مملکت توحید سعودی عرب سے دشمنی ہر حال میں ضروری کیوں؟

 ڈاکٹر اجمل منظور مدنی

 

ایران میں کیا ہو رہا ہے؟

بعض عربی اخبارات کی طرح ایرانی مظاہروں کی صحیح عکاسی کرتے ہوئے انگریز ی روزنامہ (THE HINDU) نے بھی آج کا (10/جنوری 2018)اپنااداریہ اس نام سے لکھا ہے: (The Iranian crisis is not yet over) جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اب تمام رافضی اور تحریکی مل کر بھی جانبی غیر اہم ایرانی خبروں کو شائع کرکے ایرانی مظاہروں کو چھپا نہیں سکتے ۔ آتش کدے میں آگ لگی ہوئی ہے۔ ایران جل رہا ہے۔ دو ہفتے سے مسلسل ظالم رافضی جبری ڈکٹیٹر حکومت کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں۔ سابق صدر احمدی نجاد سمیت بڑے بڑے سیاسی رہنمااس مظاہرے میں مظلوم عوام کا ساتھ دے رہے ہیں۔ داخلی ایرانی فوج، ظالم حکمرانوں کی حفاظت کرنے والی باسیج کمانڈو فوج حتی کہ دوسرے ممالک تک میں ظلم ڈھانے والی پاسداران انقلاب فوج کے بہت سارے فوجی اس مظاہرے میں شامل ہو رہے ہیں۔ باسیج ملیٹری کے کمانڈرمصطفی دہباشی بھی فوج سے نکل کر مظاہرین کا ساتھ دے رہے ہیں اور رافضی حکومت کو ظالم اور خونی حکومت بتارہے ہیں۔ ان کی ویڈیو کلپ سوشل میڈیا میں گشت کر رہی ہے گوگل میں ان کا نام لکھ کر ڈھونڈا جاسکتا ہے۔ بپھری ہوئی عوام نے مرکزی بینک کو جلا دیا جس سے دنیا کی سب سے کمتر اور گھٹیا ترین ایرانی کرنسی مزید ڈبکی مارتے ہوئے تحت الثری میں پہونچ چکی ہے(چنانچہ ایران کی کرنسی اس وقت ایک امریکی ڈالر کے مقابلے ساڑھے چھتیس ہزار(36500) ایرانی روپئے بنتے ہیں)۔تین ہزار سے زیادہ لوگوں کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے جہاں انہیں سخت سزائیں دی جارہی ہیں ان میں سے کئی ایک جاں بحق بھی ہو چکے ہیں۔ احمدی نجاد سمیت کئی ایک سیاستدانوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ لیکن مظاہرہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ روحانی اور خامنئی پر موت کے نعرے مسلسل لگ رہے ہیں۔ باہر سنی ممالک میں ظلم کرنے والی رافضی ایرانی ملیشیاؤں کی واپسی کا مطالبہ زور شور سے ہورہا ہے۔ 8/ جنوری کا حادثہ ہے دریائے جنوبی چین میں ایک بڑا تیل بردار ایرانی جہاز ڈوب گیا ہے جس میں لاکھوں بیرل تیل کا نقصان اور تیس ایرانی ہلاک ہوئے ہیں ۔  ایران کی قدس ملیشیا فورس قاسم سلیمانی کی قیادت میں عراق اور شام کے اندر سنی مسلمانوں کو داعش اور دہشت گرد کہہ بری طرح انہیں 2003 سے قتل کر رہے ہیں ان کی مسجدوں اور مدرسوں کو گرا رہے ۔ ان کی عورتوں کی عزت لوٹ رہے ہیں۔ عراق میں کئی ایسے واقعے دل کو دہلا دینے والے سامنے آئے جنہیں دیکھ کر انسانیت کی روح کانپ اٹھتی ہے یعنی سنی مسلمانوں کو ان ایرانی رافضیوں نے پٹرول سے جلا کر تڑپا تڑپا کر مارا اور پھر ٹھنڈک کے موسم میں انہیں الاؤبناکر اپنے بدن کو سینکا۔ لیکن ان خبروں کو ان تحریکیوں اور رافضیوں نے کبھی عراق سے باہر نہیں آنے دیا نہ کسی انگریزی اخبارات میں اور نہ ہی اردو وعربی اخبارات میں اور نہ ہی عالمی شہرت کے حامل الجزیرہ چینل نے انہیں دکھایا۔ فرض کریں اگر ایسے واقعات سنیوں نے رافضیوں کے خلاف کئے ہوتے تو کیا یہ تحریکی اور رافضی خاموش بیٹھے رہتے ۔  یمن میں ایران حوثی باغیوں کی اسلحہ سے مدد کررہا ہے ۔ حوثی ریاض پر ایرانی میزائیل پھینک رہے ہیں۔ اسی ایرانی میزائیل کو خانہ کعبہ پر پھینک کر اپنے ازلی اسلام دشمنی کا ثبوت دے رہے ہیں لیکن خبروں میں اس بات کا کہیں تذکرہ نہیں کیا جاتا کہ ایرانی سپورٹ سے حوثیوں نے ایسا کیا ہے۔ تحریکی اور رافضی اس پر کہیں نہیں احتجاج کرتے نہ ایران میں نہ پاکستان میں نہ شام میں نہ ہی لبنان میں ۔ ایسا کیوں؟ سنی مسلمانوں نے حوثیوںکے خلاف بہت لکھااور احتجاج بھی کیا ۔ پھر آخر تحریکی اور رافضی کیوں خاموش رہے۔ کیا انہیں کعبہ سے محبت نہیں ہے؟ اس کی حرمت ان کی نگاہ میں کچھ بھی نہیں؟ رافضی کو چھوڑئیے یہ تحریکی آخر کیسی خلافت قائم کرنے کی بات کرتے ہیں ؟ اس خلافت سے کیا فائدہ جہاں خانہ کعبہ کی حرمت نہ ہو؟  خود ایران کے اندر احواذی عرب سنیوں کے ساتھ ایرانی حکومت آئے دن کتنا ظلم کرتی ہے خاص کر حالیہ دنوں میں، کردستانی علاقے میں سنی کردوں کے ساتھ اور اسی طرح بلوچستان میں سنی مسلمانوں کے ساتھ کتنا ظلم کر رہی ہے ، معمولی معمولی غلطیوں پر بلکہ شک ہوجانے پر انہیں پھانسی دے دینا اور جیل میں تا عمر ڈال دینا ایک عام سی بات ہے لیکن یہ ساری خبریں کبھی نہیں دکھائی جاتی ہیں۔  حالیہ ایران میں عوام مظاہرے کو یا تو نظر انداز کیا جا رہا ہے یا کمتر بنا کر دکھایا جارہا ہے۔ بلکہ الٹا جھوٹ میں مظاہرین مخالف نعرے دکھائے جارہے ہیں ۔ کوئی برے انجام کی دھمکی دیتا نظر آرہا ہے ۔ کوئی کہہ رہا ہے یہ ایک معمولی بغاوت تھی جسے ختم کردیا گیاہے۔ بلکہ کوئی اخبار ایٹمی معاہدے کو چھیڑ کر امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے خلاف لمبا چوڑا مضمون چھاپ رہا ہے۔ کوئی مظاہروں کو نظروں سے غائب کرنے کیلئے اس بیان کو اہمیت دیکر شہ سرخیوں میں جگہ دے رہا ہے جس میں حسن روحانی نے حکم دیا ہے کہ ملک کے مدارس سے انگریزی زبان کو نکال دیا گیا ہے تاکہ مغربی کلچر سے بچے دور ہوجائیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایران جیسا ماحول عرب میں بالخصوص سعودی عرب میں ہوتا تو کیا یہ اخبارات اس پرچپی سادھے بیٹھے رہتے؟  ابھی حال ہی میں لبنانی وزیر خارجہ حزب اللہ کے حلیف جبران باسیل نے ایک تحریکی ٹی وی (المیادین) کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے اور اسرائیل کے درمیان کوئی نظریاتی اختلاف نہیںاور نہ ہی ہم اسکے وجود کے انکاری ہیںنیز اسرائیل کو بھی اپنے تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہمیں ہر ایک کو تسلیم کرنا ہوگا۔سعودی عرب کے تعلق سے ویسے بھی جھوٹی خبریں چھاپی جاتی ہیں لیکن اگر کوئی سعودی وزیر اس طرح بیان دیدے تو اخبار اور میڈیا والے کیا کیا لکھ کر دکھادیں گے تصور نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اس عالمی چینل کے اس خبر کو کتنے اخبار نے چھاپا اور اس پر تبصرہ کیا ڈھونڈتے رہیں گے اور کہیں ملے گی بھی تو ایک جانبی خبرکے طور پر۔ وہاں نہ حزب اللہ پر کوئی تبصرہ ہوگا نہ حزب اللہ کے دھونس میں چلنے والی لبنانی سرکار پر کوئی کمنٹ ہوگا اور نہ ہی اس سرکار کی پشت پناہی کرنے والے ملک ایران پر کوئی کمنٹ ہوگا۔

