نئی رشوت ستانی یا دھوکہ بازی

کرسٹوف جفری لوٹ
(انڈین ایکسپریس19 ستمبر 2018 ء)
ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاءالدین
ناندیڑ( مہاراشٹرا)

مالیا کے مختلف پہلو والے کاروباروں کو دیکھتے ہوئے ہندوستانی سطح پر یہ ایک دوستانہ کیپٹل ازم کا معاملہ ہے۔ اولاً یہ بیوپاری دوستوں کی کوئی سیاسی جماعت نہیں ہوتی۔ بلکہ اگر کہا جائے وہ ہمیشہ اپنی ہمدردی ایک پارٹی سے دوسری پارٹی کی طرف منتقل کرتے رہتے ہیں۔ وجئے مالیا 2005ءمیں کانگریس کی مدد سے راجیہ سبھا کے ممبر منتخب ہوا۔ بعد ازاں وہ سبرامنیم سوامی کی پارٹی میں شریک ہوا اور پھر اس طرح دوبارہ ایوان بالا میں بی جے پی اور جنتا دل سیکولر کی مدد سے منتخب ہوا۔ ثانیہً اس کی سیاسی حکمت عملی کا اظہار اس بات سے ہوتا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو مالداروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس طرح کے رگھورام راجن نے اس حکمت عملی کے بارے میں اپنے پیپر میں لکھا کہ ” کیا ہندوستان کو چند مٹھی بھر لوگوں کی وجہ سے خطرہ ہے؟جبکہ غریبوں کو اس بات کو جاننا چاہئے کہ سیاست دانوں کو اُن کی مدد جو ضرورت ہوتی ہے جو انہیں عوامی خدمت گاروں سے ملتی ہے۔ سیاست دانوں کو کرپٹ بزنس مین کی ضرورت اس لئے ہوتی ہے کہ وہ انہیں الیکشن میں منتخب ہونے کے لئے ان کی سرپرستی ملتی ہے اور ان کرپٹ بیوپاریوں کو سیاستدانوں کی اس لئے ضرورت ہوتی ہے کہ وہ ان کے ذرائع وسائل بہ آسانی حاصل کرسکیں۔
لیکن بیوپاریوں کا معاملہ صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے بنیادی ذرائع وسائل حاصل کریں بلکہ ان کو اس بات کی بھی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ سرمایہ کاری کے لئے قرض بھی حاصل کریں۔ کثیر مقدار میں پبلک بینک کے این پی اے اکاﺅنٹ ( Non-Payment Accounts) کا میکانزم اس طرح ہی چلتا ہے کہ کس طرح ملک کے حکمراں اپنے بیوپاری دوستوں کو پبلک بینک سے قرض دلائیں تاکہ ان کے مختلف پروجیکٹس کی تکمیل میں مدد مل سکے۔ جبکہ وہ پہلے سے ہی مقروض ہوتے ہیں۔ یہ یہاں اس لئے ایسا ہوتا ہے حکمراں طبقہ کو اس ہمدردی کے عوض ان سے کچھ حاصل ہوتا ہے۔ تاکہ ان کے آئندہ انتخابات میں مہم چلائی جاسکے۔ مالیا نے مختلف 17 بینکوں سے قرض حاصل کیا۔ جن میں سے اکثر بینک کے ڈائریکٹرس جو جونیئر عہدیدار تھے اس طرح انہیں آسانی سے متاثر کیا گیا۔ جملہ لون جو مالیا نے حاصل کیا وہ 1.4 بلین ڈالرس سے زیادہ ہے۔ جب کنگ فشر کا دیوالیہ 2013ءمیں نکالا گیا اس وقت کمپنی کے اُتنے ہی جائیداد ملازمین اور سپلائی وغیرہ اس کے پاس تھی۔
