نوئیڈا: 2 نوعمر لڑکیوں کی درخت سے لٹکی ملی لاش

ئی دہلی ، 26 -دسمبر:نوئیڈا سیکٹر 49 کے برولا گاوں میں ایک شانٹی کوارٹر میں ایک درخت سے دونوعمر لڑکیوں کی لٹکتی ہوئی لاش ملی ہے۔ ان کی والدہ کے مطابق 18 اور 13 سال کی دونوں بہنیں اپنے کمرے میں سورہی تھیں ، انہوں نے بتایا کہ ہم نے تین بجے چیک کیا تو انہیں پایا۔ پھر ہم نے چار بجکر 30 منٹ پر دوبارہ انہیں دیکھنے گئیں تو احساس ہوا کہ وہ لاپتہ ہیں ۔والدہ نے کہا کہ انہیں لگا کہ وہ پوجا پاٹھ کے لئے گئی ہوں گی۔ لیکن کچھ دیر بعد انہیں چیخ وپکار اور لوگوں کے چلانے کی آواز سنائی دی جہاں دونوں لڑکیاں مردہ پائی گئیں۔ پڑوسیوں نے باہر سے گھر بند کرلیا ، انہیں آنرکلنگ کا شبہ ہوا۔ لڑکی کا کنبہ پولیس کے آنے کے بعد نکلااور لاشیں درخت سے اتاری گئیں۔ گرچہ پولیس ابھی خودکشی کا معاملہ بتارہی ہے لیکن متاثرہ کی والدہ نے بھتیجے روی پر اپنے بیٹیوں کے قتل کا الزام عائد کیا ہے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ (شہر) اے کے سنگھ نے بتایا کہ بادی النظر ہم اسے ایک خودکشی کے معاملے کے طور پر لے رہے ہیں۔ تاہم اس معاملے میں کچھ الگ پہلو ہیں جس کے بارے میں پتہ کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ اس معاملے کے کچھ الگ پہلووں کی تحقیقات کی جارہی ہے۔ سنگھ نے یہ بھی کہا کہ گردن پر زخم کے علاوہ لاشوں پر کہیں بھی زخم نہیں ہے۔ والدہ نے بھتیجے پر اس لئے قتل کا الزام عائد کیا ہے کیونکہ وہ خاتون کے لگا ہوا تھا جنہوں ان کو ممبئی سے لایا اور اس سے پیچھا چھڑانے کیلئے شادی کا ارادہ تھا۔ متاثرہ کے لواحقین میں والد،والدہ، تین دیگر بہنیں اور ایک بھائی ہے۔ وہ گزشتہ ایک سال سے ایک کرائے کے کمرے میں رہ رہے تھے۔ والدہ سیکٹر 50 میں ایک پرائیویٹ اسپتال میں صفائی ملازم ہیں۔ بڑی بیٹی سیکٹر 93 اے میں ایلڈیکو اپارٹمنٹس میں کھانا پکانے والی کے طور پر کام کرتی ہے جبکہ ان میں سے ایک اسکول جاتی ہے۔ واضح رہے کہ مئی 2014 میں دو نوعمر بہنیں اترپردیش کے بدایو میں ایک درخت سے لٹکتی ہوئی پائی گئیں تھی جس کے بعد خوب احتجاج اور سیاست ہوئی تھی۔ یہ معاملہ اس وقت روشنی میں آیا او رقومی ناراضگی کا سبب اس وقت بنا جب مبینہ طور پر ان کی آبروریزی کی اور قتل کردیا ۔ پانچ مہینے کی سی بی آئی تحقیقات کے بعد یہ معاملہ سامنے آیا کہ لڑکی نے اپنے محبوب سے شادی نہ کرنے کیلئے کنبے کے دباو کی وجہ سے ہلا ک کرلیا تھا۔

 

آپ اپنی خبریں،مضامین اورمراسلات aakashtimes0@gmail.com پر ارسال کریں۔۔۔ہم اسے آپ کے نام سے شائع کریں گے۔