پانچ ہزار سے زائد پنڈت ابھی بھی وادی میں رہتے ہیں

سری نگر ،26اگست :وادی کشمیر جو پچھلے تین دہائیوں سے تشدد کا شکار ہے ابھی بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا گہوارہ ہے اور پنڈت برادری سے تعلق رکھنے والے لوگ مختلف گاﺅں میں اپنے ہم سائیوں کے ساتھ امن کی زندگی بسرکر رہے ہیں ۔ اس کی ایک مثال راج ناتھ ہے جو ایک اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے اور رٹائر ہونے کے بعد بھی وہ کشمیر کے منی گاﺅں میں رہتے ہیں وہ شاید واحد پنڈت ہیں جو اس گاﺅں میں اپنی بیٹی اور بیوی کے ساتھ رہتا ہے 72سالہ راج ناتھ نے کہا کہ گاﺅں کے بہت سارے نوجوانوں کو انہوں نے تعلیم دلائی اور وہ اس کی عز ت کرتے ہیں ۔ ان کی بیٹی بھی ایک اسکو ل میں اساتذہ کا کام کر رہی ہے ۔ ابھی بھی کشمیر وادی میں تین ہزار سے زیادہ پنڈت برادری کے لوگ رہتے ہیں اور اس سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ انہیں کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں ہے ۔ حالانکہ ریاست جموں و کشمیر کے باہر طرح طرح کی من گھڑت کہانیاں دھورائی جاتی ہیں ۔ راج ناتھ کو اس بات کا دکھ ہے کہ اس کی برادری کے بہت سارے لوگوںنے وادی کشمیر سے نقل مکانی کی اس نے کہا کہ کچھ مہینے پہلے ایک بزرگ پنڈت چل بسا اور اس کے سارے مذہبی رسومات ہندودھرم کے حساب سے انجام دئیے ۔ لیکن راج ناتھ حکومت کے رویہ سے نا خوش ہے اور کہتا ہے کہ سرکار نے ان کی بیٹی کو نوکری نہیں دی ۔ حالانکہ اس نے ایم کی ڈگری حاصل کی ہے اس نے کہا کہ ریاستی سرکار ان پنڈتوں کے لئے کچھ نہیں کر رہی ہے جو وہاں پر مقیم ہیں ۔ مذہبی رواداری کی ایک اور مثال یہ ہے کہ سمنبل علاقے میں ایک مندر کو جو کئی دہائیوں سے ویران پڑا تھا کو اب آباد کیا گیا اور اس میں عوامی مسلمانوں نے بھر پور مدد کی اس کے علاوہ پنڈتوں کا اہم مذہبی مقام کھیر بھوانی مندر میں ہر سال جون کے مہینے میں ہزاروں پنڈت درشن کے لئے آتے ہیں اور وہاںپر انہیں ان کے رہنے کے لئے معقو ل انتظام کیا گیا ہے اس سلسلے میں اشوک کور جوکہ ایک بینک ملازم ہے نے کہا کہ جب بھی وہ پیر بھوانی درشن کے لئے آتے ہیں تو انہیں مقامی لوگ بڑی گرم جوشی سے ملتے ہیں ۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