ترکی میں کیا ہو رہا ہے ؟

ہزاروں لوگوں کو حکومت مخالف سرگرمیوں میں مبتلا ہونے کا الزام لگا کر جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ ہزاروں لوگوں کو نوکریوں سے بے دخل کرکے تحریکیوں کو نوکری دے دیدی گئی ہے۔ بغاوت کا ناٹک کرکے قوم سے جھوٹی سرخروئی حاصل کئی گئی پھر بغاوت کے الزام میں ہزاروں فوجیوں کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ تحریکی جس مغرب پرستی کی برائی کرتے نہیں تھکتے یہی ترکی یورپی یونین میں شمولیت کے لئے برسوں سے ہاتھ پیر مار رہا اور اس کے لئے یورپ والوں کے تلوے چاٹ رہا ہے پھر بھی وہ ترکی کو شامل کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ارمن نسل کشی کے الزام کے ڈر سے یہودی لابی سے ملکر محاذ بنائے ہوئے ہے جو ہر ایک دوسرے کی مکمل مدد کررہے ہیں۔ اوپر سے بندر بھپکی اور سرکاری طور پر ہر طرح سے اسرائیل سے دوستی برقرار ہے حتی کہ حال ہی میں گیس خریدنے کا معاہدہ طے پایا ہے اور ساتھ ہی یورپی ممالک تک گیس پہونچانے کیلئے ترکی اسرائیل کو اپنے ملک سے راستہ بھی دینے کیلئے تیار ہے۔  روسی ملحدوں اور ایرانی رافضیوں سے مل کر شامی مسلمانوں کو برباد کرنے میں اصلی کردار اردگان نے ادا کیا ہے۔ ادلب کی بربادی ، حلب کی بربادی اور فی الحال غوطہ کی بربادی میں اصل کردار اردگان کاہے ۔ عراق کے اندر سنیوں کے ملک کردستان بننے سے ایران اور عراق کے ساتھ مل کر اردگان نے رکوایا ہے جس کی وجہ سے رافضی ملک ایران اور عراق دونوں کی چکی میں کرد سنی مسلمان پس رہے ہیں اسکا ذمیدار اردگان ہی ہے۔ حال ہی میں اماراتی وزیر خارجہ کے ٹیوٹ پر جس طرح اردگان نے عربوں پر ترکوں کے ظلم کا دفاع کیا وہ نسل پرستی کی ایک بدترین مثال ہے۔ ایرانی مظاہرین کو دھمکی دینے اور ظالم حکومت کی مدد کرنے کی جس طرح یقین دہانی کرائی ہے اس سے روافض پرستی کی بین مثال اور کوئی نہیں ہوسکتی۔  ایرانی مظاہرہ کے ایک ہفتے کے بعد چار جنوری کو ترکی وزارت خارجہ کی طرف سے سختی کے ساتھ یہ ہدایت جاری کی گئی کہ ایرانی حکومت کے خلاف مظاہرین کے حق میں کسی بھی قسم کا بیان یا سوشل میڈیا میں کوئی پوسٹ قابل جرم ہوگا۔ اور ابھی گزشتہ 8/ جنوری کو قطری حکومت کے مطالبے پر وہاں کے نائب امیر شیخ عبد اللہ بن حمد کے محل میں جس طرح ترکی فوج نے حملہ کرکے انہیں گرفتار کیا اور اہل خانہ کو پریشان کیا تاکہ ان کی جگہ حالیہ امیر قطر تمیم بن حمد کے سگے بھائی جوعان بن حمد آل ثانی کو نائب امیر بنایا جائے۔ ساتھ ہی شیخ عبد اللہ کے گھرانے کے 12/ افراد کو بھی قید کر لیا گیا ہے۔ (www.alwafd.org-2018-1-8)-  (www.elblad.news/3114158) صرف اسی آخری خبر کو اگر دیکھا جائے تو اسے عالمی خصوصا برصغیر کے اخباروں میں کوئی جگہ نہیں ملی ہے۔ جبکہ اگر اس طرح کی خبر سعودی کے تعلق سے ہوتا تو ہر چھوٹے بڑے اخبار میں سرخیوں کے ساتھ جگہ بناتی ۔ بلکہ اس پر نہ جانے کیا کیا کہانیاں بناتے۔ اور سعودی حکومت کے ظلم وستم پر ٹیلی ویزن پر ڈی بیٹ ہوتے ، اداریئے لکھے جاتے ۔ انقلاب ، اردو ٹائمز، راشٹریہ سہارا، ملٹ ٹائمز، دعوت آن لائن، افکار ملی، ملی گزٹ، ابلاغ نیوز پورٹل جیسے بہت سارے رافضی اور تحریکی پرچے واخبارات کے صفحات پرصفحات لال کالے ہوجاتے۔

