مدرسہ کے ٹیچروں کی رکی ہوئی تنخواہ کےلئے 358کروڑ منظور

مدرسہ مارڈنائزیشن اسکیم کے تحت تقریباً ڈھائی سالوں سے ملک بھرکے تیس ہزار ٹیچروں کو نہیں مل رہی تھی تنخواہ

نئی دہلی،27ستمبر،ہ س:
مرکزی وزارت انسانی وسائل اور فلاح و بہبود کے ذریعہ ملک بھر کے مدرسوں میں تعینات تقریباً تیس ہزار اساتذہ کو گزشتہ 28سالوں سے تنخواہ نہ ملنے کامعاملہ حل ہو گیا ہے ۔وزارت نے اس کے لئے 358کروڑ روپے کی منظوری دے دی ہے ۔جلد ہی مدرسوں کے اساتذہ کو ان کی رکی ہوئی تنخواہیں منلنی شروع ہو جائے گی۔ یہ اطلاع اسلامی مدرسہ ماڈرنائزیشن ٹیچرس ایسو سی ایشن آف انڈیا کے صدر اعجاز احمد نے دی ہے ۔
معلوم ہو کہ ملک بھر کے مدرسوںمیں جہاں پر مرکزی حکومت کے وزارت انسانی وسائل و فلاح و بہبود کی طرف سے مدرسہ مارڈنائزیشن اسکیم کے تحت ٹیچر مہیا کرایا گیا ہے انہیں گزشتہ ڈھائی سالوں سے تنخواہ نہیںمل پا رہی ہے ۔اس کی وجہ سے مدرسوں میں تعینات ٹیچر مالی پریشانی سے گزر رہے تھے ۔اور مدرسہ ٹیچروں کا گزر بسر کرنا مشکل ہو گیاتھا۔گزشتہ پانچ ستمبر یوم اساتذہ کے دن دہلی کے جنتر منتر پر ٹیچروں نے اپنے حق کے لئے احتجاج کیا تھا ۔ٹیچروں کے وفد نے قومی اقلیتی کمیشن کے چیئر مین سید غیورالحسن رضوی سے بھی ملاقات کر کے انہیںایک عرضداشت پیش کیا تھا۔اس کے علاوہ ٹیچروں نے وزیرا عظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر انسانی وسائل و فلاح بہبود پرکاش جاوڈیکر کو بھی ایک عرضداشت پیش کر کے انہیں تنخواہیں دینے کی گزارش کی تھی ۔
ایسو سی ایشن کے صدر اعجاز احمد نے بتایا کہ انہیں جو اطلاع ملی ہے اس کے مطابق حکومت نے مدرسوں کے اساتذہ کے لئے 358کروڑ روپے کو منظوری دے دی ہے۔انہوں نے بتایا کہ بہت جلد مدرسوں کے اساتذہ کو تنخواہیںملنی شروع ہو جائیں گی۔انہوں نے اس کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی ،اور مرکزی وزیر انسانی وسائل و فلاح بہبود کا شکریہ ادا کیا ہے۔انہوں نے میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا ہے ۔کیونکہ میڈیا نے ان کے احتجاج کو حکومت تک پہنچانے میں اہم رول ادا کیا تھا۔ ملک بھر میں حکومت مدرسہ مارڈنائزیشن اسکیم کے تحت تقریباً تیس ہزار اساتذہ کام کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے جو 358کروڑ روپے پاس کیا گیاہے وہ محض ایک سال کی تنخواہ دینے میں صرف ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مدرسہ اساتذہ کی ڈھائی سال کی تنخواہ کو ادا کرنے کے لئے تقریباً بارہ سو کروڑ روپے کی ضرورت ہے ۔اس لئے حکومت کو سبھی مدرسوں کے اساتذہ کیڈھائی سال کی رکی ہوئی تنخواہ جاریکرنے کے لئے تقریباً بارہ سو کروڑ روپے کی منظوری دینی چاہئے ۔انہوںنے کہا ہے کہ مجھے امید ہے کہ حکومت جلد سے جلد باقی کی رقم بھی جاری کر دے گی۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com