یہاں شہنشاہ سورہے ہیں

میانمار کے بدلتے ہوئے حالات کا مشاہدہ کرتے ہوئے یہاں آخری شہنشاہِ مغل کی خبر ہے

نیروپما سبرامنیم
( 9ستمبر 2018ءسنڈے ایکسپریس میگزین)
ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاءالدین
ناندیڑ( مہاراشٹرا)

یہ جمعہ کی دوپہر ہے۔ جب میں روڈ نمبر 6 Ziwaka جو تقریباً شیوڑا گن پگوڑا سے ایک کلو میٹر دور ہے۔ یہاں بدھ ازم کا شو پیس ہے جو رنگون میانمار کے وسط میں ہے۔ مرد، عورتیں، بچے جس کے گیٹ سے آتے جاتے ہیں۔ اس کے سامنے دو مینار کی طرز کے پلر ہیں۔ جس کے اوپر لوہے کی کمان ہے۔
لوہے کی اس کمان پر سنہری لفظ سے لکھا ہوا ہے۔ درگاہ بہادر شاہ ظفر شہنشاہِ ہندوستان (1837ءتا 1857ئ)، اس پتہ کو مان بھی لیا جائے جو سنہری گولڈن پگوڑا کے سامنے ہے۔ لیکن دلی سے بہت دور جہاں مغل شہنشاہ یہاں آکر خموشی میں کھو گئے ہیں کہ کس طرح بہادر شاہ ظفر کی موت 1862ءمیں جلاوطنی میں رنگون میں واقع ہوئی۔
دیڑھ سو برس پہلے رازدانہ طور پر برٹش کے جیلر نے یہاں ان کی تدفین کی۔ جہاں ان کے گھر میں جو چار روم پر مشتمل تھا اس میں وہ محروس تھے۔ جو کہ شاہی لال قلعہ کے آرام و آسائش کے بالکلیہ متضاد معاملہ تھا۔ لیکن ان کی یہ سکونت والا مقام اب ایک زندہ جاوید درگاہ کی شکل میں ہے۔
جمعہ کی نماز ہال سے متصل ہونے کے بعد عید کے تین دنوں تک لوگ یہاں چھٹیاں منانے کے موڈ میں ہوتے ہیں اور اس طرح ایک فیسٹیول کا ماحول ہوتا ہے۔ گلاب کی پھولوں کی مہک سے ماحول معطر ہوجاتا ہے۔ مختلف خاندان، دوست افراد یہاں کے ٹھنڈے فرش پر بیٹھے رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کو لنچ پیک، ڈنر وغیرہ دیتے رہتے ہیں جو یہاں کی کینٹین سے انہیں ملتے ہیں۔
زینب بی بی جو مستقل طور پر درگاہ میں دعا کے لئے آتی ہے اپنا تعارف دیتے ہوئے یہ کہتی ہے کہ وہ ایک برمی مسلم ہے۔ اور ہندی، انگلش میں ملی جلی گفتگو کرتی ہے۔ ہر جمعہ کو وہ منی گلار ٹانگ شہر جو رنگون کے مضافات میں ہے بس کے ذریعے یہاں پہنچتی ہے۔ آج بھی وہ یہاں اپنے بارہ دوستوں کے ساتھ پہنچی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اجتماعی طور پر قرآن پڑھی۔ کیونکہ وہ قرآن خوانی کے لئے ہی آئے تھے۔ اس کے دوسرے دوست جو برمی زبان میں گفتگو کررہے تھے ایک وظیفہ یاب ہیں جو وظیفہ سے قبل ایک بینک میں کام کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے مقامی لوگ بہادر شاہ ظفر کو بادشاہ سے زیادہ ایک ©©” بابا“ مانتے ہیں۔
بہادر شاہ ظفر ہندوستان کے لئے شہنشاہ ہوسکتے ہیں۔ لیکن وہ اس سے بھی زیادہ عظیم ہے۔ ہم انہیں بابا مخاطب کرتے ہیں۔ اس لئے کہ وہ عالم تھے۔ انہیں ہر بات سے واقفیت تھی۔ انہوں نے خوب صورت نظمیں لکھیں۔ ان کے مماثل اور کوئی دوسرا بابا نہیں ہے۔ اس لئے جب کبھی وہ لوگ دعا کے لئے کہتے ہیں یہاں ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ جبکہ دعا ، بیماری کی دعا ،پڑھائی کی دعا، کچھ بھی ہو اس قسم کا اظہار زینب بی بی نے کیا۔