قطر میں کیا ہورہا ہے؟

قطر بغیر مانگے رافضی حکومت ایران کو اربوں ڈالر زبردستی مظاہرین کو ختم کرنے کیلئے مدد دے رہا ہے۔ ایران کے ہاتھ پورا ایک جزیرہ بیچ رہا ہے جس کا سودا ہوچکا۔ وہ اسلام دشمن کٹر یہودی جنہوں نے فلسطینیوں کو ان کے اراضی سے بے دخل کرکے اپنی کالونیاں بنا لی ہیں ، فسطینی مہاجر بن کر دوسرے ملکوں میں رہ رہے ہیں اور غاصب یہودی ان کی سرزمین پر عیش کر رہے ہیں اور انہی یہودیوں میں سے کچھ اب تک یورپ میں رہ رہے ہیں جنہیں فلسطینی سرزمین غصب کر کے مزید کالونیاں بناکر رہنا ہے اور اسرائیل اس کے لئے کسی نہ کسی طریقے سے راہ ہموار کرتا رہتا ہے ۔ ان یہودیوں نے اسرائیل سے باہر اپنی ایک تنظیم (قدیم یہودی جنگجوؤں کی جمعیت) کے نام سے بنا رکھی ہے۔ انہیں دشمنان اسلام کٹر یہودی صہیونیوں کو کالونی بنانے کے نام پر مذکورہ یہودی تنظیم کے کھاتے میں(2.2) ملین یورو/تقریبا (10)ملین ریال حالیہ قطری امیر تمیم بن حمد نے چندہ دیا ہے ۔  ترکی فوج کے ذریعے نائب امیر شیخ عبد اللہ بن حمد کے خلاف ان کے محل میں حملہ کراکے ابھی گزشتہ شب یعنی8/جنوری کی رات کو انہیں گرفتار کروا دیا گیا۔ان کے اہل خانہ میں سے بارہ افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ قطر میں انقلاب کی سی کیفیت ہے۔ حالیہ امیر تمیم کے باپ حمد بن خلیفہ فی الحال لندن میں ہیں ان کے آنے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور کہا جارہا ہے انہی کے اشارے پر تختہ پلٹ کی کوشش ہونے والی تھی جس کے شک میں حالیہ امیر نے یہ کارروائی کی ہے جس میں ترکی اور ایران نے پورا ساتھ دیا ہے۔کیونکہ امیرتمیم امریکہ ، اسرائیل اور ایران کے تعاون سے اپنے باپ کو زبردستی معزول کر وا کے جون 2013میں قطر کا امیر بن بیٹھا ہے ۔ جبکہ باپ خود 1995میں اس وقت کے امیر خلیفہ بن حمد آل ثانی کو زبردستی ہٹاکر امیر بن گیا تھا ۔ اسی لئے حالیہ امیر کو عاق بن عاق سے جانا جاتا ہے یعنی نافرمان باپ کا نافرمان بیٹا۔ لیکن اس عاق بن عاق کی کوئی کہانی آپ کو کسی تحریکی اور رافضی اخبار میں نہیں دکھائی دے گی ۔ یہ لکھیں گے تو صرف مہربان باپ کے فرمانبردار بیٹے کے تعلق سے پروپیگنڈے اور جھوٹی خبریں۔ قطر میں امریکی فوجی اڈہ برسوں سے یعنی 2001 سے موجود ہے لیکن اس پر کبھی کوئی تحریکی یا رافضی بولنے یا احتجاج کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ اور نہ ہی انہیں اس پر کوئی ملال ہے۔ جب کہ یہی امریکی فوج جب سعودی میں تھی تو یہی تحریکی آسمان کو سر پر اٹھائے ہوئے تھے ۔ ریاض میں باقاعدہ احتجاج کرنے گئے تھے ۔ اور ملک فہد نے انہیں سمجھایا تھا کہ مجبوری میں کافروں سے مدد لینا جائزہے ، ہمارا ان کے ساتھ دس سالوں کیلئے معاہدہ ہے ، مدت پوری ہونے پر نکل جائیں گے۔ اور وہی ہوا مدت پوری ہونے پر 2001 میںنکل گئے۔ سوال یہ ہے کہ سعودی پر صدام حسین نے کویت پر قبضہ کرکے سعودیہ پر حملہ کردیا تھا اور اس وقت سعودی اتنا مضبوط نہیں تھا اس لئے امریکہ سے مدد مانگی تھی۔ لیکن قطر پر کون حملہ کرنے جارہا تھا کہ اس نے امریکہ کو اپنی زمین سونپ دی ہے اور اب تک امریکہ قطر کے عدید نامی اہم اسٹراٹیجک علاقے پر فوجی اڈا بناکر بیٹھا ہوا ہے۔ بلکہ امریکہ نے وہیں سے سارے حملے عراق پر کئے ہیں۔ 2003میں عراق حملے میں امریکہ نے سعودی سرزمین کو مانگا تھا عراق پر حملہ کرنے کیلئے لیکن سعودی نے صدام حسین سے دشمنی کے باوجود عراقی عوام کا خیال کرتے ہوئے اسے اجازت نہیں دی تھی جس پر عراقی حکومت نے سعودی کی تعریف کی تھی۔  کیا اگر اس طرح کے واقعات سعودی میں پیش آرہے ہوتے تو یہ تحریکی اور رافضی خاموش رہتے جس طرح ان حالات کو دنیا کے سامنے نہیں آنے دے رہے ہیں۔ بلکہ الٹا ان پر پردہ ڈالنے کیلئے سعودی اور اس کے اتحادیوں پر پینک نظر بنائے ہوئے ہیں ۔ کون کھانس رہا ہے ۔ کون کہاں کا سفر کر رہا ہے؟ سعودی کس سے اسلحہ خرید رہا ہے؟ سالانہ بجٹ میں اضافہ کیوں کیا گیاہے؟ سعودی میں عورتوں کو کھیل میں مشارکت کی اجازت مل گئی ہے۔ گاڑی چلانے کا انہیں لائسنس مل رہا ہے۔ کون سی عورت ریاض میں فلاں سڑک پر گاڑی چلا رہی ہے۔ کون سی عورت نے اپنے شوہر سے طلاق لے لیا ہے۔دنیا میں سب سے زیادہ پٹرول پیدا کرنے کے باوجود پٹرول کا دام بڑھا دیا ہے۔ سعودی نے تنخواہوں میں کمی کیوںکر دی ہے؟  انکی نظر میں جتنی منفی خبریں ہوتی ہیں سب مرچ مسالہ لگا کر چھاپتے رہتے ہیں۔ انہیں مثبت خبریں چھاپنے کی کبھی توفیق نہیں ہوتی۔ قطار الحرمین جو مدینہ سے مکہ صرف نوے منٹ میں پہونچا رہی ہے اسے کبھی نہیں چھاپیں گے۔ قرآن کمپلیکس کے طرز پر حدیث کمپلیکس کی خبر کبھی نہیں بتائیں گے بلکہ اسے الٹا کرکے رافضیوں کے ساتھ تحریکیوں نے بھی چھاپی ہے اسکے اصل مقصد کو نہ بتا کر یہ بتایا گیا کہ حدیثوں کو نئے سرے سے ترتیب دیا جائے گا ،جو ان کے من کی ہوگی اسے لے لیا جائے گا اور جو من کی نہیں ہوگی اسے نکال دیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا قرآن کمپلیکس کا مقصد یہی تھا ؟ اسی مقصد پر قیاس کیوں نہ کیا گیا ۔ جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ اسکا بھی مقصد اللہ کی کتاب کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں کو زیادہ سے زیادہ شہرت دینا ہے اور تاکہ ہر مسلمان کے گھر میں حدیث پہونچ جائے اور ہر مسلمان اپنی زبان میں ترجمہ کے ساتھ قرآن کی طرح حدیث بھی پڑھنے لگے۔ لیکن چونکہ ان کے مسلک ومذہب کے نام پر ہونے والے دھندے پر یہ ایک زبردست دھچکا ہے ۔ اسی لئے اس کے خلاف منفی خبریں اڑائی گئیںتاکہ لوگ اس کے تعلق سے بدگمان ہوجائیں اور جب انہیں مفت میں وہاں سے چھپی حدیث کی کتابوں کو دیا جائے تو لینے سے انکار کردیں۔ (نعوذ باللہ من ہذا الہدف الخبیث) سعودی عرب نے حال ہی میں روس سے بھاری بھرکم تیز رفتار نشانے پر پرفیکٹ پہونچ کر کام تمام کرکے سرعت سے واپس آنے والا جیٹ طیارے(Superjet, MC-21 Aircraft) کے ساتھ وہاں کا سب سے مضبوط انٹی میزائل سسٹم (S-400 Air Defence) خریدا ہے اور ساتھ ہی امریکہ سے بھی وہاں کا سب سے مضبوط انٹی میزائل سسٹم(THAAD) خریدلیا ہے ۔ اس طرح روس اور امریکہ دونوں کا انٹی میزائیل سسٹم سعودی کے پاس موجود ہے۔ ان خبروں کو کسی تحریکی اور رافضی نے مثبت انداز میں ذکر نہیں کیا ہے۔ مقصد بالکل واضح ہے کہیں لوگ سعودی کو ایران سے مضبوط ملک نہ سمجھنے لگیں۔ سعودی کے تعلق سے جو یہ مشہور کر رکھا ہے کہ وہ تیل کی دولت پاکر عیش کر رہے ہیں ۔ ان کے پاس کوئی دفاعی نظام نہیں ہے وہ امریکی دفاعی مدد پر جی رہے ہیں ۔اگر لوگوں کو ایسی خبروں کی بھنک لگے گی تو سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ سعودی بھی فی الحال دفاع میں کسی کا محتاج نہیں ہے ۔ وہ تنہا کسی بھی ظالم ملک سے ٹکر لینے کیلئے کافی ہے۔ اگر لوگ اس حقیقت کو جان لیں گے پھر تو ان کے کاغذ کے شیر اور ریشم کے سردار کی کوئی حیثیت نہیں رہ جائے گی۔  ابھی اس وقت سوشل میڈیا میں ایک تصویر بہت تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ دراصل سعودی میں قصیم علاقے کے اندر ایک بہت بڑی کھجوروں کی کھیتی ہے جو راجحی کی ملکیت ہے۔ اس میں کل دو لاکھ کھجور کے درخت ہیں۔ اس کھیتی کے تمام کھجور وقف للہ ہیں یعنی ذاتی استعمال میں نہیں لا سکتے بلکہ صدقہ وخیرات ا ور غریبوں کی امداد کیلئے ہے جسے رفاہی تنظیموں کے ذریعے سعودی کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں ممکن حد تک پہونچایا جاتاہے۔ رمضان کے مہینے میں حرمین شریفین میں بھیجا جاتا ہے۔ دنیا میں اسے سب سے بڑا وقف للہ سمجھا جاتا ہے۔ گنیز بک آف ریکارڈ میں اسے کھجوروں کا سب سے بڑا کھیت مانا گیا ہے۔ لیکن اس خبر کو آپ کسی اردو ، ہندی یا انگریزی اخبار میں نہیں دیکھیں گے۔ لیکن فرض کرلیں اگر یہی خیر کا کام اس قدر شہرت کا حامل ایران، ترکی یا قطر کے اندر انجام پایا ہوتا تو کیا آج کی زرد وکالی صحافت اس پر خاموش رہتی؟ اگر انہیں سعودی کے تعلق سے ان کے حساب سے کوئی منفی خبر نہیں بن پاتی ہے توپھر جھوٹی اور من گھڑت خبریں لگا کر عالمی خبروں کا صفحہ بھر دیتے ہیں ۔ مثلا کیا محمد بن سلمان وہابی ازم کو ختم کرنے میں کامیاب ہوپائیں گے یا نہیں؟ اب اس پر لمبی چوڑی کہانی گڑھ کر بیان کی جائیگی اور اسی ایک خبر پر انٹر نیشنل صفحہ ختم ہوجائے گا۔ اور اس طرح ایران میں کیا ہورہا ہے کچھ پتہ نہیں چل سکے گا۔ قطر میں کیا کھیل کھیلا جارہا ہے کسی کو کوئی بھنک نہیں لگ پائے گی۔ شام و عراق کے مظالم اور حالیہ ایران کے مظاہروں سے نظریں ہٹانے اور سعودی سے دشمنی نبھانے اور اسے بلا وجہ جرم کے کٹگھڑے میں کھڑا کرنے کیلئے کیسی کیسی سعودی کے خلاف خبریں پھیلاتے ہیں یہ رافضی اور تحریکی گڑھ والے ممالک سے حوادثات وواقعات سے لوگوں کو کیسے دور رکھتے ہیں ۔ آئیے کچھ سعودی کے بارے میں رافضیوں اور تحریکیوں کے ذریعے کچھ خبروں پر نظر ڈالتے ہیں:

