عرباض عرضی حافظ آباد، پاکستان کا سوہنا شاعر اور اس کی عرضیات

مضمون و انتخاب :    اہتمام صادق

عرباض عرضی نو عمر شعرا کی فہرست کا ایک ایسا نام ہے جس کے بغیر یہ فہرست مکمل نہیں ہو سکتی. عرباض عرضی کی پیدائش 9 دسمبر 1997 میں حافظ آباد، پاکستان میں ہوئی، ابتدائی تعلیم حافظ آباد کے ہی گورنمنٹ اسکول سے حاصل کی اور پھر اعلی تعلیم کے لئے پنجاب یونیورسٹی، لاہور کا رخ کیا اور وہاں سے پیٹرولیم میں انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی. ابتدا ہی سے عرباض عرضی کو شاعری یا دوسرے لفظوں میں اردو ادب سے شغف رہا جس کے چلتے انہوں نے 2016ء میں باقاعدہ شاعری کی ابتدا کی اور دیکھتے دیکھتے یہ نام افقِ ادب پر ایک ایسے ستارے کی مانند چمکنے لگا جس کی تابناکی میں ہر ایک لمحہ ایک نئی کرن کا اضافہ ہوتا ہے. 2018ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ “دوبارہ،، کے نام سے شائع ہوا. ان کی شاعری کے مطالعے سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ شاعری کے ساتھ ساتھ رومان میں بھی جدت کے قائل ہیں. مثلاً یہ شعر..
جیسا کہتا ہوں ویسے کرتی ہے
اس کو پٹی پڑھا کے رکھتا ہوں
اس کے علاوہ عرباض کی شاعری میں جہاں غم کی زیریں لہریں موجود ہیں وہیں انا کی بھی ہلکی سی جھلک ہمیں نظر آ جاتی ہے. مثلاً یہ شعر..
تو اگر شوق سے آتی ہے تو آ، بسم اللہ
میں تو اب لوٹ کے آنے سے رہا، جا چلی جا
یہی نہیں کہ عرباض کی شاعری صرف داخلیت پر مبنی ہے بلکہ خارجیت کا رنگ بھی مساوی طور پر ہمیں نظر آتا ہے. مثلاً دو چند اشعار..
اس نے اس درجہ اذیت سے پکارا ہے مجھے
جیسے لیلیٰ نے پکارا ہو کہ، ہائے مجنوں
زندگی ختم کب ہوئی اے دوست
روز و شب کا شمار ختم ہوا
عرباض عرضی کا شعری آہنگ جدید سہی مگر ان کی شاعری میں جا بہ جا کلاسیکیت کا رنگ جھلکتا ہے. مثلاً یہ شعر..
اس نے مذاق میں یونہی کافر کہا مجھے
پھر مفتیانِ عشق نے فتوے لگائے خوب
علاوہ ازیں عرباض کی شاعری زندگی کی ناہمواریوں اور ہجر و وصال کی گوناگوں کیفیات کا مرقع بھی ہے. مثلاً یہ اشعار..
پورے ناٹک میں مجھے رول فقط اتنا ملا
شور کرنا تھا تماشے سے نکل آنا تھا
مجھ کو قسمت جھکا گئی ورنہ
آدمی بے شمار تھا میں بھی
ہم ہی بندے خراب ہیں یا پھر
ساری دنیا خراب ہے سائیں
عرباض عرضی کی شاعری میں وہ تمام کیفیات خوبصورت پیرائے میں موجود ہیں جو عموماً اولادِ آدم کی زندگی کا خاصہ ہیں اور جس کے سبب ان کی شاعری ہر دل کو اپنی ہی دھڑکن محسوس ہوتی ہے..
عرباض عرضی کے کلام سے چند منتخب غزلیں اور شعری متفرقات…

