ملک کی عدالت عظمیٰ نے مذہبی مقامات کی صفائی، جائیداد کے سلسلے میں ہندوستان گیر سطح پر احکامات جاری کئے ہیں

ڈسٹرکٹ ججس کو کہا گیا ہے کہ اس ضمن میں اپنی رپورٹ متعلقہ ہائیکورٹ سے روانہ کریں

دھننجے مہاپاترا
(ٹائمز آ ف انڈیا 23اگست 2018ئ)
ترجمہ و تلخیص:
ایڈوکیٹ محمد بہاءالدین ، ناندیڑ ،مہاراشٹر ا
(9890245367)

مذہبی مقامات خیراتی اداروں سے متعلق عدالت عظمیٰ نے ایک ہمہ گیر احکامات کے ذریعہ وہاں پر پائی جانے والی صفائی، جائیداد، راستے، حسابات کے بارے میں احکامات جاری کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ کو ان تمام کی تنقیح کرنے اور ہائیکورٹ کو رپورٹ روانہ کرنے کے بارے میں احکامات جاری کرتے ہوئے اسے مفاد عامہ کی رٹ کے طور پر منظور کیا ہے۔
سپریم کورٹ کے ان احکامات کا اطلاق تمام منادر، مساجد، چرچ و دیگر مذہبی و خیراتی اداروں پر لاگو ہیں۔ ہندوستان میں ان اداروں کی جانب سے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی جو رپورٹ ہائیکورٹ کو روانہ ہوگی اسے بھی مفاد عامہ کی رٹ کے طور پر منظور کی جائے گی اور وہی رپورٹ ہائیکورٹ کو مختلف احکامات جاری کرنے کے لئے بنیاد بنے گی۔
ان مذہبی مقامات پر پیش آنے والی دشواریاں جو وہاں کے زائرین محسوس کرتے ہیں وہاں نہ سہولت ہوتی ہے نہ انتظامات۔ یا پھر دئے جانے والے نذرانوں کا صحیح استعمال نہیں ہوتا ہے لہٰذا ان نذرانوں کے تحفظ کے خاطر ان مذہبی مقامات کی جائیداد کے تحفظ کی خاطر جو بلالحاظ مذہب و ملت ہیں یہ عدلیہ کے سامنے زیر بحث تھے۔ اس طرح ریاستی حکومت ہو کہ مرکزی حکومت یہ حکومتوں کو اس خصوص میں کارروائی کرنی چاہئے۔ ان احکامات کی اجرائی جسٹس آدرش کے گوئل اور ایس عبدالنذیر نے پچھلے ماہ اجراءکئے ہیں۔
اس قسم کی تحریک سپریم کورٹ نے اپنے تئیں آغاز کیا کہ ہندوستان میں 20 لاکھ سے زیادہ بڑے منادر اور تین لاکھ سے زیادہ جاری مساجد ہیں۔ لیکن ان تمام کے بارے میں کارروائی کرنا عدلیہ کے لئے بڑا بوجھ ہوگا۔ جبکہ پہلے سے ہی عدلیہ زیر دوران مقدمے جو تین کروڑ سے زیادہ ہیں اسی سے متاثر ہے۔ جبکہ ڈسٹرکٹ کورٹ، ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ جبکہ عدالت میں غیر جانبدار عدالت کے مشیر گوپال سپرمنیم نے عدالت کو مطلع کیا کہ ہندوستان میں قدیم ترین نایاب منادر سات ہزار سے زائد ہیں۔ جہاں ان عبادت گاہوں میں کسی قسم کے کوئی احکامات روبہ عمل نہیں ہیں۔ اس لئے اس خصوص میں ہر ضلع کے مقامی ڈسٹرکٹ جج اور مقامی انتظامیہ کو اس معاملہ میں وقت نکالنا چاہئے اور عدالتی قوتوں کو مہیا کرکے ان شکایتوں کو رفع کرنا چاہئے۔
جبکہ اس قسم کی درخواست پوری کے جگن ناتھ ٹیمپل سے متعلق عدالت کے سامنے جاری تھی جسے مرینالنی پڈی نے داخل کیا جو وسعت پاکر ایک عوامی مقدمہ (PIL) کی شکل اختیار کرلی۔ جس میں تمام مذہبی خیراتی ، منادر، مساجد جس میں عقیدت مند لوگ جب شامل ہوتے ہیں تو انہیں جو وہاں مشکلات درپیش آتی ہیں ا س سے متعلق شکایتی رپورٹ خواہ وہ انتظامیہ سے متعلق ہو یا وہاں کی صفائی، حساب کتاب، جائیداد سے متعلق ہو ہر ضلع کے ڈسٹرکٹ جج کو ہائیکورٹ کو مطلع کرنا چاہئے۔
