طارق انور کو کانگریس سے جنرل سکریٹری کے عہدے کی پیشکش

کانگریس کے ٹکٹ پر لڑیں گے الیکشن ، یو پی اے کاحمایت کا اعلان

نئی دہلی،29ستمبر(ہ س)۔
ایسے وقت میں جب کانگریس اور متعدد اپوزیشن کے لیڈروں نے رافیل سودہ معاملے میں وزیر اعظم نریندر مودی اور گجراتی صنعت کار انل امبانی کو شواہد سمیت گھیرنا شروع کر دیا ہے تب اس معاملے میں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے صدر شرد پوار نے وزیرا عظم نریندر مودی کو کلین چٹ دے کر نہ صرف مودی کو بلکہ اپنے قابل اعتماد صنعت کار انل امبانی کو تو بچانے کا کام کیا ہی ہے کانگریس کے مودی مخالف مہم کو بھی دھچکا لگانے کا کامی کیا ہے ۔ پوار کے اس قدم سے ان کے ساتھی اس قدر ناراض ہوئے کہ کٹیہار (بہار) کے رکن پارلیمنٹ طارق انور نے تو نہ صرف پارٹی کی رکنیت بلکہ لوک سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا ۔ حالانکہ ایسا کر کے طارق اور پوار دونوں نے دور کی گوٹی کھیلی ہے ۔ پوار ایک طرف یہ کر کے مودی اور انل امبانی کو مدد کررہے ہیں تو دوسری طرف کانگریس سے پھر اتحاد کر کے الیکشن لڑنے کی بھی بات کر رہے ہیں ۔ ساتھ ہی یہ بھی چاہتے ہیں کہ کانگریس ان کوفی الحال غیر اعلانیہ طور پر وزیر اعظم کے عہدے کا امیدار مان لے۔اس طرح پوار اپنی پانچوں انگلی گھی میں رکھنا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب یہ بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ طارق انور اب کانگریس جوائن کر سکتے ہیں۔کانگریس کے ایک سابق رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ طارق انور کی کانگریس صدر راہل گاندھی سے کئی بار ملاقات ہو چکی ہے ۔ ی وپی اے چیئر پرسن سونیا گاندھی سے بھی ان کی ملاقات ہوئی تھی۔دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اگر وہ واپس کانگریس میں آتے ہیں تو ان کوجنرل سکریٹری کا عہدہ ملنا پکا ہے ۔ پہلے بھی وہ یوتھ کانگریس کے صدر ،1980میں بہار کانگریس کے صدر رہ چکے ہیں ۔ جب کانگریس صدر سیتا رامکیسری تھے طارق انور ان کے سیاسی صلاح کار بھی رہ چکے ہیں ۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سیاست میں طارق انور سیتا رام کیسری کی ہی تلاش کہے جاتے ہیں ۔کہا جا رہا ہے کہ کانگریس ان کو کٹیہار سے ٹکٹ بھی دے دیگی ۔ اور ان کو یو پی اے کی حمایت بھی حاصل ہوگی۔بتایا جا رہا ہے کہ ان کے استعفیٰ کا اثر کٹہیار میں خاص طور سے مسلم حلقے میں اچھا پیغام گیا ہے ۔ اس لئے 2019کے لوک سبھا الیکشن میں طارق انور کو 2014سے بھی زیادہ ووٹ ملنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com