کٹھوعہ عصمت دری معاملہ:بچی کو خالی پیٹ کھلائی گئی تھیں بھانگ اورنشیلی ادویہ

سری نگر،31۔جولائی ، ہ س: جموں وکشمیرکے کٹھوعہ میں جنوری میں ہوئی نابالغ کے ساتھ وحشیانہ حرکت، عصمت دری اورقتل معاملے میں کرائم برانچ نے سپلیمنٹری (ضمنی) چارج شیٹ دائرکردی ہے۔ پٹھان کوٹ ضلع جج کی عدالت میں پیرکو یہ چارج شیٹ دائر کی گئی۔ 614 صفحات کی چارج شیٹ میں 129 گواہوں کو شامل کیا گیا ہے تاکہ کیس کو مضبوط بنایا جاسکے۔ذرائع کے مطابق سپلیمنٹری چارج شیٹ میں مندرکے پجاری سانجھی رام کو اہم ملزم اور سازش کرنے والا بنایا گیا ہے۔ اس میں کیس سے منسلک فورنسک لیب ٹسٹ کی رپورٹ اور ملزمین کی کال ڈیٹیل بھی منسلک کی گئی ہیں۔ کال ڈیٹیل سے واضح ہورہا ہے کہ اس کیس کو لے کرملزم ایک دوسرے کے رابطے میں تھے۔سانجھی رام کے بیٹے شبھم جس نے واردات کے وقت کٹھوعہ کے بجائے سہارنپور کالج میں ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کی بھی کال ڈیٹیل (فون کال کی تفصیلات) چارج شیٹ میں منسلک کی گئی ہے۔ اب اس پورے معاملے میں کل 351 گواہ ہوں گے، جن میں کچھ موقع پرتھے۔ ان سبھی کے بیان ریکارڈ کئے گئے ہیں۔چارج شیٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچی کو منار(لوکل بھانگ) کھلائی گئی تھی۔ کچھ نشیلی دواوں کی مقداربھی بہت زیادہ دی گئی تھی۔ بچی کو پہلے دن خالی پیٹ ایپیٹرل دی گئی۔ دوسرے دن کلونازیپم کی پانچ گولیاں کھلائی گئیں، جوعام طورپر10 گنا زیادہ اسٹرانگ ڈوزتھا۔ میڈیکل رپورٹ کہتی ہے کہ اس اوورڈوزکی وجہ سے بچی کوسانس لینے میں پریشانی آئی، جوکوما اورموت کی طرف لے جاتی ہے۔
سب انسپکٹر کی بینک تفصیل اوراکاونٹ نمبربھی چارج شیٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ سانجھی رام کی طرف سے انسپکٹر کے اکاونٹ میں رشوت جمع کرنے کی بات کہی گئی تھی تاکہ اس پورے معاملے کو دبایا جاسکے۔ چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں سبھی 8 ملزمین پوری طرح ملوث تھے۔ نابالغ ملزم کوبالغ ثابت کرنے سے متعلق سبھی دستاویز چارج شیٹ میں شامل کئے گئے ہیں۔ حالانکہ یہ معاملہ ابھی عدالت میں ہے۔وہیں پراسیکیوشن کے وکیل سنتوکھ سنگھ بسرا نے الزام لگایا کہ گواہوں کی جانکاری پہلے ملنے سے دھمکی دی گئی تھی۔ اس متعلق شکایت کرائم برانچ کو دی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم اس معاملے میں سبھی گواہوں کو کورٹ میں پیش نہیں کریں گے، کچھ اہم گواہ ہی پیش ہوں گے۔واضح رہے کہ کٹھوعہ کے رسانا گاوں میں رہنے والی خانہ بدوش طبقے کی 8 سالہ معصوم بچی 10 جنوری کو لاپتہ ہوگئی تھی۔ 17 جنوری کو اس کی لاش جنگل سے برآمد ہوئی۔ بچی کی عصمت دری کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔ جموں وکشمیر پولیس کی کرائم برانچ معاملے کی جانچ کررہی ہے۔ پٹھان کوٹ روزانہ اس معاملے کی سماعت کررہا ہے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