ایف ڈی آئی اور سیاست

مودی حکومت نے مینوفیکچرنگ شعبے میں 100 فیصد ایف ڈی آئی کو منظوری دے دی ہے، جبکہ ساتھ ہی ائیر انڈیا میں 49 فیصد ایف ڈی آئی کو منظوری مل گئی ہے۔ بی جے پی نے یوپی اے کے دور میں اسی ایف ڈی آئی پر بہت ہنگامہ کیا تھا۔ بی جے پی کا کہنا تھا کہ چھوٹے کاروبار اور کمپنیاں تباہ ہوجائیں گی ۔ گھریلو مصنوعات پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔ کسانوں اور غریبوں کا استحصال ہوگا۔ مودی جی نے 2012 میں ٹوئٹ کر کسی بھی طرح کی ایف ڈی آئی کو ملک کے لئے مضرت رساں بتایا تھا،لیکن آج جب انھیں کی صدارت میں کابینہ نے 49 فیصد ائیر انڈیا اور 100 فیصد مینو فیکچرنگ شعبہ میں ایف ڈی آئی کو منظوری دے دی ہے تو وہ نہ صرف فائدہ مند ہے بلکہ ملک اور ملکی عوام کی زندگی کو تبدیل کر دینے والا بھی ہے۔ کانگریس کی معمولی سطح کی ایف ڈی آئی کیسے نقصان دہ تھی اگر بی جے پی کی 100 فیصد ایف ڈی آئی فائدہ مند ہے ۔ اب یہ بات کہی جارہی ہے کہ اس سے غریبوں کو سستے داموں پر گھر فراہمی میں آسانی ہوگی ۔چونکہ مودی جی نے 2022 تک تمام لوگوں کو گھر دینے کا وعدہ کیا ہے اس لئے یہ اس جانب اٹھایا گیا ایک بہترین قدم منوایا جارہا ہے ۔یہ الگ بات کہ اس حقیقت کو حتی الامکان چھپانے کی کوشش ہورہی ہے کہ ابھی تک جس قدر ایف ڈی آئی نے تعمیراتی شعبے میں کام کیا ہے اور سرمایہ کاری کی ہے اس میں سب لگژری اور سپر لگژری فلیٹ اور مکانات تعمیر کئے ہیں۔ نہیں معلوم کہ وہ ہندستان کے کونسے غریب ہیں جو لگژری اور سپر لگژری گھر کےلئے تیار ہیں۔لیکن اس بات کو ایف ڈی آئی کے فوائد میں نمایاں طور سے شمار کرایا جارہا ہے ۔ابھی حالیہ دنوں میڈیا کہ رپورٹ میں پتہ چلا کہ ٹھنڈ لگنے کی وجہ سے صرف دہلی کے اندر 44 بے گھر افراد کی موت ہوگئی ہے۔ ایسے ملک میں جہاں صرف دہلی میں 1لاکھ سے زائد لوگ سڑکوں پر سوتے ہیں ان کے بارے میں یہ تصور کرنا کہ وہ ایف ڈی آئی سے استفادہ کریں گے نہ صرف ایک بھونڈا مذاق ہے بلکہ غیر انسانی سیاست کا قبیح چہرہ بھی ہے۔ اس طرح کے غریب عوام کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعہ تعمیرکی گئی بلڈنگوں سے کہیں زیادہ ایک ایسے آشیانے کی ضرورت ہے جو وہ بسا اوقات غیر قانونی طریقے سے بنا لیتے ہیں اور پھر اسے میونسپل کارپوریشن کا جی سی بی اجاڑدیتا ہے۔ ایف ڈی آئی  سے صرف نقصان ہی نہیں ہے اس کے فوائد بھی ہیں لیکن یہ فائدہ بجا طور پر ہرشخص کو نہیں پہنچے گا ۔ائیر انڈیا میں تو کسی ان پڑھ اور گنوار شخص کو کام ملنے سے رہا ۔اسی طرح ملٹی نیشنل کمپنیوں میں نوکری تو دور ایک کسان مزدورکا گزر بھی مشکل ہے ۔تعمیرات کے شعبے میں البتہ کچھ گنجائش ہے جہاں مزدوروں کے لئے روزگار کے مواقع مہیا ہونگے کیونکہ ابھی اس شعبہ میں بہت حد تک کسی ڈگری اور تعلیمی پیمانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہندستان میں صرف سیاست اور مزدروی دو ہی شعبے ایسے ہیں جہاں کسی ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی ۔کوئی بھی شخص جس کے بدن میں طاقت اور کرنے کی ہمت ہو وہ مزدور بن سکتا ہے ۔اسی طرح کوئی بھی شخص جس کے پاس پیسے اور مکاری کے تمام تر حربے ہوں وہ لیڈر اور سیاست داں بن سکتا ہے ۔ خیر ایف ڈی آئی سے مزدروں کےلئے تھوڑی سی امید کی جاسکتی ہے مگر اسی حد تک کی وہ صرف بلڈنگ بنائیں اور بلڈنگ بن جانے کے بعد فٹ پاتھ پر بیٹھ کر اس کے منزلیں شمار کریں۔ ائیر انڈیا میں ایف ڈی کی منظوری بلا شبہ سرکاری املاک کے پرائیوٹائزیشن کا ایک قدم ہے۔2012 میں مودی جی کے مطابق جن پارٹیوں نے ایف ڈی کی منظوری کوتسلیم کرلیا تھا وہ سی بی آئی سے ڈرگئیں تھیں مگر اس وقت مودی جی کس سے ڈرے ہیں اوراور کانگریس کو کس سے حوصلہ مل گیا ہے یہ تو صرف دونوں پارٹیاں ہی بتا سکتی ہیں، لیکن ایک بات تو صاف ہے کہ 100فیصد ایف ڈی آئی نوٹ منسوخی اور جی ایس ٹی کے ڈیمج کنٹرول کا ایک حصہ ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ڈیمج کنٹرول ہوسکے گا ،اسی طرح 49 فیصد ایف ڈی سے کیا کوئی غیر ملکی کمپنی ائیر انڈیا میں دلچسپی دکھا سکے گی یہ جانتے ہوئے کہ ائیر انڈیا50 ہزار کروڑ کی مقروض ہے۔ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا مگر سیاست کا مکروہ اسی وقت دکھائی دینے لگا ہے

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com