہ ہوا تو ٹھیک ورنہ کچھ سیٹوں پر پیار ،باقی پر تقرار،نہیں تو انکار کی پالیسی پر چلے گی جے ڈی یو۔ اس میں کہیں بھی اسرار کی پالیسی نہیں رہے گی ۔ جے ڈی یو صدر اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ایک قریبی لیڈر کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ صدر ایک حد سے زیادہ نرم ہونے والے نہیں ہیں ۔ انہوںنے اس کے لئے سوچ لیا ہے کہ کیا کرنا ہے ۔ اس پر تقریبا تمام پراعتماد لوگوں سے بات بھی انہوں نے کر لیا ہے ۔ پارٹی مجلس عاملہ کے اہم لیڈروں سے بھی رائے لے کر بات کر لیا گیا ہے ۔ اس معمالے میں جے ڈی یو کے سینئر لیڈر کے سی تیاگی کا کہنا ہے کہ قربانی کی ساری ذمہ داری جے ڈی یو کی نہیں ہے ۔ معاونپارٹی کا دل بھی بڑا ہونا چاہئے۔ بہار جے ڈی یو کے صدر وششٹھ دادا کا کہنا ہے کہ اتحاد میں ایک دوسرے کے وقار کا خیال رکھا جاتا ہے ۔ جے دی یو نے اب تک اپنی طرف سے کچھ بھی ایسا نہیں کیا ہے جس سے موجودہ معاون پارٹی والے ساتھی الزام لگائیں۔ ہمیں امید ہے کہ معاون پارٹی اس کے جذبے کا احترام کرے گی اور اتحاد کے وقار کو بھی بر قرار رکھے گی ۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کو جے ڈی یو مجلس عاملہ کی میٹنگ میں جو اشارے ملے ہیں اس سے لگ رہا ہے کہ نتیش قطعی جھکنے والے نہیں ہیں۔ کیونکہ ان کو یہ محسوس ہو گیا ہے کہ آنے والے لوک سبھا اور اسمبلی الیکشن میں جے ڈی یو اتحاد عالی اہم پارٹی بی جے پی ،سوچی سمجھی پالیسی کے تحت کم سیٹیں دینے کی کوشش کرے گی ۔ تاکہ کم سیٹیں ملنے پر جے ڈی یو سیٹیں ہی کم ہی جیت سکے۔ تب وزیر اعلیٰ کے عہدے اس سے خود بخود چھن جائے گا۔ کیونکہ مودی شاہ والی بی جے پی تو جے ڈی یو کو بہار میں اپنا اہم معاون پارٹی مان رہی ہے ۔اس سلسلے میں جے ڈی یو کے ایک رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ بی جے پی بہت ہی باریکی سےبہار میں جے ڈی یو اور نتیش کو کنارے لگانے کی پالیسی پر چل رہی ہے ۔ کیونکہ اس کا آخری ہدف بہار پر اکیلے اقتدار کا ہے ۔ اس بات کو نتیش کمار بھی سمجھ چکے ہیں اس لئے آپسی میٹنگ میں اپنے قابل اعتماد لوگوں سے کہا ہے کہ بی جے پی کے ذریعہ جے ڈی یو کے ساتھ یہ رویہ بر داشت نہیں کیا جائے گااور 12جولائی 2018کو پٹنہ میں بی جے پی صدر امت شاہ سے ملاقات کے دوران یہ کہہ بھی دیا جائے گا۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