طلاق ثلاثہ بل:شوہر جیل میں ہوگا تو بیوی بچوں کا گزر بسر کیسے ہوگا :مجید میمن

ممبئی 17دسمبر:مرکز کی مودی حکومت نے طلاق ثلاثہ کی روک تھام کے لیے ایک بل کے مسودے کو کابینہ میں منظوری دے دی ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ حکومت آئندہ ہفتہ بل کو قانونی شکل دینے کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کرے گی جس میں کئی قانونی پیچیدہ پائی جاتی ہیں ،شرعی اموراور معاشرے پر پڑنے والے اثرات کا حکومت نے بغورجائزہ نہیں لیا ہے ۔اس کا اظہار این سی پی کے ایم پی اور سنیئر وکیل مجید میمن نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کیا اور انہوں نے اس سنگین مسئلہ پر جمعیتہ علماءکے صدرارشد مدنی سمیت متعدد عالم دین اور قانون دانوں سے صلاح مشورہ کیاہے ۔ایڈوکیٹ مجید میمن نے کہا کہ حکومت کو مسلم علماءاور ممبران پارلیمنٹ سے تبادلہ خیال کرنا تھا اور اس کے بعد ہی اس قسم کا قانونی بل پیش کرنا تھا ،لیکن حکومت نے اس پہلو کو نظرانداز کردیا گیاہے ۔اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ مسلمان ممبران پارلیمنٹ کو ایک حکمت عملی تیار کرناہوگااورحکومت کو یہ بھی مشورہ دیا جائے کہ بل کو غوروخوض کے لیے پارلیمانی سلیکٹ کمیٹی کے حوالے کردیا جائے ۔کیونکہ مذکورہ بل میں متعدد چیزیں واضح نہیں ہیں کیونکہ فوری تین طلاق دینے پر اگر شوہر کو تین سال کی جیل ہوجاتی ہے اور بیوی اور بچوں کا گزر بسر کیسے اور کہاں ہوگا ،اس کے حقوق کیا ہوں گے کیونکہ اس بل کے تحت طلاق واقع نہیں ہوگی تو اس کی اور بچوں کے اخراجات کون برداشت کرے گا ۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اگر بل میں یہ دفعہ ہو کہ تین طلاق واقع ہوگئی ہے تو مسئلہ نہیں پیدا ہوتا ہے ،لیکن شادی برقرار رہنے کی صورت میں خاتون کو معاشرے میں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا ،وہ سسرال میں رہتی ہے تو اہل خانہ کا رویہ کیسا رہیگا ،ان چیزوں کو واضح نہیں کیا گیا ہے ۔یہ بل پریکٹیکل نہیں ہے ۔ایڈوکیٹ مجید میمن نے کہا کہ مسلم مسائل طوطا چشمی کرنے والی بی جے پی حکومت اچانک اس مسئلہ میں حد سے زیادہ ملوث ہوگئی ہے ۔جہاں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ ایک بار میں طلاق ثلاثہ ناجائز اور آئین ودستور کے خلاف ہے اور وہ طلاق نہیں مانی جائے گی۔اس بات سے ہم متفق ہیں ،لیکن سرکار اس بات کو بھول رہی ہے کہ طلاق بدعت نہیں ہوتی ہے تو شادی ختم نہیں ہوتی ہے اور اس کے الزام میں شوہر جیل چلاجائے گا تو اس کے رشتہ دار او رشوہر کے شتہ دار کے ساتھ ساتھ معاشرے کا دباو رہیگا کہ عورت تین سال کیا کرے گی تو شوہر کو جیل سے باہر نکالنے کے لیے اسے ہی جدوجہد کرنا ہوگااسی طرح جرمانہ کی رقم بھی وہ جمع کرے گی۔ہاں اگر یہ ہوکہ طلاق ثلاثہ کے ساتھ رشتہ ختم ہوگیا تو اس سے بیوی کے اخراجات وصول کیے جاسکتے ہیں ورنہ شادی برقرار رکھتے ہوئے ،شوہرکو جیل بھیجنے کا فیصلہ عملی طورپر ٹھیک نہیں ہے اور اس نے مسئلہ کومزید سنگین بنادیا ۔جبکہ شرعی طورپربھی کئی مسائل پیدا ہوں گے ،اور شاہ بانو کیس جیسا معاملہ بن جائے گا۔جس میں بعد میں تشکیل دیئے گئے قانون کے تحت وہ عدت کے بعد نان ونفقہ کی حقدار نہیں ہوتی ہے ۔