غزلیں

سرخ آنچل کا لبِ لال کا منظر کھینچوں
ماہ رنگین ترے گال کا منظر کھینچوں
پھر یہ دل چاہے کہ ہم فطری لباسوں میں ملیں
اور میں تیرے خد و حال کا منظر کھینچوں
اس جوانی سے نکھاروں تری دوشیزگی کو
تیرے جانے پہ تری چال کا منظر کھینچوں
تیری آنکھوں سے ترے گال پہ بہتا کاجل
کیسے مکھن پہ گرے بال کا منظر کھینچوں
تیری آواز کو میں جسم لگا  کر دیکھوں
فون پہ آئی ہوئی کال کا منظر کھینچوں
ع.ع

جس کی فطرت ہے کہ جاتے ہوئے، تنہا جانا
ٰاس کی ہمراہی میں جانا ہے، تو پھر کیا جانا
جس طرح آتی ہے بچے کی شکایت گھر میں
تم کسی روز اچانک، مرے گھر آ جانا
دل بھی اصرار سے کہتا ہے کہ، رک جا، رک جا
اس کی بھی رٹ ہے یہی، مجھ کو ہے، جانا جانا
اب اندھیروں کی ردا اوڑھ کے چلنا عرضی
دن کی پھیلی ہوئی کرنوں سے نہ ٹکرا جانا
ع.ع

اصولوں سے کنارہ کیجئے گا
محبت جب دوبارہ کیجئے گا
محبت جب دوبارہ کیجئے گا
تو پہلے استخارہ کیجئے گا
وفا میں آپ بھی لٹ جائیے گا
ہمیں بھی بے سہارا کیجئے گا
ہمیں مقتل میں لا کر دیکھیے گا
کٹے سر کا نظارہ کیجئے گا
میں اپنی جاں ہتھیلی پر لیے ہوں
مجھے بس اک اشارہ کیجئے گا
کیا اک بار جس سے پیار ہم نے
وہ کہتی ھے دوبارہ کیجئے گا
ع.ع

بار ہا تجھ کو منانے سے رہا، جا چلی جا
دل ترے ناز اٹھانے سے رہا، جا چلی جا
اپنے ہی شوق سے آتی ہے تو آ، بسم اللہ
میں تو اب لوٹ کے آنے سے رہا، جا چلی جا
جان کہتا تھا تو آتا تھا ترے ماتھے پہ بَل
اب تجھے جان بلانے سے رہا، جا چلی جا
اتنا بدنام ہوا تیرے لیے دنیا میں
اب تو میں نام کمانے سے رہا، جا چلی جا
جو غزل تجھ پہ کہی تھی وہ جلا دی میں نے
اب تجھے شعر سنانے سے رہا، جا چلی جا
سر کو غالب کی طرح سنگ سے پھوڑا عرضی
سر ترے در پہ جھکانے سے رہا، جا چلی جا
ع.ع

ہار اشکوں کا پرونا ہے یہی رونا ہے
یہ جو ہر وقت کا رونا ہے یہی رونا ہے
رات بھر جاگ کے اک بُن تو لیا میں نے خواب
اب اسی خواب میں سونا ہے یہی رونا ہے
تم تو اشکوں سے کیے پھرتی ہو رخسار کو تر
اور مجھے فرش بھگونا ہے یہی رونا ہے
جن کو کرنی تھی محبت کیا انہی لوگوں نے
بیج نفرت کا ہی بونا ہے یہی رونا ہے
ضبط کی بات کسی کو نہیں آتی عرباض
ہر کوئی ظرف کا بونا ہے یہی رونا ہے
ع.ع

ہو نہیں سکتے، پر ہوتے ہیں، دیکھے گئے ہیں
بند گلی میں در ہوتے ہیں، دیکھے گئے ہیں
میرے داد جان بتاتے تھے کہ ڈاکو
کچے رستوں پر ہوتے ہیں، دیکھے گئے ہیں
ان کے اندر گہری ضربیں ہو سکتی ہیں
جن کے چہرے تر ہوتے ہیں، دیکھے گئے ہیں
ساس بہو نے بانٹ رکھا ہے گھر کا چولہا
گھر کے اندر گھر ہوتے ہیں، دیکھے گئے ہیں
باہر سے تو ایک ہی سر ہے بس فطری سر
سر کے اندر سر ہوتے ہیں، دیکھے گئے ہیں
ع.ع