عدالت عظمیٰ مزید ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کوئی عقیدت مند ہندوستان گیر سطح پر اگر کسی قسم کی کوئی شکایت ہو مندرجہ بالا امور سے متعلق وہ اپنے ضلع کے ڈسٹرکٹ جج کے پاس خود رجوع ہو اور اس طرح وہاں پائے جانے والے معاملات متعلقہ اضلاع میں کئے جائیں اور ضروری ہو تو اس قسم کی رپورٹ ہائیکورٹ کو روانہ کریں۔ عدالت عظمیٰ نے یہ بھی کہا ہمیں اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ہائیکورٹ عوامی مفاد میں اس قسم کے معاملات کی شنوائی بموجب قانون کرے گی۔ لہٰذا سپریم کورٹ نے ایسے احکامات جاری کرنے کے بعد اس مقدمہ کی سماعت 5 ستمبر کو مقرر کی۔
سپریم کورٹ جگن ناتھ مندر واقع پوری کی سماعت کے دوران اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ تمام ہندوﺅں کو وہاں جانے کی اجازت ہونی چاہئے۔ جس میں وہاں جانے والے عقیدتمند خواہ وہ کسی بھی اعتقاد و مذہب کے ہوں۔ اگر مندر کے مینجمنٹ وہاں کی پابندی کے بارے میں یعنی جیسے کہ ڈریس کوڈ وغیرہ اگر چاہتی ہے تو پہلے سے اس کا ڈکلیریشن بورڈ لگانا چاہئے تاکہ لوگ اس کی تعمیل و تکمیل کرسکیں۔ اس طرح اس مندر میں بلالحاظ عقیدے مذہب کوئی بھی عقیدت مند نذر، نیاز، چڑاوے پیش کرسکتا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے یہ بھی کہا ہندو ازم نے دوسرے کسی مذہب و عقیدے والے کو نکال نہیں پھینکا ہے اور اس قسم کی عقل و شعور ہمارے یہاں صدیوں سے ملتا ہے۔ اور اس قسم کا اظہار سابقہ فیصلوں میں عدالت عظمیٰ نے بھی کیا ہے۔
جگن ناتھ پوری کے مندر کے دوران سماعت عدالت کے مشیر گوپال سبرامنیم نے یہ بھی کہا کہ تمام لوگوں کو جو اس معاملہ میں دلچسپی رکھتے ہیں انہیں مندر کی اصلاح، تعمیر، ترقی کے سلسلے میں اپنی رپورٹ عدالت عظمیٰ کو دی جانی چاہئے۔ جبکہ ابھی یہ سب باتیں وہاں کی جو مرکزی حکومت کی کمیٹی ہے یا ڈسٹرکٹ جج نے بھیجئے ہوئے معاملات ہیں یہ مندرجہ بالا احکامات کے پابند ہیں۔
سپریم کورٹ نے مفاد عامہ کی درخواست آٹھ جون کو قبول کرتے ہوئے یہ پایا کہ وہاں جانے والے وزیٹرس کو جو تکلیفیں ہوتی ہیں اور وہاں کے ملازمین ان کا استعمال کرتے ہیں اور وہاں صاف صفائی کا وہاں انتظام نہیں ہوتا اور مندر میں ناجائز قابضین ہوکر وہاں کے مذہبی معاملات کو کمرشیل بناچکے ہیں۔ اس طرح عدالت عظمیٰ نے پوری کے ڈسٹرکٹ جج کو درمیانی احکامات جاری کرتے ہوئے ان سے رپورٹ بھی طلب کی ہے۔
عدالت نے احکامات صادر کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی سیوک یا مندر میں پانڈا اپنی انفرادی تھالی یا ہنڈی نہیں رکھے گا اور نہ ہی عقیدت مندوں سے پیسے حاصل کرے گا۔ اس لئے وہاں پر سی سی ٹی وی کیمروں کا انتظام بھی کیا گیا ہے تاکہ مندر میں اصول ہونے والی رقم کا حساب کتاب ہو اور وہاں پر خدمت کرنے والے سیوک اور پانڈا کے ماہانہ تنخواہ کا بھی انتظام ہوسکے۔اس مفاد عامہ کی درخواست کو مندر کے تحفظ کی خاطر قبول عام حاصل ہوگا۔
ان احکامات کی وجہ سے عدلیہ پر جو زائد ذمہ دار لادی گئی ہے وہ اس طرح ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات تمام منادر، مساجد، چرچ اور دیگر مذہبی خیراتی اداروں پر اس کا اطلاق ہوگا۔
عدالت عظمیٰ کے احکامات کے مطابق ڈسٹرکٹ جج کی رپورٹ اور ہائیکورٹ مفاد عامہ میں دی گئی رٹ تصور کی جائے گی۔ جس کی بنیاد پر ہائیکورٹ موزوں و مناسب احکامات جاری کرے گی۔ اس طرح سے یہ اپنے تئیں عدالت عظمیٰ نے اپنے اختیارات کا جو استعمال کیا ہے جس کی وجہ سے جوڈیشیل پر زائد ذمہ داری عائد ہوجائے گی۔
ڈسٹرکٹ جج کو مقامی طور پر انتظامیہ کی مدد درکار ہوگی۔ جس کے ذریعہ دی جانے والی درخواستوں کا نپٹارا کیا جاسکے گا۔

(مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