ہجومی تشدد: بچہ چوری کے شک میں 4خواتین کے ساتھ مارپیٹ

کولکاتہ ، 24۔جولائی ،ہ س:ملک بھر میں ہجومی تشدد کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ تازہ معاملہ بنگال کے جلپائی گوڑی کے اسی دھوپ گوڑی بلاک کا ہے جہاں گذشتہ ہفتہ ایک ذہنی طور پر معذور خاتون کو مقامی لوگوں نے بچہ چوری کے شک میں پیٹ پیٹ کر لہولہان کر دیا تھا۔ واقعہ پیر کے روز کا ہے۔ یہاں علاقہ کے داوکی ماری گاﺅں میں الگ الگ علاقوںمیں مشتبہ طور پر گھو م رہی 4خواتین کو پکڑ کر مقامی لوگوں نے بچہ چوری کے شک میں مارپیٹ کی۔ حالانکہ بعد میں اطلاع ملنے کے بعد موقع پر پہنچی پولس نے چاروں کو ہجوم سے آزاد کراکر ضلع اسپتال میں داخل کرایا۔ وہاں ان کی حالت مستحکم بنی ہوئی ہے۔ پولس نے نامعلوم افراد کے خلاف معاملہ درج کر جانچ شروع کی ہے۔
ایک سینئر افسر نے اس سلسلہ میں بتایا کہ پیر کی دوپہر علاقہ میں چاروں خواتین الگ الگ علاقوںسے گزر رہی تھیں۔ بچہ چور ہونے کے شک میں لوگوں نے انہیں گھیر لیا اور خوب پٹائی کر دی۔ ان خواتین میں سے ایک نے بتایا کہ وہ اپنے رشتہ دار کا گھر تلاش کر رہی تھی۔ دوسرے نے بتایا کہ وہ علاقہ کے بنیک میں جا رہی تھی۔ تیسری خاتون کا دعویٰ ہے کہ وہ گھر گھر جاکر ساڑی فروخت کرنے کا کام کرتی ہے جبکہ چوتھی کادعویٰ ہے کہ وہ اپنی ایک رشتہ دار سے مل کر لوٹ رہی تھی۔ ان سب کی عمر 20سے 40برس کے درمیان ہے۔ پولس کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ علاقہ کا سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھ کر ان کے ساتھ مارپیٹ کرنے والوں کی شناخت کی جا رہی ہے۔
انہوںنے کہا کہ بچوں کے تحفظ کے تئیں محتاط رہنا اچھی بات ہے لیکن قانون کو ہاتھ میں لینے کا اختیار کسی کو نہیں ہے۔ ایسی کسی بھی مشتبہ کی اطلاع پولس کو دی جانی چاہیے تھی۔ چاروں خواتین دھوپ گوڑی سے دور کی رہنے والی ہیں۔ معاملہ میں پولس نے بی جے پی کی خاتون ونگ کی رہنما کے خلاف بھیڑ کو مشتعل کرنے کا معاملہ بھی درج کیا ہے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