1- ریاض میں گیارہ شہزادوں کا بجلی اور پانی کے بل پر احتجاج کرنا:

واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ سال کفایت شعاری کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے ہائی پروفائل شخصیتوں کے وظائف میں کمی کے ساتھ ساتھ تمام وزراء، امراءاور شہزادوں کی بجلی اور پانی کے بلوں کو بھی حکومت نے بھرنا بند کردیا۔ یعنی ابھی تک یہ لوگ پانی اور بجلی فری میں حاصل کررہے تھے لیکن اب انہیں اسکا بل خود بھرنا ہوگا۔ اس پر کچھ شہزادوں نے اپنا اعتراض درج کروایا کہ ہمارے ساتھ خصوصی رعایت برتی جائے جسکو ملک سلمان نے یہ کہہ کر رد کردیا کہ سب کے ساتھ ایک ہی برتاؤ  ہوگا۔ سوچنے کا مقام ہے : جو بل ابھی تک فری حکومت بھر رہی تھی اسے معقول وجوہات کی بنیاد پر ختم کر دیاگیا جس پر واویلامچایا جارہا ہے اور اسے حکومت کے مظالم میں شمار کیا جارہا ہے۔ عمر بن عبد العزیز نے جب تمام شہزادوں کے وظیفوں کو بند کردیا تھاتوانہوں نے بھی احتجاج کیا تھا۔ کیا اسے عمربن عبد العزیز کے واقعہ سے مشابہ قرار نہیں دیا جاسکتا؟ کیا اسے ملک سلمان کی خوبی نہیں کہی جاسکتی؟ اگر اسے خوبی نہ بتایا جائے تو پھر برائی کا کون سا پہلو اس خبر میں ہے؟ آئیے دیکھتے ہیں تحریکیوں اور رافضیوں نے اس میں کون سی برائی دیکھی ہے؟ 9/ جنوری کے ایڈیشن میں انقلاب لکھنؤ کے اندر ایک بہت بڑے مظاہروں کی بھیڑ کی تصویر کے ساتھ یہ ہیڈنگ قائم کی گئی :(ریاض میں سعودی حکومت کے خلاف مظاہرہ)۔ اور پھر پہلے پیرا گراف میں بتایا گیا کہ شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کی اقتصادی پالیسیوں کے خلاف ریاض میں شاہی محل کی جانب جانے والی شاہراہ پر سیکڑوں سعودی افراد نے شدید مظاہرہ کیا۔ پھر خبرنگار نے اگلے ایک لمبے چوڑے پیراگراف میں سعودی کی خارجہ اور داخلہ تمام پالیسیوں پر جم کر تبصرہ کیا ہے اور ہر محاذ پر اسے ناکام ثابت کیا ہے۔ بلکہ خطے اور تمام عرب علاقوں میں پھیلی بدامنی کا ذمیدار سعودی کو ٹھہرایا ہے۔ لگتا ہے ان کی نظر میں یمن کے اندر حوثی باغیوں کو یمنیوں پر ظلم ڈھانے کیلئے سعودی سپورٹ کررہا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ عراق میں درجنوں سنی مخالف رافضی ملیشیاؤں کو عراقی سنیوں کا صفایا کرنے کیلئے سعودی پیسہ دے رہا ہے۔ انہیں یہ بھی لگتا ہے کہ شام میں ظالم بشار حکومت کی طرف سے لڑنے والی قدس فورس کے ظالم جرنل قاسم سلیمانی کو پیسہ یہی سعودی دے رہا ہے۔بلکہ حزب اللہ کا سارا خرچہ یہی سعودی اٹھارہا ہے۔ آخر اس کے علاوہ اور کیا کہا جائے؟ کیونکہ عرب خطوں میں بدامنی پھیلانے کے ذمیدار یہی ہیں ۔ اور ان کا واضح اور کھلا مقصد تمام عرب علاقوں پر قبضہ کرنا ہے۔  اس خبر کو الجزیرہ چینل سے لیکر تمام تحریکی اور رافضی اخباروں نے مظاہروں اور حکومت کے خلاف انقلابی رنگ دیکر چھاپا ہے حتی کہ ہندوستانی انگریزی اخباروں نے بھی ویسے ہی ہیڈنگ قائم کی ہے مثلا: (Saudi Arabia Arrests 11 Princes Who Protested Over Utility Bills) دیکھیں یہ ویب سائٹ: (https://www.ndtv.com/world-news/saudi-arabia-arrests-11-princes-who-protested-over-utility-bills-179681um=)اسی واقعہ کو ایک رافضی نیوز پورٹل ابلاغ نے کچھ اسطرح ہیڈنگ لگائی ہے: (آل سعود میں مسلح بغاوتیں شروع ، دراڑیں بڑھنے لگیں) ۔ پھر اس کے تحت اپنی رافضی کہانیاں ہانک کر کچھ اس طرح لکھ کر اپنے سینے کی آگ بجھاتاہے: ریاض میں واقع شاہی محل کے سامنے آل سعود خاندان کے افراد کے درمیان مسلح جھڑپیں ہوئیں اور ان جھڑپوں میں گیارہ شہزادے گرفتار ہوچکے ہیں۔ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب بڑی تعداد میں شہزادے شاہی محل میں جمع ہوگئے اور مطالبہ کرنے لگے کہ وہ شاہی فرمان منسوخ کیا جائے جس کے تحت حکم دیا گیا ہے کہ سعودی شہزادے اپنے اپنے بجلی اور پانی کے بل خود ادا کریں۔ (www.iblagh.com/168627)قارئین کو معلوم ہونا جاہئیے کہ اس رافضی نے ایران میں ہورہے مسلح خاک وخون میں کھیلتے مظاہروں کا کہیں کوئی تذکرہ نہیں کیا ہے۔

