ممبئی : حکومت کو ہائی کورٹ کی پھٹکار، کہا “بلیٹ ٹرین کیا پانی میں چلاﺅگے”

ممبئی ، 13۔جولائی،ہ س:مانسون سے قبل تیاریوں سے متعلق کارپوریشن انتظامیہ ، ریل انتظامیہ اور ریاستی حکومت کی ناکامی پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ نے سخت پھٹکار لگائی ہے۔
ممبئی میں شدید بارش کی وجہ سے پل حادثے اور ریل پٹریوں پر جمع پانی کو دیکھ کر عدالت نے ریاستی حکومت اور ریلوے انتظامیہ سے کہا کہ بغیر تیاری کے بلیٹ ٹرین کس طرح چلائی جائے گی۔ کیا پانی میں بلیٹ ٹرین چلانے کا ارادہ ہے؟ اسی کے ساتھ عدالت نے سمندری ٹریفک کے ساتھ دیگر متبادل پر بھی غور کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے اندھیر پل حادثہ کے لے کر بھی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس طرح کے حالات سے نمٹنے کے لئے ریاستی حکومتوںکے ساتھ ہی مرکزی حکومت کو بھی تیار رہنا چاہیے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ قدرتی آفات اور شدید حادثوں کے دوران ممبئی کی شہ رگ کہی جانے والی لوکل ٹرین خدمات کے متاثرہونے سے خاتون مسافروں کو سب سے زیادہ پریشانی ہوتی ہے۔عدالت نے ان کی سہولتوں کے لئے بھی ٹھوس پلان بنانے کی ہدایت دی ہے۔ آئندہ سماعت اگست میں ہوگی۔ بڑھتی آبادی اور بدعنوانی کی وجہ سے جہاں انتظامیہ ان خدمات کو بہتر طریقہ سے چلانے میں ناکام ہو رہی ہے تو وہیں شدید بارش سے لوک ریل گاڑیوں کی آمد ورفت مباثر ہو رہی ہے۔ اس سے لاکھوں ریل مسافروں کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ کئی گھنٹوں تک ٹرینوں میں ہی رہنے کو مجبور ہونا پڑتا ہے۔ بامبے ہائی کورٹ میں بنیادی خدمات کے سلسلہ میںریاستی اور مرکزی حکومت کے خلاف مفاد عامہ کی درخواست داخل کی گئی تھی۔
عدالت نے ریل انتظامیہ سے کہا ہے کہ لوکل ٹرینوں میں خاتون مسافروں کے لئے فرسٹ کلاس کا ایک خالی ڈبہ لگانے پر غور کیا جائے ۔ بڑھتی آبادی کے پیش نظر عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ ممبئی اور اس کے ارد گرد کے اضلاع موجودہ صورتحال کودیکھتے ہوئے نوی ممبئی کی طرز پر ایک نئے شہر کو آباد کیا جانا ضروری ہو گیا ہے۔ ریاستی حکومت کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
ریلوے انتظامیہ کو بھی عدالت نے پھٹکار لگائی اور کہا کہ ہر سال پہلی بارش میں ہی ریلوے پٹریوںپر پانی جمع ہو جاتا ہے،سگنل سسٹم خراب ہو جاتا ہے، ریلوے مانسون سے قبل کوئی بھی کام نہیں کر رہا ہے۔ ریلوے کو بھی ٹھوس منصوبہ بندی کے ساتھ ریل مسافروں کی پریشانیوں کے حل کے لئے اپنا موقف رکھنے کی ہدایت دی گئی۔
اگست میں ہونے والی اگلی سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسیٹر جنرل، ریاست کے اٹارنی جنرل اور ریلوے محکمہ کے وکیل کوعدالت میں حاضر رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ جسٹس نریش پاٹل اور جسٹس گریش کلکرنی کی بینچ نے ممبئی لوکل خدمات کو درست رکھنے کے لئے آزاد ریلوے بورڈ تشکیل دے کر تمام اختیارات دینے کے سلسلہ میں بھی ریلوے نے اپنا موقف رکھنے کی ہدایت دی ہے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