”ٹافی،، ایک حقیقت ایک فسانہ

ٹافی

 

 

لاش….لاش….وہ زور سے چیخا اور گھبرا کر چند قدم پیچھے ہٹ گیا..
اس کی چیخ سن کر لوگ اکٹھا ہو گئے….ایک ننھی سی گڑیا کوڑے کے ڈھیر میں بے جان پڑی تھی…
کپڑے گیلے اور کئی جگہوں سے پھٹے ہوئے تھے…لیکن ابھی تک کوئی اٹھانے کے لئے آگے نہیں آیا تھا…اور وہ جس نے چیخ کر لوگوں کو اکٹھا کیا تھا وہ دور سڑک کے کنارے ایک چھوٹے سے پتھر پر بیٹھا پھٹی پھٹی آنکھوں سے لوگوں کو باتیں کرتے دیکھ رہا تھا…
اچانک اس کی آنکھوں میں اس ننھی پری کا چہرہ گھوم گیا اور اس کی آنکھیں برس پڑیں….وہ ننھی سی گڑیا کون تھی وہ نہیں جانتا …تھا مگر وہ اتنا ضرور جانتا تھا کہ ابھی کچھ گھنٹوں پہلے اس نے اس بچی کو ہنستے کھیلتے دیکھا تھا
اس کے ذہن میں وہ ساری باتیں گردش کر رہی تھیں جب ایک ادھیڑ عمر کے شخص نے اس بچی کو بلایا تھا….
اس نے اس بچی کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کے ہاتھ میں دس کا نوٹ اور کچھ اور جسے وہ دیکھ نہیں سکا تھا۔۔۔۔ دیا تھا اور پھر چلتے چلتے دیر تک وہ شخص اس سے باتیں کرتا رہا تھا…
اس بچی نے اسے اپنا نام بھی بتایا تھا شاید…
وہ پتھر کے اس ٹکڑے پر بیٹھا خالی الذہنی کے سے انداز میں دیر تک سوچتا اور لاش کے قریب اکٹھا لوگوں کو گھورتا رہا…لیکن نام اس کے ذہن میں نہیں آیا۔۔۔۔
البتہ رہ رہ کر اس بچی کی تصویر آنکھوں میں پھر جاتی اور آنکھوں سے آنسوؤں کے قطرے ڈھلک آیا کرتے تھے..
وہ وہاں سے اٹھا اور دھیرے دھیرے پھر لاش کے قریب آیا….
اس نے خالی خالی نظروں سے لاش کی طرف دیکھا جس کے ایک ہاتھ میں ایک ٹافی تھی جو شاید اس ادھیڑ آدمی نے دی تھی جس نے دس کا نوٹ دیا تھا..اور پھر اچانک اس کی زبان سے نکلا…..زینب…زینب امین۔۔۔۔۔ شاید یہ اسی معصوم گڑیا کا نام تھا..
اس بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے شاید، بغل میں کھڑے شخص نے افسوس جتاتے ہوئے کہا…
وہ کون وحشی تھا جس کو اس معصوم پر رحم نہیں آیا….
ایسے وحشی درندوں کو پھانسی چڑھا دینی چاہئے…..
لوگوں کی باتیں اس کے کانوں میں پڑ رہی تھیں لیکن اس کی نظریں اس ننھی پری کے ہاتھ میں پڑی ہوئی ٹافی پر جمی ہوئی تھیں اور اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ننھی زینب اپنے ہاتھ میں لی ہوئی ٹافی کے بدلے اس سے اپنی عزت اور جان کی بھیک مانگ رہی ہو….

 

تخلیق کار :  اہتمام الحق  ”صادق بلرام پوری،،

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com