مالیا کی جانب توجہ اس وقت راغب ہوئی جب اُس کے صنعتی ادارے اپنے دوستانہ کیپٹل ازم کی وجہ سے عروج میں تھی۔ ادانی گروپ کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے کہ وہ کمپنی نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد میدان میں آئی اور اس طرح اُسے بھی مسلسل طور پر اعلیٰ و معیاری قرض ملنا شروع ہوئے۔ Credit Suisse کے مطابق 2015ءمیں اس گروپ کو مزید دیتے ہوئے دو تھرمل پلانٹ احیاءکرنے کے لئے 16 فیصد قرض دیا گیا۔ جبکہ وہ پہلے سے ہی سب سے زیادہ قرض دار تھا۔ اس طرح اس کمپنی کا معاملہ 2011ءمیں 331 بلین پر تھا وہ اوپر پہنچ کر 2015ءمیں 840 بلین تک پہنچ گیا۔ اور اسی کی رپورٹ کے مطابق مختلف دس کمپنیوں نے قرض کی حصولیابی کی۔ جبکہ پہلے سے ہی وہ بہت زیادہ مقروض تھے۔ اس طرح کی فہرستیں ہمیں دیکھنے کو ملتی ہیں لیکن انہیں راز میں رکھا گیا۔ درجنوں بڑے قرض نہ ادا کرنے والے لوگوں کو اب این پی اے اکاﺅنٹ میں آج شامل کیا گیا ہے۔
گو کہ مالیا ہندوستانی بزنس مین کی اس شق میں شامل کیا جاتا ہے جس کا تعلق کریڈٹ سوئس لسٹ (Credit Suisse List)میں شامل نہیں ہے۔ جبکہ اس زمرے کی فہرست میں وہ لوگ شامل ہیں جو سیاست میں زیادہ متحرک ہیں اور جو کسی پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں۔ ایسے بزنس مین کی تعداد اسیما سنہہ کے مطابق روز بروز بڑھ رہی ہے۔ جس سے ایسا لگتا ہے کہ یہاں بزنس مین کا تناسب ممبر آف پارلیمنٹ بننے میں بڑھتا گیا۔ یعنی ان کی تعداد 14 فیصد سے لیکر 26 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو 1991ءاور 2014ءکے درمیان دیکھا گیا۔ بی جے پی کے 282 ایم پیز میں سے 143 ایم پی اس کیٹیگری میں شامل ہیں۔ جس کا ریکارڈ ( India’s Poras State in See Jaflot, A Kohly, K Murli Editors نے Bussiness in Politics in India کتاب میں لکھا ہے۔ اس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ انتخابات میں چنے جانے کا طریقہ جو دو پارٹیوں کے مابین ہوتا ہے انہیں اپنے انتخابات میں انتخاب کی مہم کے لئے کچھ دینا نہیں پڑتا۔ اس لئے کہ مالدار اُمیدور اور بزنس مین جو بعد میں ایم پی کی شکل میں منتخب ہوتے ہیں اور اس طرح وہ اقتدار میں شریک ہوجاتے ہیں۔
بحیثیت ممبر پارلیمنٹ، بزنس مین کو ان کے بزنس سے متعلق ہونے والی ساری معلومات فوری مل جاتی ہے۔ بلکہ وہ قانون، قاعدہ، ریگولیشن بنانے والوں پر اثر انداز بھی ہوتے ہیں۔ مالیا اپنے سیکٹر سے متعلق کی مشاورتی کمیٹیوں میں یعنی وزارت شہری ہوا بازی کی کمیٹیوں میں شامل تھا جو 2000ءمیں تشکیل پائی گئی تھی۔ اسی طریقے سے انڈسٹری اور کامرس وغیرہ کی اسٹینڈنگ کمیٹیوں میں شامل رہا۔
مالیا کا معاملہ ہی کوئی تنہا کیس نہیں ہے۔ دیگر بیوپاری جو پارلیمنٹ کے رکن کی حیثیت سے منتخب ہوئے ہیں وہ متنازعہ دلچسپیوں کے شکار بھی ہوتے ہیں۔ راجیو چندر شیکھر جو راجیہ سبھا کے لئے آزاد امیدوار کی حیثیت سے منتخب ہوئے ہیں بعد ازاں 2018ءمیں پھر بی جے پی کی مدد سے منتخب ہوئے ہیں۔ جو فائنانس کی کنسلٹ کمیٹی اور سلیکٹ کمیٹی آف رئیل اسٹیٹ وغیرہ کے ممبر بھی رہے ہیں۔ باوجود اس کے یہ حقیقت ہے کہ وہ جیوپٹر کیپٹل کے بانی ہیں جو اپنی رقومات کو فائنانشیل خدمات میں دیتے ہیں۔
