غزلیات

ڈیسک
مدت ہوئی ہے تم بھی رگ جاں سے دور ہو
لیکن میرے وجود میں شامل ضرور ہو
لوگوں سے کیا کہوں میں تیری کیا مثال دوں
تجھ سا کوئی تو ہو، جسے تجھ سا غرور ہو
محفل میں چار سو ہے اندھیرا بچھا ہوا
رخ سے جو تم نقاب اٹھاو تو نور ہو
اک عمر کٹ گئی ہے اسی انتظار میں
شاید میرے  ہی دل میں تمہارا ظہور ہو
گر ہو سکے تو ساتھ چلو تم بھی دو گھڑی
ممکن ہے پھر یہ آگ کا دریا عبور ہو
منصف تمھیں ہی دار پہ کھینچیں گے دیکھنا
تم بے گناہ ہو کہ تمہارا قصور ہو
اک شمع کیا جلی کہ پتنگے مچل گئے
یا رب میرے غنیم کو اتنا شعور ہو
قیمت نہیں ہے کچھ بھی جو ثابت رہے جاویدؔ
اس دل کے آئینے کو کہو  چور چور ہو
سردار جاوید خان
مینڈر، پونچھ
رابطہ؛  9419175198
اشک کو آنکھ کی دہلیز پہ لایا نہ کرو
دل کے حالات زمانے کو بتایا نہ کرو
اپنی آنکھوں میں حسیں خواب سجایا نہ کرو
پیار کا تاج محل دل کو بنایا نہ کرو
خوشبوئے عشق بھی ہے عطر  کی خوشبو جیسی
سخت دشوار ہے اے یار چھپایا نہ کرو
خود ہی سانپوں کو بلا لیتے ہو اپنے گھر میں
پیڑ چندن کے تم آنگن میں لگایا نہ کرو
رب تو ہے شافی ٔمطلق، ہے شفا بخش وہی
سر درِ غیر پہ تم اپنا جھکایا نہ کرو
خواب کے جتنے گھروندے ہیں بکھر جائیں گے
اپنی پلکوں پہ کوئی خواب سجایا نہ کرو
لڑکیاں ہوتی ہیں گر شیش محل کی مانند
پیار سے دیکھو نظر بد تو   لگایا نہ کرو
بوندا باندی بھی مقدر میں نہیں ہے زریاب ؔ
اپنے آنگن میں یہ برسات سجایا نہ کرو
 ہاجرہ نور زریاب
آکولہ مہاراشٹر
رابطہ9922318742
جدا نہ ہوکے بھی جدا ہوئے ہیں
بھری محفل میں جو تنہا ہوئے ہیں
یہ تم پر ہی ستم نہیں اے دوست
وہ ہم سے بھی اکثر خفا ہوئے ہیں
کچھ وہ بھی نہیں تھے ہدف پہ ہمارے
کچھ تیر ہم سے بھی خطا ہوئے ہیں
ضیائیؔ کو ملتا ہے بس تیرا سہارا
ہم مجبور جب بھی اے خدا ہوئے ہیں
امتیاز احمد ضیائی
پونچھ، 9697618435