خوابوں میں شور سا ہے تمنائے دل لیے
پھر سانس رک گیا ہے تمنائے دل لیے
ڈوبا ہے کس خیال میں کچھ تو بتا ہمیں
ساحل پہ کیوں کھڑا ہے تمنائے دل لیے
اس آدمی کو بھی کوئی دکھ تو ضرور ہے
واپس جو جارہا ہے تمنائے دل لیے
دیکھاجو اس نے مجھ کو تو آنکھیں ہی جھک گئیں
پردہ سا گر گیا ہے تمنائے دل لیے
آنکھوں میں اشکِ دل کی روانی کو دیکھیے
اک عشق ڈوبتا ہے تمنائے دل لیے
اب روشنی کی دل کو ضرورت نہیں رہی
شعلہ سا بجھ گیا ہے تمنائے دل لیے
عرباض بھی تو ٹوٹا ہے اک خواب کی طرح
آنکھوں کو مَل رہا ہے تمنائے دل لیے
ع.ع

کون کہتا ہے فقط زر سے الٹ سکتی ہے
تیری دستار مرے ڈر سے الٹ سکتی ہے
ساری دنیا بھی جو بن جائے یزیدی لشکر
یہ سپاہ صرف بَہتر سے الٹ سکتی ہے
موسی فرعون کے گھر آکے پلے ہیں جیسے
تیری فرعونی ترے گھر سے الٹ سکتی ہے
تند رو موج سے بچ بچ کے نکلنے والے
تیری کشتی کبھی اندر سے الٹ سے سکتی ہے
ٹوکری ایسے بھری ہے کہ نہیں گنجائش
اب تو یہ ایک گلِ تر سے الٹ سکتی ہے
ع.ع

کس نے کھولے ہیں بال پانی میں
ہو رہا ہے دھمال پانی میں
جامِ شیریں سے منہ کروں میٹھا
لب وہ گھولے ہے لال پانی میں
چاند تالاب میں اتر آیا
ہو گیا ہے کمال پانی میں
مثلِ ماہی پھنسا ہوا ہے دل
کس نے پھینکا ہے جال پانی میں
ہم بھی چیکے سے جا ملے اس سے
سو رہا تھا ملال پانی میں
تو تو تیراک ہے بڑا عرضی
اپنے دل کو سنبھال پانی میں
ع.ع

پت جھڑوں کا اثر نہیں مرتا
ہم نے مانا شجر نہیں مرتا
کھو گئی ہے کہیں جوانی بھی
عشق ہونے کا ڈر نہیں مرتا
سیکھ لوں گا ہنر محبت کا
سوچتا ہوں ہنر نہیں مرتا
دل کے بے چینی مارتی ہے مجھے
میں تجھے دیکھ کر نہیں مرتا
مرتا ہے عشق کے بنا جو بھی
پھر وہ بارِ دگر نہیں مرتا
وہ ترے ساتھ رہ کے مر جائے
جو تری چال پر نہیں مرتا
مر گئے دونوں ملنے والے تو
یہ بچھڑنے کا ڈر نہیں مرتا
دردِ سر سے ہی میں نے مرنا ہے
اس لیے دردِ سر نہیں مرتا
ع.ع

متفرقات

کچھ شعر غم ہجر سے پہلے بھی ہوئے تھے
اک شخص مجھے عشق سے پہلے بھی ملا
ع.ع
تم مرا عشق ہو پر ہو تو یہودی لڑکی
میں تمہیں لے کے مدینے بھی نہیں جاسکتا
ع.ع
ہم جو آئے ہیں روبرو اس کے
آئینے پہ زوال طاری ہے
ع.ع
دشمن کو یہ امید تھی میں زندہ رہوں گا
یاروں نے کہانی میں مجھے مار دیا تھا
ع.ع
کہیں ہم چاند پر نہ ہونٹ رکھ دیں
ترے رخسار کے دھوکے میں آ کر
ع.ع
اک نئے یار کی صورت میں الجھ بیٹھا ہوں
تیسری بار محبت میں الجھ بیٹھا ہوں
ع.ع
اک محبت نے گرایا ہے تو اٹھنے کے لئے
میں کسی اور محبت کا سہارا لے لوں
ع.ع