نفرت،سماج اور سیاست

ظاہر ہے سیاست اورسماج کا بہت گہرا تال میل ہے مگرکسی بھی مستحکم اور پرامن سماج کیلئے محبت بھائی چارگی انتہائی ضروری ہے ۔سیاست بھی نفرت کے ستون پر پائیداری سے ہمکنار نہیں ہوسکتی ۔ نفرت ایک نشہ ہے جو ایک خاص وقت کے بعد اتر جاتا ہے۔ اس کا در حقیقت کوئی وجود ہی نہیں ہے ۔ یہ ایک دم روشنی کی مانند ہے جس طرح روشنی کی غیر حاضری اندھیرے کو وجود بخشتی ہے اسی طرح محبت کی کمی نفرت میں اضافہ کاسبب بنتی ہے ۔ہندستان ایک ایسا ملک ہے جہاں بہت سارے مذاہب ،ثقافت اور زبان کے لوگ بستے ہیں ۔یہاں ایک رخی کوئی بھی تہذیب اور کوئی بھی ثقافت قابل قبول نہیں ہوسکتی۔یہ وہ نظریہ ہے جسے ہم برسوں سے نہ صرف قائم کئے ہوئے ہیں بلکہ اس نہج پر اکثر اوقات سوچتے اور عمل بھی کرتے ہیں۔ لیکن شاید ملک کے حالات اب وہ نہیں ہیں جب اس نظریہ پر نظر ثانی کی ضرورت نہ ہو۔اس نظریہ کا شاید اب وجود ہی نہیں بچا۔ ہم مسلم پرسنل لا میں چھیڑ چھاڑ کی بات کرتے ہیں۔ مسلم پرسنل لا میں چھیڑ چھاڑ کی کوشش بلا شبہ ہوئی لیکن سوال یہ ہے کہ کسی اورپرسنل لامیں چھیڑ چھاڑ کی کوشش کیوں نہیں ہوتی ۔ کسی اور کو نشانہ کیوں نہیں بنایا جاتاہے ۔گئورکشا کے نام پر مسلمانوں کے علاوہ کسی اور پر حملہ کیوں نہیں ہوتا۔سیاسی میدان میں صرف ہندومسلم کو ہی مقابل کیوں پیش کیا جاتا ہے ۔گجرات کے انتخاب میں مسلم وزیراعلیٰ کانام لے کر ہندووں کو کیوں ڈرایا جاتا ہے ۔ پاکستان کی اسمبلی انتخابات میں دخل اندازی کی بات کہاں سے آجاتی ہے ۔ مسلمانوں کوصرف پاکستان ہی کیوں بھگایا جاتا ہے کیا دنیا میں کوئی اور ملک نہیں ہے ۔بنگلہ دیش بھی اسی ملک سے الگ ہوا ہے مگر کبھی کسی کے زبان پر یہ نہیں آیا کہ بنگلہ دیش چلے جاؤ۔ کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ بنگلہ دیش نے فلاں انتخابات میں مداخلت کی ۔نیپال نے یہ کیا وغیرہ ۔ یہ سوال جواب نہیں مانگتے بلکہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ راہل گاندھی کو گجرات میں جنیو دکھانے اور ہر دن مندر میں پوجا کی ضرورت کیوں پڑی ۔ اب تو وہ کسی مندر نہیں جاتے اور نہ مودی جاتے ہیں۔بہار میں بی جے پی بھلے ہار گئی مگر امت شاہ کے جھوٹ بقول پاکستان میں پٹاخہ نہیں پھوٹا۔ البتہ اب امت شاہ کرناٹک میں پٹاخہ پھوڑوانے پہنچ گئے ہیں۔ سدارمیا سرکار کو ہندو مخالف بتانے کی کوئی منطق مجھے سمجھ میں نہیں آئی ۔گودی میڈیا کو اس کی منطق پوچھنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوئی ۔ بی جے پی ممبر اسمبلی نے کہا کہ ہندو ہوتو بی جے کو ووٹ کرواورمسلمان ہو توکانگریس کو ووٹ کرو۔میڈیا اس بیان کو متنازع کہہ کر ٹال گیا۔ دراصل میڈیا بھی سماجی خطوط کو بدلنے میں اہم کردارادا کر رہا ہے ۔ وہ بحث میں عام طور سے کسی اوربلانے کے بجائے سمبت پاترا اور اسدالدین اویسی کو بلاتا ہے۔ کوٗیئی یہ کیوں نہیں بتاتا کہ ایک پارٹی کا ترجمان اور ایک پارٹی کا سربراہ اکثرڈبیٹ میں کیوں بلایا جاتا ہے ۔منطقی نقطہ نظر سے اگرکسی پارٹی کا سربراہ بٹھاتے ہیں تو سمبت کے بجائے امت شاہ کو بٹھانا چاہئے ۔ اگر صرف ترجمان بٹھاتے ہیں تو اسد الدین اویسی کے بجائے ان کی پارٹی کا ترجمان ہونا چاہئے مگر اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ دوطرفہ سیاست پھل پھول رہی ہے ،ساتھ ہی میڈیا کی ٹی آر پی بڑھ رہی ہے۔ سماج میں کہیں افرازالاسلام کو جلا دیا جاتا ہے ۔ کہیں جنید کو مار دیا جاتا ہے۔ کبھی پہلوخان کو ماردیا ہے ،کہیں اخلاق کو مار دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ نشانے پر صرف مسلمان کیوں ۔ ظاہرہے دھتور کے درخت سے شہد ٹپکنے سے رہا۔ تو میڈیا اور سیاست جو گیس چھوڑ رہے ہیں وہی سماج میں بھی پھیل رہی ہے۔ کاربن ڈائی آکسائڈ چھوڑیں گے تو خوشبو تھوڑی نہ آئے گی اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ الکفرملت واحدہ کے تحت اگر اس بات کو دیکھا جائے تو مسلمان ہی ہیں جن کو الگ شناخت کی ضرورت ہے ورنہ ہندستان میں یکساں سول کوڈ کا مخالف کوئی نہیں۔ اس لئے سماجی خطوط کی تبدیلی ضروری ہے تاکہ ہندوراشٹر کی نقشے کو درست کیا جاسکے۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com