مایاوتی کی خواہشوں کو پورا کرنا اکھلیش کےلئے بڑا چیلنج

لکھنو،22ستمبر،ہ س:سماجوادی پارٹی ( ایس پی) اور بہوجن سماج پارٹی ( بی ایس پی) کے مجوزہ اتحاد کی قیاس آرائیوں کے درمیان مایاوتی کی بہت زیادہ خواہشیں ہی اب اکھلیش یادو کے لئے چیلنج بنتی جارہی ہیں۔
بی ایس پی صدر مایاوتی کی خواہشوں کو دیکھتے ہوئے اتحاد ہونے یا نہیں ہونے کو لے کر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ سیاسی حلقوں میں اب لاکھ ٹکے کا سوال بن گیا ہے کہ مایاوتی ایس پی کے ساتھ اتحاد کریں گی یا نہیں۔ ادھر ایس پی صدر ہر حال میں اتحاد کےلئے راضی ہیں۔ وہ مایاوتی کی ہر شرط ماننے کو تیار دکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ وہ بی ایس پی سے اتحاد کریں گے چاہے انہیں کم سیٹوں پر ہی کیوں نہ لڑنا پڑے۔ ایس پی کے لوگ مایاوتی کی طرف امید بھری نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ دوسری طرف بی ایس پی سپریمو اپنے پتے ہی نہیں کھول رہی ہیں۔ لوک سبھا کے گزشتہ الیکشن میں ایک بھی سیٹ نہیں جیتنے والی بی ایس پی کی صدر مایاوتی اس مرتبہ کافی پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہیں۔وہ2019ہی نہیں2022کے لئے بھی خود اور اپنی پارٹی کو تیار رکھنا چاہتی ہیں۔ 2022میں اترپردیش اسمبلی کا الیکشن ہونا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار راجندر سنگھ کہتے ہیں کہ مایاوتی بی جے پی اور کانگریس سے الگ بننے والے مورچہ کی لیڈر بھی بننا چاہتی ہیں۔ اس کےلئے وہ لوک سبھا کی زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیتنا چاہتی ہیں۔اس لئے انہوں نے چھتیس گڑھ میں اجیت جوگی کی پارٹی جنتا کانگریس چھتیس گڑھ ( جے) اور ہریانہ میں انڈین نیشنل لوک دل ( آئی این ایل) سے سمجھوتہ کیا ہے۔ ان کے من میں وزیراعظم بننے کا ارادہ پنپ رہا ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ بی ایس پی صدر نے چوٹالہ اور جوگی کی پارٹی سے سمجھوتہ کرکے ایک تیر سے کئی نشانے لگائے ہیں۔ ان سمجھوتوں سے وہ اکھلیش یادو پر ذہنی دباو بنا کر انہیں اپنی شرطوں پر اتحاد کےلئے مجبور کرنا چاہتی ہیں۔ ایس پی صدر کے سامنے ان کے چچا اور نو تشکیل سماجوادی سیکولر مورچہ کے سربراہ اکھلیش یادو بھی سیاسی مسئلہ بنتے دکھ رہے ہیں۔ سیکولر مورچہ میں22سے زیادہ چھوٹی چھوٹی پارٹیاں شامل ہوچکی ہیں۔ الیکشن میں مورچہ کے زیادہ تر امیدوار یادو اور مسلم بنائے جاسکتے ہیں۔ عام طور پر یادو اور مسلم ہی ایس پی کے ووٹر مانے جاتے ہیں۔
ایس پی صدر کے نزدیکی بھی مانتے ہیں کہ مایاوتی کی خواہشوں اور شیوپال سے مل رہے چیلنج کو دیکھتے ہوئے یہ کہاجاسکتا ہے کہ لوک سبھا الیکشن اکھلیش یادو کے لئے ایک بڑے امتحان سے کم نہیں ہے۔ یہی امتحان 2022میںبھی ان کے اور ان کی پارٹی کے لئے فیصلہ کن ثابت ہوگا۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com