میانمار کے لوگوں کا درگاہ سے اتنا لگاﺅ، خلوص کہ بعض وقت ایسا لگتا ہے کہ پچھلے دہے میں جب اس بات کی خواہش کی گئی تھی کہ بہادر شاہ ظفر کے باقیات کو دلی منتقل کیا جائے۔ حکومت کو اس بات کی اطلاع رنگون کے سفیر کے ذریعے کی گئی تھی ۔ تب اس نے کہا تھا کہ ” میانمار میں فساد ہوجائے گا۔ “ ایسی اطلاع وہاں کے ایک سابق آفیسر جو اس امر سے متعلق تھے انہوں نے کہا۔
میانمار کے پچاس ملین آبادی میں مسلمانوں کا تناسب 2.3 فیصد ہے۔ جس میں روہنگیا شامل نہیں ہیں اس لئے کہ ان کا نام پچھلی مردم شماری میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ ملک کے مسلمان مالدار اور مختلف النسل ہیں۔ جن میں چائنیز، ایرانی، ساﺅتھ ایشین، اُن کے آباءو اجداد ہیں۔ وہ مختلف زبانیں بول سکتے ہیں۔ ٹامل کے مسلمان سامراجی نظام ہی میں آکر یہاں شفٹ ہوئے۔ جبکہ برٹش نے ان لوگوں کی ہمت افزائی بھی کی تھی کہ وہ ہندوستان سے یہاں منتقل ہوں جبکہ یہ برما کی حیثیت سے جانا جاتا تھا۔ راکھین کے کمان یا کامل مسلم جو روہنگیا سے مختلف ہیں اور وہ الگ قومیت کے گروپ کی حیثیت سے میانمار میں شامل ہیں اور ان کی مشترکہ قومیت کو سرکار نے قبول بھی کیا۔
راکھین کے باہر جو روہنگیائی ایک ملین سے زائد ہیں جن کا اخراج بنگلہ دیش کو 2017ءمیں عمل میں آیا ہے۔ جن میں سے سات لاکھ روہنگیا بحیثیت رفیوجی کاکس بازار میں ہیں۔ رنگون اور منڈالے میں مسلمانوں کی آبادی میانمار میں سب سے زیادہ ہے۔ 2012ءاور اس کے بعد پہلا مخالف روہنگیا تشدد راکھین میں پھوٹ پڑا۔ ذات کی بنیاد پر تناﺅ پھیل گیا۔ جو ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی جہاں بدھسٹ رہا کرتے تھے اور یہاں کے بدھسٹ مسلمان، ہندو، کرسچن کے ساتھ مل کر رہا کرتے تھے۔ میانمار کی قدیم جمہوریت کی اس سے ملاقات کا آغاز اسلامی خوبیاں سے شروع ہوا اور اس طرح ذاتی تعصبات کا اظہار شروع ہونے لگا۔ بعض یہ کہتے ہیں کہ یہ سب وہاں کی ملٹری کی پکڑ ڈھیلی ہونے کی وجہ سے ہوا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بدھ مت والوں کی زیادتی سے بھی ہوا ہے۔ جیسے کہ جو گروپ 969 کہلاتا ہے جس میں شہری قیادت جاتی ہے۔ جس کے بعد ہی ذات، پات والی قومی لڑائیوں کا آغاز اشن ویراتھو کے نقش قدم پر شروع ہوا۔ جس نے مخالف مسلم تنظیم 969 بنائی۔ اور اس طرح وہ بدھسٹ کی شدت پسندی کا گروپ بھی تیا رہوا، جسے ماباتھا (Protection of Race & Religion)۔
