پانچ ہائی کورٹ کے37ایڈیشنل ججوں کو مستقل جج بنانے کی سفارش

نئی دہلی،23 ۔ فروری:سپریم کورٹ کالجیئم نے پانچ ہائی کورٹ کے37ایڈیشنل ججوں کو مستقل جج بنانے کی سفارش کی ہے۔ کالجیئم نے جن ایڈیشنل ججوں کو مستقل جج کے عہدہ پر تقرری کرنے کی سفارش کی ہے ان میں الہ آبادہائی کورٹ کے9، راجستھان ہائی کورٹ کے10، کیرل ہائی کورٹ کے5، گجرات ہائی کورٹ کے7اور بامبے ہائی کورٹ کے6ایڈیشنل جج شامل ہیں۔ کالجیئم نے22فروری میں اپنی یہ سفارشیں کی ہیں۔کالجیئم نے الہ آباد ہائی کورٹ کے جن ایڈیشنل ججوں کو مستقل جج کے عہدہ پر تقرری کی سفارش کی ہے ان میں جسٹس راجول بھارگو، جسٹس سدھارتھ ورما، جسٹس سنگیتا چندر، جسٹس دیا شنکر ترپاٹھی، جسٹس شیلندر کمار اگروال، جسٹس سنجے ہرکوللی، جسٹس کرشن پرتاپ سنگھ، جسٹس ریکھا دکشت اور جسٹس ستیہ نارائن اگنی ہوتری شامل ہیں۔ حالانکہ کالجیئم نے جسٹس وریندر کمار دتیہ کو 15نومبر2018سے ایک سال کی ایک نئی تاریخ کے لئے ایڈیشنل جج کے طور پر پھر سے تقرری کرنے کا حکم دیا ہے۔ کالجیئم نے کہا ہے کہ جسٹس کمار کے کام کو کچھ اور وقت کے لئے دیکھا جائے۔کالجیئم نے راجستھان ہائی کورٹ کے جن ایڈیشنل ججوں کو مستقل جج کے عہدہ پر تقرری کی سفارش کی ہے ان میں جسٹس گنگا رام مول چندانی، جسٹس دیپک ماہیشوری، جسٹس وجے کمار ویاس، جسٹس گوردھن بردھاری، جسٹس پنکج بھنڈاری، جسٹس دنیش چندر سومانی، جسٹس سنجیو پرکاش شرما، جسٹس ڈاکٹر پشپیندر سنگھ بھاٹی، جسٹس دنیش مہتا اور جسٹس ونیت کمار ماتھر شامل ہیں۔کالجیئم نے کیرل ہائی کورٹ کے جن ایڈیشنل ججوں کو مستقل جج کے عہدہ پر تقرری کی سفارش کی ہے ان میں جسٹس ستیش نینن، سٹس دیوان رام چندرن، جسٹس پی سومرراجن، جسٹس وی شرسی اور جسٹس اے ایم بابو شامل ہیں۔کالجیئم نے گجرات ہائی کورٹ کے جن ایڈیشنل ججوں کی مستقل جج کے عہدہ پر تقرری کی سفارش کی ہے ان میں جسٹس ڈاکٹر کے جے تھاکیر، جسٹس آرپی ڈولریا، جسٹس آشوتوش جے شاستری، جسٹس برن اے ویشنو، جسٹس الپیش وائی کاغذ، جسٹس اروند سنگھ سوپیا اور جسٹس بی این کریا شامل ہیں۔کالجیئم نے فیصلہ کیا ہے کہ جسٹس کے جے تھاکیر الہ آباد ہائی کورٹ میں کام کرنا جاری رکھیں گے، جس میں وہ اس وقت تعینات ہیں۔ کالجیئم نے کہا ہے کہ کچھ سفارشوں کے خلاف محکمہ انصاف اور چیف جسٹس کے ذریعہ کچھ شکایتیں ملی ہیں۔ حالانکہ کالجیئم نے اس طرح کے الزامات پر دھیان دینے سے انکار کردیا۔ کالجیئم نے کہا کہ اوپر کی شکایتوں میں ہمیں کوئی سچائی نہیں دکھائی دیتی ۔کالجیئم نے بامبے ہائی کورٹ کے جن ایڈیشنل ججوں کو مستقل جج کے عہدہ پر تقرری کی سفارش کی ہے ان میں جسٹس پرکاش دیو نائک، جسٹس مکرند سبھاش کرنک، جسٹس سوپنا سنجیو جوشی، جسٹس کشور کالیش سونونے، جسٹس سنگیت راو شامراو¿ پاٹل اور جسٹس نتن دتہ رام سردیسائی شامل ہیں۔ یہاں بھی کالجیئم نے کچھ سفارش والے لوگوں کے خلاف ملی شکایتوں پر بھروسہ کرنے سے منع کردیا۔ کالجیئم نے کہا کہ ان شکایتوں میں ہمیں کوئی سچائی نہیں دکھائی دیتی کیونکہ اس میں کئے گئے الزامات جھوٹے، سطحی اور بغیر کسی ثبوت کے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ شکایتیں خصوصی طور سے پہلی نظر میں آنے کے بعد ہی نظرانداز کرنے کی حق دار ہیں۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com