ہجومی تشدد کےلئے الگ سے قانون بنائے پارلیمنٹ

عدالت نے کہا کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں، نظم ونسق کی صورتحال کو قابو میں رکھنا اور ہجومی تشدد روکنا ریاستوں کی ذمہ داری:سپریم کورٹ

نئی دہلی، 17۔جولائی،ہ س:گﺅرکشا کے نام پر ہونے والے تشدد کے معاملہ پر سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کسی بھی شخص کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے اور حکومت کو اس پر کارروائی ضرور کر نی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ نظم ونسق کی صورتحال کو قابو میں رکھنا اور ماب لنچنگ روکنا ریاستوں کی ذمہ داری ہے ۔
ہجومی تشدد کے معاملہ پر چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی والی سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی تشدد کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ ریاستی حکومتوں کو بھیڑ سے نمٹنا ہوگا اور نظم و نسق پر عمل کرنے کے لئے قدم اٹھانا ہوگا۔
اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ ہجومی تشدد کے نمٹنے کے لئے الگ سے قانون بنائیں۔ عدالت نے ملک بھر میں بھیڑ کے ذریعہ کئے گئے قتل پر اپنی برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ لوگوں میں قانون کا خوف پیدا ہونا چاہےے۔ واضح ہو کہ اس معاملہ میں سماعت پوری ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے گذشتہ 3جولائی کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ معاملہ کی سماعت کے دوران ملک کے کئی علاقوں میں بچہ چوری کے شک میں بھیڑ کے ذریعہ پیٹ پیٹ کر قتل کئے جانے کا مسئلہ بھی اٹھا یا گیا تھا لیکن عدالت نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے کہا کہ دہلی سے 60کلومیٹر کے فاصلہ پر لوگوں کے قتل کی شکایتیں ملی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ دوسری مجرمانہ وارداتوں سے الگ ایسے معاملہ ایک مقصد اور پیٹرن کی جانب اشارہ کررہے ہیں۔ انہوںنے کہا تھا کہ زیادہ تر ایسے معاملہ ہائی وے پر ہی ہوئے ہیں۔
اندر ا جے سنگھ نے کہا تھا کہ ماب لنچنگ کے متاثرین کو معاوضہ کے لئے مذہب، ذات اور جنس کو مدنظر رکھا جائے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ مناسب نہیں ہے۔ متاثرصرف متاثر ہوتا ہے اور اسے الگ الگ خانوں میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا ہے۔
درخواست گزار تحسین پوناوالا کی طرف سے سینئر وکیل سنجے ہیگڑے نے تجویز پیش کی تھی کہ ان وارداتوں پر نظر رکھنے اور ایسی شکایتوں پر غور کرنے کے لئے نوڈل افسر تعینا ت ہونے چاہیے۔ انہوںنے ہائی وے پر گشت، ایف آئی آر درج کر چارج شیٹ اور جانچ افسروں تقرری سے متعلق جواب دیئے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار اندرا جے سنگھ نے کہا تھا کہ گﺅ رکشکوں کے خلاف کاروائی کے لئے مرکزی حکومت محض بیان دیتی ہے۔ اس کے لئے سخت گائڈ لائن دینے کی ضرورت ہے۔ یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