2013ءمیں روہنگیا اور راکھین کے بدھسٹ کے درمیان جب تشدد برپا ہوا تو اس وقت بدھسٹ 2012ءمیں میکٹیلا شہر جو منڈیلا کے قریب ہے وہاں فسادات پھوٹ پڑے۔ جہاں صد فیصد مسلم رہا کرتے تھے۔ جن کا قتل ہوا اور ہزاروں وہاں سے گھر چھوڑ کر نکل پڑے۔ پانچ سال کے بعد بھی شہر میں ابھی بھی تناﺅ پایا جاتا ہے اور لوگ کوشش کرتے ہیں کہ دو ذاتوں کے مابین ہم آہنگی پھر سے پیدا ہو۔ جانور کی قربانی یہاں شہر میں ممنوع قرار دی گئی۔ 14 میں سے 7 مسجدیں بند پڑی ہیں۔ شہر کے مسلم شہری کسی باہر والے سے گفتگو نہیں کرتے۔ اس لئے کہ ان کا یہ کہنا ہے کہ ہمیشہ سے یہ تماش بین رہے ہیں اور وہاں کے حکام اور بدھسٹ نفرت پھیلانے کا کا م کرتے ہیں۔
تکثیری تہذیب کا رنگون جہاں کوئی جب قدم رکھتا ہے اُسے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ یہاں مختلف رنگ نسل کے لوگ رہتے ہیں۔ لیکن ابھی تک یہاں فرقہ وارانہ تناﺅ سے چھٹکارا نہیں مل سکا۔ گوکہ اس قسم کی باتوں کی یہاں شہ نہیں پائی جاتی۔
اکثریت کی کثیر آبادی جہاں کہیں بھی جیسے بدھسٹ ہوں جن کا تناسب میانمار کی آبادی کا 80 فیصد ہوتا ہے اُن کا ایسا ایقان ہے کہ ان کے مذہب کا یہاں خاتمہ ہوچکا ہے۔ اُن کی عبادت کرنے کا جو مرکز ہے وہ رنگون کے رہائشی علاقہ میں ہے۔ جہاں راہب کاکہنا ہے کہ ” یہاں کے ہر شہری کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی مذہب کے مفقود ہونے سے قبل اس کا تحفظ کرے۔ لیکن دیگر مذہب کے لوگوں پر حملہ کرنا اس کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے۔ جب اُس سے پوچھا گیا کہ بدھسٹ لوگ کیا اپنے مذہب کے تحفظ کی خاطر تشدد برتتے ہیں؟ راہب یہ سننے کے بعد وہ تھوڑا سا پریشان ہوگیا اور کہا کہ الفاظ کا غلط مطلب نکالا جارہاہے اور اس کے بعد اس نے گفتگو بند کرڈالی۔
لوگ جو بہادر شاہ ظفر کی درگاہ کے پاس تھے وہ بے چینی سے میانمار میں مذہبی تعلقات کے بارے میں گفتگو کررہے تھے۔ قادر معین الدین کیاب ڈرائیور اور کا سیلس مین تھا اس نے کہا کہ ” یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے اس طرح شیخ معین الدین کی جڑیں رامانتاپُرم ٹاملناڈو سے جڑی ہوئی ہیں۔ موضوع گفتگو تبدیل کرتے ہوئے اس نے جلدی میں کہنا شروع کیا کہ وہ اور اس کا خاندان اور دیگر ارکان جلد ہی ہندوستان چند دنوں میں جانا چاہتے ہیں۔ کیا یہ درگاہ ناگو ر جو ناگاپٹی نام میں ہے اس کے مماثل نہیں ہے۔ ہندوستان کے تامل شہری یقینا چاہتے ہیں کہ وہ ہندوستان کا دورہ کریں۔
مولوی نذیر احمد جو یہاں کی درگاہ کے سرکاری عہدیدار 1994 ءسے ہیں اس سے قبل وہ رنگون کی ملباری مسجد میں دس سال قبل یعنی 1984ءسے امامت کرتے تھے۔ بہت ہی خشوع و خضوع سے یہاں آنے والے سیاحوں کو بہادر شاہ ظفر کے بارے میں اور انگریزوں کے بارے میں معلومات دیتے ہیں۔