2- کیا محمد بن سلمان سعودی سے وہابی ازم کو ختم کرسکتے ہیں؟

ایرانی آتشکدہ جل رہا ہے ایسے ماحول میں ایران سے نظریں چراتے ہوئے الجزیرہ انگریزی چینل سعودی پر زبردست ڈی بیٹ کر رہا ہے اور سارے ناظرین کو سعودی کے صحراءمیں بھٹکارہا ہے۔ مذکورہ بحث پر لوگوں کی دلچسپی کیلئے یہ عنوان قائم کرتا ہے: (Can Mohammed bin Salman break the Saudi-Wahhabi pact?) پھر کئی صفحات پر مشتمل اس عنوان پر وستاویزی انداز میں بحث کی جاتی ہے ۔ اور جہاں ایک طرف وہابی ازم اسلام کہہ کر کتاب وسنت پر مبنی سلفی منہج کو بدنام کیا جاتا ہے وہیں پر معتدل اور متوسط منہج کے اسلام کو ماڈرن اسلام کہہ کر محمد بن سلمان کو جدت پسندی اور الحاد واباحیت کے قریب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حالانکہ محمد بن سلمان نے تمام افواہوں کو سختی سے رد کردیا ہے اور کبار علماءکمیٹی کے سامنے اپنے بیان کی وضاحت کردی ہے کہ متوسط اور معتدل اسلام سے مراد کتاب وسنت پرمبنی منہج ہی ہے۔ اور 1979 سے پہلے کے دور کی طرف واپسی کا مطلب بھی اس موضوع میں غلط مفہوم بتایا گیا ہے ۔ یعنی اسی سال خانہ کعبہ پر جہیمان کے ناکام حملے کو تفصیل سے غلط انداز میں بیان کرکے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اس کے بعد وہابی ازم کی جڑیں سعودی میں مضبوط ہونے لگی تھیں جسے بن سلمان ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس منحوس حادثے کے بعد مملکہ میں تحریکیوں کا غلبہ ہونا شروع ہوا ہے اور رواں صدی کے پہلے عشرے تک تقریبا تمام رفاہی ، تجارتی اور تعلیمی محکموں میں بیٹھ کر یہ اپنا ایجنڈہ نافذ کرنا شروع کر دیئے تھے جس سے مملکہ کو کافی نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا ان میں ان تحریکیوں کی طرف سے سعودی میں دہشت گردوں کی ایک بڑی کھیپ کی تیاری بھی تھی ۔ اسی لئے بہت سوچ سمجھ کر ان تمام تحریکیوں پر مملکہ نے گزشتہ سال ہاتھ ڈالا تھا اور ایک ایک کرکے تمام سعودی دشمن منافقوں کو چن چن کر ہٹایا گیا جس سے داخلی محاذ پر سعودی کو کافی سکون میسر ہوا ہے۔ اور محمد بن سلمان کی مراد یہی ہے کہ 1979 کے بعد تحریکیوں نے آل سعود اور آل شیخ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر جن فتنوں کو جنم دینا شروع کیا تھا اسی سے نکل کر پہلے کے دور کی طرف واپسی مقصود ہے جب کہ مملکہ کے اندر کتاب وسنت پر مبنی منہج والا متوسط اور معتدل اسلام قائم تھا لیکن تحریکیوں نے بعد کے دور میں سعودی کو تشدد پسندی اور غلو سے متعارف کروا دیا تھا اسی کا خاتمہ چاہتے ہیں محمد بن سلمان۔  تحریکی اس مقصد کو خوب سمجھتے ہیں۔ لیکن دنیا والے خصوصا مسلمان سعودی کے اس مقصد کو نہ سمجھ سکیں کہ کہیں نہ کہیں انکے خبیث عزائم کا بھی بھانڈا پھوٹ جائے گا اسی لئے اتہامات والزامات اور پروپیگنڈوں کی شکل میں ایک ایک سے سعودی کے خلاف خبریں گڈ مڈ کرکے پیش کرتے رہتے ہیں تاکہ لوگ اسی میں الجھے رہیںاور ان کی خباثت کا علم لوگوں کو نہ ہوسکے۔ خبر کوتفصیل سے دیکھیں الجزیرہ کے اس ویب سائٹ پر: 7Januaryhttp://www.aljazeera.com/indepth/opinion/mohammed-bin-salman-break-saudi-wahhabi-pact-180107091158729.htmlسعودی کے تعلق سے تحریکیوں کاسب سے بڑا مقصد وہاں کے عوام کو حکومت کے خلاف ابھارنا ، سعودی علماءکو شاہی حکومت کا کٹھ پتلی اور حاشیہ بردار ثابت کرنا نیز اسره  مالکہ آل سعود کے مابین بغاوت اور پھوٹ پیداکرنے کی کوشش ہوتی ہے جسے وہ اپنی ہر تقریر وتحریر اور خطاب وبیان میں ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ اسی کی ایک مثال اس مضمون کے آخری پیراگراف میں بھی نظر آتا ہے جسکا میں نے ذکر مناسب سمجھا:MBS’s policies are catering to young Saudis, but they do not hold the key to power. It is the older generation that has lived through decades of conservative rule, the disenfranchised princes whose access to power has shrunk and the vast religious elites who are now in a position of vassals that legitimise the Saudi royal family.Many of them feel marginalised which could drive them to extremes and bring about a repeat of 1979.ترجمہ: محمد بن سلمان کی پالیسیاں گرچہ سعودی نوجوانوں کیلئے پرتعیش ہیں مگر وہ حکومت میں کسی اہم منصب کو نہیں پاسکتے۔ وہ پرانی نسل تھی جو کئی دہائیوں سے قدامت پرست حکومت کے سائے میں زندگی گزار رہی تھی مگر اب تو حالیہ شہزادوں کو حکومت کے کسی بھی عہدے تک نہ پہونچنے کیلئے انہیں حق رائے دہی سے محروم کر دیا گیا ہے۔ اور اس وقت مذہبی اثر ورسوخ والے علماءآل سعود کا دم چھلہ بن کر ان کیلئے ہر قانون کو جواز کی سند دیتے رہتے ہیں۔چنانچہ بہت سے سعودی اپنے آپ کو حاشیہ پر کم تر محسوس کررہے ہیں جو کبھی بھی تشدد اختیار کرکے سعودی میں دوبارہ 1979 کا سانحہ دہرا سکتے ہیں۔  آپ اس پیرا گراف میں غور کریں کس طرح سعودی حکومت میں آل سعود کو ظالم، آل شیخ کو ان کاحاشیہ بردار، دیگر امراءوشہزادوں کو احساس کمتری میں مبتلا کرکے بغاوت پر ابھارنانیز باقی سعودی نوجوانوں اور عوام کو مظلوم ثابت کرکے انہیں حکومت کے خلاف ابھارنے اور دہشت گردی میں مبتلا کرنے جیسا قبیح عمل اختیار کیا گیا ہے۔  قارئین کو معلوم ہونا چاہئیے کہ یہی الجزیرہ چینل ہے جو عرب بہاریہ کے موقع پر یعنی (2010) اور (2011) میں پل پل کی خبریں تفصیل سے اور باریک بینی سے نشر کررہا تھا۔ اس وقت کے حکومت مخالف مظاہروں اور باغی گروپوں کی تائید میں خبریں دیتا تھا اور انہیں اپنے کارندوں کے ذریعے اس وقت کے حکمرانوں کے خلاف ابھارتا اور انہیں اہم اہم جگہوں تک پہونچانے کا کام کرتا تھا۔ اس وقت کے حکمرانوں کے خلاف ظلم وستم کے من گھڑت قصے وکہانیاں بیان کرتا تھا اور ان کے خلاف قرضاوی جیسے تحریکی علماءکے فتاوؤں کو بھی دکھاتا رہتا تھا ۔  لیکن فارسی بہاریہ کے اس موقعہ پر ایرانی عوام کے مظاہروںکے تعلق سے بالکل خاموشی اختیار کرنا ، وہاں کے ظالم حکمرانوں کے خلاف چپی سادھے رکھنا کیا اسے رافضی اور خمینی پرست پالیسی نہیں کہا جائے گا؟ کیا عرب اور مسلم دیشوں میں خمینی اور رفض وتشیع کے ایجنڈوں کو نافذ کرنے میں اسے مدد دینا نہیں کہیں گے؟ بلکہ الجزیرہ پر اگر رافضی وصہیونی قبضے اور تسلط کی بات کہی جائے تو شاید بالکل بے جا نہ ہوگا۔

