علی گڑھ : برہمنوں نے دلتوں پر ڈھایا قہر،جے سی بی لگا کر کئے متعدد مکانات منہدم

علی گڑھ،25۔مارچ، ہ س: تھانہ لودھا کے تحت واقع نگلہ دان سہائے میں اس وقت کھلبلی و چیخ پکار سے علاقہ میں کہرام مچ گیا جب علاقہ کے کچھ شدت پسند عناعر نے گاوں کی دلت بستی میں داخل ہوکر تقریباً ڈھائی درجن مکانوں کو جے سی بی مشین لگا کر گرانا شروع کر دیا۔ لوگوں کا الزام ہے کہ وہ برہمن برادری سے ہیں، جو بھی انہیں روکنے کی کوشش میں سامنے آیا اس کو گالیاں دے کر اور غیر قانونی اسلحہ دکھا کر بھگا دیا گیا۔ اس دوران مظلوم مدد کے لئے چیختے رہے لیکن کوئی ان کی مدد کے لئے آگے نہیں آیا۔ یہ پورا معاملہ دو روز قبل کا ہے لیکن اس سلسلے میں دلتوں کی آواز سننے والا کوئی نہیں ہے اور اب بھی دلت طبقہ سہما ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق اعلیٰ ذات کے لوگوں کے ظلم کے شکار مجبور اور بے سہارا دلت اپنی مدد کے لئے بے یار و مددگار ادھر ادھر بھٹکتے رہے لیکن کوئی مدد کہیں سے نہیں ملی تو 100 نمبر پر بھی فون کیا گیا تاکہ پولس ان کی حفاظت کرے، لیکن یوگی حکومت میں محافظوں نے بھی ان کی پکار نہیں سنی اور مدد کے لئے تھانہ سے کوئی نہیں پہنچا۔ دیر شام گاوں کے مظلومین میں سے کچھ افراد مع خواتین بچوں کے ساتھ سابق ممبر اسمبلی اور بی ایس پی لیڈرحاجی ضمیراللہ سے ملے۔ وہ سبھی کو لے کرضلع مجسٹریٹ کے پاس پہنچے اور ان سے ملاقات کر کے پوری روداد بیان کی ۔ وہاں سے دلتوں کو انصاف دلانے اور مکانات توڑنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔
نگلہ دان سہائے کے رہنے والے ونود کمار ولد رام سنگھ اور رمیش چند نے اس پورے معاملے میں ’قومی آواز‘ سے بات چیت کے دوران بتایا کہ ”صبح قریب 10بجے سچن پاٹھک اپنے دیگر ساتھیوں وپن پاٹھک، ونود کمار، چندر بھان شرما، رام پرکاش شرما، کنچھی لال شرما، راج ویر شرما، منوج شرما، جگدیش شرما، شرون کمار گپتا و دیگر 25 سے 30 افراد کے ساتھ جے سی بی مشین لے کر آئے اور کہنے لگے کہ اب سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی آ گیا ہے، اب کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اب ان دھیڑوں کو ہی دیکھ لیں انہوں نے بہت ناک میں دم کیا ہوا تھا۔“ انھوں نے مزید بتایا کہ ”خوب ہنگامہ مچانے کے بعد ان سبھی نے جے سی بی مشین سے ہمارے مکانوں کو گرانا شروع کر دیا۔ کسی طرح گھروں میں رہ رہے بچے اور عورتیں اپنی جان بچا کر وہاں سے بھاگ کر باہر آئے۔“دلت طبقہ کی خواتین و مرد کے ساتھ بی ایس پی لیڈر حاجی ضمیر اللہ ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات کے بعددلت طبقہ کے مظلوم رمیش کا کہنا ہے کہ ”مدد کے لئے پولس کو بھی فون کیا لیکن کوئی نہیں آیا۔ ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات کے لئے سابق ایم ایل اے کے ساتھ گئے اور ان کو پوری بات بتائی۔“ رمیش نے مزید بتایا کہ ”لوگ اپنے گاوں جانے سے بچ رہے ہیں کیوںکہ انہیں اپنی جان کا خطرہ ستائے ہوئے ہے۔“ اس پورے معاملے کی تحقیقات کے لیے ضلع مجسٹریٹ نے اے ڈی ایم کول کو تعینات کیا ہے۔ اس درمیان ایس ڈی ایم کول سے فون پر بات کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ملی۔ کوئی بھی اعلیٰ افسر اس پورے معاملہ میں کچھ بھی کہنے سے بچ رہا ہے۔غور طلب ہے کہ اتنی بڑی واردات آخر کس افسر یا سیاسی لیڈر کے اشارے پر ہوئی اور آخر دلتوں کے ہی مکانوں کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ پورے معاملہ کی تفصیل جانچ ہونے کے بعد ہی سامنے آ سکے گی۔ واقعہ کے بعد سے آس پاس کے گاوں میں رہنے والے دلت خاندانوں میں خوف کا ماحول بنا ہوا ہے اور وہ کسی انہونی واقعہ کے ہونے سے گھبرائے ہوئے ہیں۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com