بیسوی صدی کے آغاز ہی کی بات ہے جب رنگون میں احتجاج شروع ہوا۔ اسی جگہ پر ایک پتھر تنصیب کیا گیا ہے جو ظفر رحمة اللہ علیہ کی قبر کے قریب ہے۔ دوسرا پتھر ان کی بیگم زینت محل کی قبر کے قریب ہی ایستادہ کیا گیاہے۔ برسوں سے یہ دونوں پتھروں کی پوجا کی جاتی تھی۔ جبکہ 1991ءمیں دونوں کی اصلی قبروں کی بازیافت ہوئی۔ جبکہ وہاں اس علاقہ میں ایک دعائیہ ہال کی تعمیر کے سلسلے میں کھدوائی ہوئی۔ اور اس کی بازیافت میں ہندوستان کی مدد لی گئی کہ یہ ہال کے نیچے تھی۔ یہ قبر ہال کے نو قدم کی دوری پر ہے جس پر چادر چڑھائی ہوئی ہوتی ہے اور وہاں معتقدین دعائیں مانگتے ہیں۔ گلاب کے پھول پنکھڑیاں چادر پر بکھیرتے ہیں۔ معتقدین یہاں آکر گھٹنے ٹیکتے ہیں، سر جھکاتے ہیں اور اس طرح ان پتھر پر چند منٹ کے لئے کھڑے ہوتے ہیں اس کے بعد گزر جاتے ہیں۔
وہ کمرہ جہاں یہ قبور آج بھی استعمال میں ہے لوگوں کو اس کے اطراف گھومتے ہیں۔ خاموشی سے دعائیں کرتے ہیں۔ ان کی آنکھیںجذبہ عقیدت سے بند رہتی ہیں۔
وہ دیوار جہاں بہادر شاہ ظفر کی تصویر برٹش عہدیدار، ان کی بیوی اور لڑکے کے ساتھ لگی ہوئی ہے اُسی کے نیچے اصل قبر ہے۔ ہندوستانی، پاکستانی لیڈر جنہوں نے وہاں حاضری دی اُن کے تصاویر وہاں درگاہ میں لگے ہوئے ہیں۔پرائم منسٹر نریندر مودی نے بھی 2017ءمیں یہاں حاضری دی تھی۔ احمد ہر تصویر کے پاس جاکر نشاندہی کرتے ہوئے سب آنے والے وی آئی پی کے نام لحن سے سنایا کرتا ہے۔
ایک سابقہ سفیر کے مطابق پاکستان کے سابقہ صدر جنرل پرویز مشرف نے یہاں کے لئے ایک خطیر رقم درگاہ کے محافظین کے پاس روانہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان تصاویر کے آگے جو شہنشاہِ ہند لکھا ہوا ہے اس کے آگے اور پاکستان بھی لکھا جائے۔ کیونکہ اس قسم کی تحریر باہر والے گیٹ پر درج ہے۔ لیکن ہندوستانیوں نے اس معاملہ میں پہل کرتے ہوئے میانمار گورنمنٹ پر فوقیت حاصل کی اور پاکستان کی امداد کو لینے سے منع کرنا پڑا۔ ظفر کے شاعرانہ کلام
کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لئے
دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں
یہ شعر درگاہ کی دیوار پر کندہ کیا ہوا ہے۔
بارہ سال پہلے کی بات ہے جب ایک جوشیلا گروپ ہندوستان میں حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ بہادر شاہ ظفر کی باقیات دہلی کو لائی جائے۔ ان کا یہ ایقان تھا اس طرح سے وہ بہادر شاہ ظفر کو خراج عقیدت پیش کررہے ہیں کہ کس طرح 1857ءکی مشترکہ و سیکولر تہذیب 1857ءسے قبل تھی اور ہندوستان جس کا بے مثال و بے نظیر ملک ہے لیکن ان مصیبت کے ایام میں ایسا لگتا ہے میانمار کو ظفر کی زیادہ ضرورت ہے۔

 

(مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com