3- مذہبی سعودی اسکالر کا بن سلمان کی حمایت میں انوکھا فتوی جاری:

یہ ایک بے بنیاد اور رافضی من گھڑٹ خبر ہے ۔سعودی دشمنی کیلئے وقف اردو نیوز پورٹل ابلاغ نے مذکورہ ہیڈنگ قائم کرکے رافضی عربی ٹی وی چینل قناہ العالم (www.alalam.ir/news/3276756) کے حوالے سے ایک سعودی عالم دین کو آل سعود کا تابع مہمل ثابت کیا ہے ۔ چنانچہ اپنے مخصوص رافضی انداز میں لکھتا ہے: (سعودی عرب میں دین کا بے جا استعمال ہونا ایک معمول سا بنتا جارہا ہے تاکہ لوگوں کو بے قوف بنایا جائے اور ان سے ولی عہد بن سلمان کی سیاسی ناکامیاں چھپائی جائیں۔ حال ہی میں اس سعودی عالم نے سعودی میں حالیہ مہنگائی پر حاکم کو دوش نہ دینے کی اپیل کی ہے۔ او ر اپنے اس عجیب منطق کو صحیح ثابت کرنے کیلئے دلیل میں اللہ کانام مسعر بتاتا ہے)۔  اس نیوز پورٹل میں ایران کے مظاہروں کے تعلق سے ایک بھی خبر نہیں ملے گی۔ سعودی کے بارے میں من گھڑت اور جھوٹی خبریں نیز سعودی کے خلاف چٹکلے اور کارٹون زیادہ سے زیادہ ملیں گے۔  حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ رافضی چینل نے ایک پرانے ویڈیو کلپ کو کاٹ کر حالیہ سعودی مہنگائی سے جوڑ دیا ہے ۔ وہ ایک سوال کے جواب میں اس حدیث کی وضاحت کررہے ہیں جس میں (إن الله هوالمسعر) کہا گیا ہے یعنی اللہ تعالی ہی قیمتوں کا تعین کرتا ہے۔ لیکن یہ ویڈیو کب کا ہے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ البتہ اس ویڈیو کلپ کے ایک ٹکڑے یعنی صرف پچیس سکینڈ کو اپنے مطلب کا لیکر حالیہ واقعہ سے جوڑ کر من گھڑٹ کہانی بنا دی گئی ہے۔ اور اس طرح خبریں گھڑنا رافضیوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ یو ٹیوب پر موجود ایک منٹ سولہ سکینڈ کی ویڈیو کلپ سے اس رافضی جھوٹ کو آسانی سے پکڑا جاسکتا ہے جو اس ایڈریس پر موجود ہے: (https://youtu.be/pRwPJLj-z-c)  کس قدر تعجب ہے ان رافضیوں پر کہ اتنی واضح حدیث ہونے کے باوجود اس بات کا مذاق اڑا رہے ہیں کہ اللہ تعالی قیمتوں کا تعین کرتا ہے۔ حالانکہ صحابہ نے جب اللہ کے رسول سے قیمتوں کے تعین کا مطالبہ کیا تھا تو آپ نے ہی صحابہ سے یہ فرمایا تھا کہ اللہ ہی قیمتوں کا تعین کرتا ہے۔ اس حدیث کے مذاق کے ساتھ یہ رافضی جھوٹ کس قدر معنی خیز ہے کہ حاکم کو دوش نہ دو۔ جبکہ ویڈیو کلپ میں یہ جملہ کہیں نہیں ثابت ہے۔ اسی جملے کو ملا کر حالیہ واقعہ سے جوڑا گیا ہے اس کے نکال دینے سے رافضی جھوٹ کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا۔ پھر سعودی حکمرانوں اور سعودی علماءکے بارے میں رافضی مغلظات بھی بکنے کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا۔ ویسے بھی یہ عالم دین شیخ خالد بن ابراہیم الفلیج ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سلمان العودہ کے معتقدین میں سے ہیں۔ ان سے اس بات کی امید نہیں کی جاسکتی کی سعودی حکومت کی تعریف میں کچھ کہیں گے۔ شاید اسی وجہ سے ان تحریکیوں نے صرف ایک سعودی عالم دین کہنے پر اکتفا کیا اور نام ظاہر نہیں کیا ۔ لعنة اللہ علی الکاذبین الخائنین۔ (www.iblagh.com/168970)

4- کیا یہ ممکن ہے؟

جناب عالم نقوی صاحب نے حالیہ اپنے اس مضمون میں یہ بتانے کی کوشش ہے کہ ایران اور حزب اللہ سے دشمنی کرکے مشرق وسطی میں امن وسکون حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ عقل وشعور رکھنے والا کوئی بھی سنی مسلمان جو ان خمینی نواز رافضیوں کے ایجنڈوں سے واقف ہوگا آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ ایران اور حزب اللہ کو اگر عراق وشام کی طرح پورے مشرق وسطی میں کھلی چھوٹ دیدی جائے تو کیسا امن وسکون پیدا کریں گے۔ بہت سارے سنی حضرات بھی جناب نقوی کی تحریروں سے مانوس ہیں حالانکہ انہیں نہیں پتہ ہوتا کہ خمینی کے تمام سنی مخالف ایجنڈوں کو پورا کرنے میں برصغیر کے بہت سارے رافضیوں کی طرح یہ بھی اپنے مشن میں لگے ہوئے ہیں۔ اسی لئے اسرائیل وامریکہ کے ساتھ ایک ہی سر میں سارے سنی عرب مسلمانوں کو گھسیٹتے ہیں۔ ایک طرف جناب خود اعتراف کر رہے ہیں کہ معزول صدر مرسی نے صدر بنتے ہی پہلا دورہ ایران کا کیا اور مصر میں مجالس عزا اور رافضی خرافاتی زینبیات پر برسہابرس لگی پابندیوں کو ہٹا دیا۔ اسی لئے اخوان کی حلیف النور پارٹی نے اس سے اپنی حمایت واپس لے لی اور اس وقت کے فوجی جنرل السیسی کی عرب دیشوں نے مدد کرکے مصر میں تختہ پلٹ کروا دیا۔  جنرل السیسی نے حکومت پر قبضہ کیسے کیا وہ الگ مسئلہ ہے۔ اس میں عرب دیشوں خصوصا سعودی کا ہاتھ ہے یا کس کا ہے۔ ویسے دنیا کے کسی بھی گوشے میں کچھ بھی گڑبڑ ہو اس میں تو ان رافضیوں اور تحریکیوں کو سعودی ہی کا ہاتھ نظر آتا ہے۔ لیکن اصل وجوہات میں سے جناب نے ایک اہم وجہ تو تسلیم کر ہی لیا کہ مصر کو پھر سے فاطمی اور عبیدی دور میں رنگنے کی تیاری مرسی نے کر لی تھی۔ دوسرے صہیونیوں اور رافضیوں کے تمام ایجنڈے عراق اور شام کی طرح مصر میں بھی نافذ کرنے کیلئے راہ ہموار کرنے کی کوشش شروع ہوچکی تھی ۔اور دین کے نام پرمرسی نے مصری عوام کو دھوکہ دیا تھا بلکہ مصر کو محمد علی اورحسنی مبارک کے دور سے بھی برے اشتراکی اور سیکولر دور میں ڈھکیلنے کی تیاری ہوچکی تھی اسی لئے مصری عوام مرسی حکومت کے خلاف ہوگئی، اور النور پارٹی نے حمایت واپس لے لی کیونکہ جس معاہدے پر حمایت دی تھی اسے سبوتاز کیا گیا اور کیا یہ ممکن ہے کہ جمہوری سیاست میں کسی پارٹی کی حمایت لیکر حکومت بنائی جائے اور اسے لالی پاپ دکھاکر حاشیہ پر لگادیا جائے اور کسی بھی وزارت میں حصہ نہ دیا جائے؟  اس کے بعد جناب نقوی نے یمن اور برما کا موازنہ کرا کے عرب اتحادی یمنی حکومت کو ظالم برما حکومت سے برا قرار دیا اور حوثی ظالموں کا کوئی تذکرہ نہیں کیا جو کہ یمنی سنی مسلمانوں کے کٹر دشمن ہیں او ر اہل بیت کا دشمن کہہ کر اپنے زیر حکومت علاقوں میں ان سنی مسلمانوں کو چن چن کر مارتے ہیں۔ پرانے نصاب تعلیم کو ختم کرکے رافضی نصاب کو تمام اسکولوں میں داخل کر دیئے ہیں جس میں صحابہ کو گالیاں دی جاتی ہیں انہیں مرتد کہا جاتا ہے ۔ صلاح الدین ایوبی اور بڑے بڑے جرنل صحابہ واسلاف کرام کی تاریخ کو مٹا دیا گیا ہے بلکہ ان کا تذکرہ ظالموں کی فہرست میں ڈالا گیا ہے جبکہ غداران قوم علقمی وطوسی وغیرہ کو محسنین امت میں شمار کیا گیا ہے۔  اگر باغی حوثیوں کے مقابلے بلکہ برما کے مقابلے یمنی حکومت اور اس کا عرب اتحاد زیادہ ظالم ہے توآخر نوے فیصد علاقے جو حوثیوں کے ظلم سے آزاد کرالئے گئے وہاں کے بارے میں جاکر دیکھ لیا جائے کہ وہاں کی صورت حال کیسی ہے اور لوگ عرب اتحاد کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ اسی طرح حوثیوں کے زیر تسلط علاقوں کی حالت کو دیکھ لیا جائے تب آسانی سے پتہ چل جائے گا کہ برما کی ظالم حکومت کی طرح کون ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حوثیوں سے نجات پانے والے یمنی باشندے ملک سلمان کے حق میں ریلی نکالتے ہیں اور اجتماعی شکل میں ان کا شکریہ ادا کرتے ہیںاور یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ جب تک ظالم حوثیوں کے پنجۂ  استبداد سے ایک ایک انچ آزاد نہ کرالیا جائے تب تک عرب اتحاد ہمیں بے یار ومدد گار چھوڑ کر نہ جائے۔ لیکن کیا کیا جائے ہمیں تو سعودی دشمنی ہر حال میں کرنی ہے۔ اسی لئے کچھ نہیں تو کہانی ہی گڑھ کر پھیلائی جائے اور سعودی کے خلاف نفرت کا پرچار کیا جائے شاید اسی سے خمینی کے ایجنڈا بردار خوش ہوجائیں۔ اور موجودہ حالت میں تو سعودی کے خلاف پروپیگنڈہ کرنا اور بھی ایسے لوگوں کیلئے ضروری ہے تاکہ ایرانی ظالم حکومت کے خلاف عوامی مظاہرے سے لوگوں کے ذہن کو پھیرا جاسکے۔(عالم نقوی کے مضمون کو ممبئی اردو نیوز کے 8/ جنوری 2018کے ایڈیشن میں دیکھیں)۔

5- القدس کو اسرائیلی راجدھانی بنانے کے امریکی فیصلے کو مان لیا جائے:

تحریکی میگزین ملی گزٹ (The Milli Gazette) نے 8/جنوری کو اپنے فیس بوک پیج پر الجزیرہ انگریزی چینل کی طرف سے نشر کئے گئے اس خبر کو ٹائم لائن میں رکھا جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ سعودی اتحادی مصرمیں ایک انٹلیجنس آفیسر نے میڈیا کے بااثر افراد سے مطالبہ کیا ہے کہ القدس کو اسرائیلی راجدھانی بنانے کے امریکی فیصلے کو مان لیا جائے۔ آخر میں کہا گیا ہے کہ اس خبر کا انکشاف ایک ترکی ٹی وی چینل نے کیا ہے۔ اور اس نے اس خبر کو نیویارک ٹائم کے ذریعے معلوم کیا ہے۔ (گویا اس خبر کو برصغیر کے تحریکی نے قطری تحریکی کے واسطے سے نقل کیا جس نے ترکی تحریکی کے واسطے سے نقل کیا جس نے امریکی یہودی کے واسطے سے نقل کیا۔ اب ایسی خبر کی کیا حقیقت ہوگی ایک باشعور مسلمان آسانی سے سمجھ سکتا ہے)۔ ویسے مصر کے وزیر خارجہ سامح شکری نے اس خبر کی تردید کردی ہے اور 9/ جنوری کو(ONE) ٹی وی چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے یہ واضح کردیا : (موقف مصر ثابت ولا تخشیأحداً، ولم یتغیر موقف مصر فی دعم الشعب الفلسطین) ترجمہ: فلسطین کے تعلق سے مصر کا موقف ایک اٹل موقف ہے ، ہم کسی سے ڈرتے نہیں ہیں ، اور فلسطینیوں کی مدد اور ان کے تعلق سے مصر کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔وزیر خارجہ نے مزید کہاکہ ہم ہی تھے کہ اس فیصلے کے خلاف صرف دو ہی دنوں کے بعد اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل میں قرار داد پاس کروائے تھے جس میں امریکہ کو چھوڑ کر چودہ ووٹ فلسطینی حق میں حاصل کئے گئے تھے۔ (https://arabic.rt.com/world/919969)۔  فلسطین اور اسرائیل کے تعلق سے مصر کو بدنام کرنے کا تحریکیوں اور رافضیوں کی پرانی ریت رہی ہے کیونکہ ان دونوں کو مصر میں فتنہ پھیلانے کیلئے جگہ نہیں مل پاتی ہے ۔ مرسی کی حکومت قائم کرکے جگہ بنالی گئی تھی لیکن چند مہینوں میں وہاں کی عوام نے سمجھ لیا کہ اگر یہ حکومت باقی رہتی ہے تو پھر دوبارہ مصر رافضی اور سنی مخالف فاطمی وعبیدی دور میں چلی جائے گی اسی لئے اسے گرا دیا گیا جس کا رونا آج تک سارے تحریکی اور رافضی رو رہے ہیں ۔  اسرائیل کے تعلق سے مصر کے بارے میں واسطہ در واسطہ سے خبریں انہیں مل جاتی ہیں لیکن ایران ، ترکی اور قطر کے اسرائیل سے واضح تعلقات کے بارے میں انہیں کوئی خبر نہیں ملتی ہے۔ ایرانی مظاہروں سے نظروں کو ہٹانے کیلئے مصریوں اور رافضی ایجنڈوں کے مخالفین کو بھٹکانے کی ایک کوشش کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔  ایرانی مظاہروں سے نظریں ہٹانے کیلئے سعودی عرب اور اسکے حلیفوں کے خلاف پروپیگنڈہ پھیلانے والی خبریں ان کے علاوہ بہت ہیں ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انہیں صرف سعودی سے دشمنی ہے اور یہ دشمنی ہر حال میں رہے گی ۔ ایران کیا کر رہا ہے یا وہاں کیا ہورہاہے ؟ اس سے ان کو کچھ مطلب نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے ٹی وی چینلوں، اخبارات اور سوشل میڈیا کو صرف اور صرف سعودی دشمنی میں وقف کر رکھا ہے۔ وہاں کی کوئی منفی خبر نہیں ملے گی تو جھوٹی ہی خبر پھیلائی جائے گی ۔ اور اپنی سعودی دشمنی نبھا لی جائے گی اور ساتھ میں عوام الناس کو بھٹکانے کا کام بھی پورا ہوجائے گا اور یہی خمینی ایجنڈہ نافذکرنے والوں کا مقصد بھی ہے۔  جزائر کے بے باک صحافی اور تجزیہ نگار انور مالک نے بڑی صراحت سے یہ بات کہی ہے کہ جب تک سعودی مضبوطی سے قائم ہے تب تک عرب ملکوں میں کوئی بھی صہیونی ، رافضی اور تحریکی خبیث ایجنڈہ نہیں چل پائے گا۔ تفصیل کیلئے دیکھیں یہ ویب سائٹ :(http://m.thebaghdadpost.com/ar/story/75799) یہ بات تحریکی بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسلامی ممالک میں ان کے خبیث ایجنڈوں کو پورا کرنے میں سعودی ہی سب سے بڑا رکاوٹ ہے اسی لئے تحریکی صرف اور صرف سعودی دشمنی میں شعوری وغیرشعوری طورسے رافضیوں کا ساتھ دے رہے ہیں ورنہ انہیں معلوم ہے کہ رافضی جس طرح بلا مسلک ومذہب کی تفریق کے سارے سنی مسلمانوں کے خلاف بغض وحسد رکھتے ہیں اور سنی مسلمانوں کے خلاف رافضیوں نے ایران، یمن، عراق ، شام ولبنان وغیرہ میں اپنے حالیہ مظالم سے جس طرح مسلم دشمنی کا ثبوت دیا ہے یہ اس سے بخوبی واقف ہیں۔ دور نہیں اپنے ہی وطن عزیز ہندوستان کی بات اگر کی جائے تو ان رافضیوں نے ماضی میں میر جعفر اور میر صادق بن کر مسلمانوں کو نقصان پہونچایا تو حال میں اپنے اسلاف کاکلب بن کر اور نقوی ورضوی بن کرنقصان پہونچا رہے ہیں۔  ابھی آج 10/جنوری کی خبر ہے کہ شیعہ وقف بورڈ کے چیئر مین وسیم رضوی نے مودی حکومت کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ تمام مدارس کو بند کردیا جائے کیونکہ وہاں سے دہشت گرد پیدا ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے اسی شخص نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ہمایوں کے مقبرے کی زمین کو سرکاری تحویل میں لیکر اسے عام قبرستان بنا دیا جائے ۔ یوپی میں یوگی حکومت آنے پر لکھنؤ کے شیعوں نے فتح کا جشن منایا تھا اور یوگی حکومت کو امن ورحمت کی سرکار بتایا تھا جبکہ محمد اعظم خان اورپچاس سے زائد مسلم لیڈروں اور منتریوں والی ایس پی حکومت کو ظالم بتایا تھا۔ کلب صادق نے ہندؤں کی رواداری میں مورتی پوجا کی تھی اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے پر اکسایا تھا۔ شیعہ وقف بورڈ نے مطالبہ کیا تھا کہ بابری مسجد کے حق سے مسلمانوں کو تنازل اختیار کرلینا چاہئیے ۔ گﺅ کشی کے معاملہ میں شیعوں نے آر ایس ایس کے فکر کی کھل کر حمایت کی تھی۔ لکھنؤ میں کچھ شیعوں نے آر ایس ایس طرز پر گئو رکچھا کمیٹی بنانے کا دعوی کرکے مسلمانوں کے خلاف ہندؤں کو انگیز کیا تھا۔ ذاکر نائک کے معاملہ میں شیعوں نے تمام مسلمانوں کے خلاف اپنا موقف کٹر ہندؤں کے ساتھ ظاہر کیا تھا اور انہیں گرفتار کروانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔

mdabufaris6747@gmail.com
(مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com