بیوپاری جو بحیثیت ممبر منتخب ہوتے ہیں نہ صرف وہ پارلیمنٹ کی قانون سازی کو سمجھتے ہیں بلکہ انہیں عمل آوری کروانے کے لئے بھی ان کے کاروبار سے متاثر بھی کرتے ہیں۔ بلکہ وہ اس بات کا بھی علم رکھتے ہیں کہ کون بیورو کریٹس ان احکامات پر عمل آوری کرتا ہے۔ وہ اس طرح کے عہدیداروں کو ان کے ریٹائرڈ ہونے کے بعد بھی انہیں پھر سے دوبارہ ملازمت پر لے لیتے ہیں۔ جیسے کہ ایل آئی سی کے سابقہ چیئرمین سیبی اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج کے سابقہ فائنانس سیکریٹری جو کنگ فشر کے بورڈ آف ڈائریکٹرس میں شامل تھے۔ اسی طرح گجرات کے عہدیداران جو اسٹیٹ پٹرولیم کارپوریشن میں ہیں وہ سابقہ گجرات میریٹیم بورڈ اور سابقہ یونین ہوم سیکریٹری جنہوں نے ادانی گروپ کو جوائن کیا۔
بزنس مین کو فائدہ حکومت کے سینئر بیوروکریٹس کے تعلق کی حیثیت سے ملتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی بھی بزنس مین کسی پرائیویٹ سیکٹر کو اپنے ریٹائرڈ منٹ کے بعد بطور پیشہ اختیار کرتا ہے ابتداً ان پرائیویٹ کمپنیوں کے ساتھ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ تاکہ اس کے دفتر میں آزادانہ کام کرنے کا کوئی شعور نہیں رہتا۔ اس طرح ان کا یہ درمیانی عرصہ ان کی خواہش پر یوں ہی گزر جاتاہے۔ جہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ سیکریٹری خارجہ حکومت ہند نے اپنے ریٹائرڈمنٹ کے فوری بعد ٹاٹا گروپ کو جوائن کیا۔ اسی طرح کی بحث کی توسیع ان تمام پبلک سرونٹس بشمول ججس اور بینک ڈائریکٹرس جو اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ انہیں حکومت کا کوئی تقرر مل جائے جیسا کہ گورنر یا بعض ان میں سے چاہتے ہیں کہ آزادی سے کام کریں۔
حکومت کی اس آزادانہ پالیسی کے تیس سال کے بعد ہندوستانی معیشت کے لئے نئے باب کا آغاز ہوگیا کہ کس طرح یہ معاملہ ہندوستان کی معاش اور سیاست اور سماج پر اثر انداز ہوا۔ نئے طرز و شکل وصورت کا ظہور عمل میں آیا اور نئی سیاسی معیشت چھن کر نکلی۔ اس طریقے سے اس معاملہ کے ستونوں میں ایک بات مشترک ہے کہ یہ بزنس مین ریاست کی خودمختاری و اختیارات کو اپنے سے کمتر سمجھتے ہیں۔ اس لئے وہ اپنے بزنس کو عوامی فائدے کے مطابق بتاتے ہوئے خانگی توجہ، دلچسپی بڑھا دیتے ہیں۔ اس بات کا اظہار ہمیں بزنس مین کے طریقہ کار اور ان کی پیدا کردہ لابی سے ملتا ہے جو سیاسی نظام میں وہ اپنے آپ کو سرمایہ کار بزنس مین کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔ ( یہ تو نئی دُھندلی الیکشن بانڈ کی آسان تر بنانے کا عمل ہے )اور اس طرح وہ ممبر پارلیمنٹ بننے کے بعد اس سے اُلٹ طرز عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ اگر کوئی بزنس مین ایم پی، ایم ایل اے بن جاتا ہے (بلکہ منسٹر بھی) تو وہ بزنس مین بن جاتا ہے۔ نتیجتاً ریاست کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے کہ کیوں حکمراں دواخانے میں مدارس بنائیں گے اور کیونکر پولیس کام کرے گی۔ اگر وہ اس خصوص میں اپنی آمدنی کو دواخانوں میں اور پرائیویٹ اسکولوں میں بطور سیکوریٹی فرم سرمایہ کاری کی ہو؟

(محرر مضمون سینئر ریسرچ فیلو Sciences PO/CNRS Paris اور کنگ انڈین انسٹی ٹیوٹ لندن میں پروفیسر ہیں)

 

(مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com