ہجومی تشدد کا خوف:بھکاریوں نے مانگنے سے کیاتوبہ،پھیری والوں نے شروع کی مزدوری

کولکاتہ،30۔جولائی،ہ س: بچہ چوری کے شک میں ملک بھر میں ہو رہی ہجومی تشدد، پیٹ پیٹ کر قتل کئے جانے کا ایسا خوف قائم ہو گیا ہے کہ بھکاریوں نے اب مغربی بنگال کے دور دراز گاوں میں مانگنا چھوڑ دیا ہے ۔ پھیری والے او رکابلی والوں کے دلوں میں بھی ایسی دہشت قائم ہے کہ وہ اپنا اپناکام چھوڑ کر دو وقت کی روٹی کے لئے دہاڑی مزدوری کرنے لگے ہیں ۔ اسے لے کر سب سے زیادہ خوف جلپائی گوڑی ضلع کے دھوپ گوڑی بلاک میںپھیلا ہے ۔ اس علاقے میں ایک مہینے کے اندر چھ لوگوں کو ماب لنچنگ کا شکار ہونا پڑاہے ۔ لوگوں کی بھیڑ نے مہینے کے درمیان میںایک ذہنی طور پر مریض خاتون ،تیسرے ہفتے میںتین دیگر خواتین اور ہفتے کے آخر میں آسام کے دو نوجوانوں کو تشدد کا شکار بنایا۔ پولس نے نا معلوم لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا ہے لیکن ابھی تک کسی کی بھی گرفتاری نہیں ہوئی ہے ۔ اب عالم ایسا ہے کہ علاقے میں نہ و پھیری والے آ رہے ہیں اور نہ ہی کابلی والے اور نہ ہی بھکاری نظر آ رہے ہیں۔دھوپ گوڑی بلاک میں واقع ریلوے اسٹیشن پر رہنے والے ایک بھکاری نے بتایا کہ دو ہفتے پہلے علاقے میں بھیک مانگنے کے لئے نکلا تھا لیکن کچھ دور جانے کے بعد ہی علاقے کے لوگوں نے تعاقب کرنا شروع کردیاتھا ۔ پہلے ایسا کبھی نہیں ہوتا تھا ۔ ایک کے بعد ایک لوگوں کی نظریں اپنے چارو طرف گھومتا دیکھ کر وہ ڈر گیا تھا اور آدھے گاو¿ں سے ہی واپس لوٹ آیا۔15دنوں سے بھیک مانگنے کی ہمت نہیں کر سکا ہے ۔ آس پاس کے مختلف مقامات پر فٹ پاتھوں پر بھیک مانگ کر زندگی گزارنے والے باقی دیگر بھکاریوں کی بھی یہی حالت ہے ۔ اب گھر گھر جا کر بھیک مانگنے کے بجائے یہ سڑکوںکے چوراہے ،ریڈ لائٹ،عوامی مقامات پرجاکر بیٹھتے ہیں جہاںلوگ اپنی مرضی سے انہیں کچھ دے دیتے ہیں تو گزارہہو جاتا ہے۔ بھیک مانگ کر اپنے دو بے سہارا بچوں کی پرورش کرنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ اپنے بچوں کو بھی گود میں لے کر وہ علاقے میں نہیں جا پا رہی ہے ۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ کس کا بچہ ے؟ کہاں سے آیا؟ اس نے کہا کہ جان سے مارے جانے کے خوف سے ادھر ادھر بیٹھ کر بھیک مانگ رہی ہے لیکن گاوں میں داخل ہونے کی ہمت نہیں ہوہی ۔ علاقے میں بچوں کے لئے میٹھائیاں چنا چور وغیر ہ فروخت کرنے والے ایک کابلی والے نے بتایا کہ اس نے گزشتہ بیس دنوں سے علاقے میں پھیری نہیں کیا۔ اس نے کہا کہ اس کا زیادہ تر سامان بچوں کے لئے ہوتا ہے ۔ کئی بار بچے بڑوں کے ساتھ سامان خریدنے آتے ہیںتو کئی مرتبہ خود ہی پیسے لے کر دوڑے ہوئے اس کے پاس آتے تھے ۔ جن علاقوں میں وہ اکثر جاتا رہاہے وہاں تو کچھ خاص ڈر نہیں ہے لیکن نئے علاقوں میں جیسے ہی داخل ہوتا ہے علاقے کے لوگ اس پر نظررکھنے لگے ہیں ۔ خواتین اور نوجوان شک کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ کہیں کسی بچے کو کچھ ہو گیا تو پھر اس کی جان نہیں بچے گی۔ اس خوف سے اس نے اپنا کام بند کر کے مقامی لوگوں کے کھیتوں میں مزدوری کرنا شروع کر دیاہے ۔ ان علاقوں میںگمچھا ،ساڑی وغیرہ فروخت کرنے والوں کا بھی یہی حال ہے ۔ کسی نے مزدوری شروع کر دی ہے تو کوئی رکشا چلا کر گزر بسر شروع کر دیا ہے ۔اس سلسلے میں پوچھنے پر ضلع کے پولس سپرنٹنڈنٹ امیتابھ مائتی نے کہا کہ بچہ چوری کی افواہ اس علاقے میں کافی تیزی سے پھیلی ہے ۔ لوگ اس سلسلے میں بیدار ہو گئے ہیںباوجود اسکے عام لوگوں کے درمیان پولس نے بیداری مہم شروع کر دی ہے اور لوگوںکو یہ بتایاگیا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں نہی لیا جا سکتا ہے ۔ کسی مشتبہ کو علاقے میں دیکھنے پر پولس کو مطلع کرنے کے لئے بھی لوگوں کو تیار کیا گیا ہے ۔ دھیرے دھیرے بیداری پھیل رہی ہے اور کچھ دنوں کے اندر حالات معمول پر آ جائیں گے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