صرف عدلیہ کا وقار خطرے میں نہیں

                                             اداریہ

عدالت عظمی کے چارفاضل ججوں نے پریس کانفرنس کرکے یہ بات بتانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی کی ملک کس طرف جار
رہاہے۔ ایک صاحب نے بجا کہا کہ لگ رہا ہےعدلیہ میں قورمہ پکنے لگا ہے کیونکہ ابال آگیا ہے۔ کھچڑی تو اکثر اوقات پکتی رہتی ہے۔ ججوں کا الزام نہیں کہ عدالت عظمی میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے جمہوریت خطرے میں ہے یہ ایک طریقے سے اعتراف ہے۔ یہ بغاوت نہیں ہے جیسا کہ میڈیا چاروں ججوں کو باغی کہہ رہا ہے ۔ میڈیا والوں کو بغاوت کا مطلب بھی شاید سمجھانے کی ضرورت ہے مگرسمجھایا اس کو جاتا ہے جو سمجھنے کو تیا ر ہو۔ یہ درست ہے کہ ججوں کا اقدام عدلیہ کی روایت سے بغاوت ہے ۔ یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ بغاوت کن صورتحال میں ہوتی ہے ۔ اس بات کی جواب ہمیں ان ججوں کی اس بات میں بہر صورت مل جاتی ہے کہ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی صورت نہیں تھی ۔ ہم نے یہ قدم اس لئے اٹھایا تاکہ 20 سال بعد کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ سپریم کورٹ کے ججوں نے اپنا ضمیر فروخت کر دیا تھا۔ 20 سال کی قید اور جمہوریت کو خطرہ بتانے کا مفہوم پوری طرح سے واضح ہے ۔ دبی زبان میں جسٹس لویا کی موت کا تذکرہ اور رشوت ستانی کی بات کو بھی کسی طرح سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ ایک بات تو صاف ہے کہ انصاف دینے والوں کوبھی اب انصاف نہیں مل پارہا ہے ۔ اسی دن سابق چیف جسٹس کا بیان کہ ہمارے عالمی طاقت بننے کی راہ میں ہندتوا کی سیاست رکاوٹ ہے ، بہت معنی خیز ہے۔ شا ید یہ بات آپ کے ذہن سے نکل گئی ہو کہ فوج بھی اب پریس کانفرنس کرنے لگی ہے حالانکہ ہماری آزاد یندستان کی تاریخ میں یہ سب بھی پہلی بار ہورہا ہے ۔ عدلیہ اور جج جو ابھی تک بچے ہوئے تھے انھوں نے بھی پریس کانفرنس شروع کردی ۔ شاید ہم بھول گئے ہوں کہ گزشتہ سال ٹائمس آف انڈیا کے ایڈیٹر نے یہ بات مودی کی موجودگی میں کہی تھی کہ میڈیا پر اس سے بد ترین دور پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ انتظامیہ کی بھی حالت کچھ ایسی ہی ہے ۔عدالت عظمی نے ہی سی بی آئی پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے’بنجرے کا طوطا‘ کہاتھا۔ پولیس کی حالت یہ ہے کہ شیوراج سنگھ چوہان کو کاندھے پر اٹھا لیتی ہے ۔ ہندو دہشت گردوں کو چھڑانے کی تدبیر اور ثبوت اکھٹا کرتی ہے ۔ عدالتوں کا وقاراسی وقت سمجھنے کی ضرورت تھی جب راجستھان میں شمبھو کے حامی اور بھگوا شدت پسند تنظیموں نے عدالت پر چڑھ کر بھگوا جھنڈا لہرا دیا تھا۔ پولیس کا وقار اسی وقت سمجھ جانا چاہئے تھا جب فسادات میں ان کے ملوث ہونے کی رپورٹیں آنے لگی تھیں۔ انتظامیہ کی خطرناک صورتحال کا اسی وقت اندازہ ہوجانا چاہئے تھا جب بٹلہ ہاوس،سہراب الدین،بھوپال اور عشرت جہاں ودیگرفرضی انکاونٹر ہوا تھا۔ میڈیا نے تو ان چار ججوں کوباغی کہہ کر اپنی صورتحال کا ثبوت دے دیا ۔ گزشتہ سال ’’آج تک‘‘ سمیت کئی نیوزچینلوں نے  نئی 2000 اور500 کی نوٹوں کے متعلق باقاعدہ جو نوٹنکی کی تھی اس میں بتایا تھا کہ نئی نوٹوں میں ایک ایسی چپ نصب ہے کہ پیسہ کہیں بھی چھپا دو وہ انکم ٹیکس محکمہ کو سنگل بھیجے گاخواہ وہ زمین کے اندر ہی کیوں نہ ہو۔ شاید کسی کو آج تک وہ چپ نظر آئی ہو۔ حالیہ دنوں لکھنو میں مدرسے کے بغل میں ایک ہاسٹل میں چھاپہ پڑا اس کو نسواں مدرسے سے تمام نیوز چینلوں نے جوڑ دیا اور باقاعدہ ایک مولانا کی جنسی استحصال کے الزام میں گرفتاری درج کرادی حالانکہ وہ گرفتاری پراپرٹی سے متعلق تھی ۔ جہموریت کے بنیادی چار ستون میں سے تین کی حالت تو کسی قدر آپ کے سامنے ہے رہی بات مقننہ (پارلیمنٹ) کی تو اس کی حالت بات بات میں آرڈی نینس لانے سے لگا سکتے ہیں۔ صدر جمہوریہ ملک کے قانون کا پاسبان ہوتا ہے مگر ججوں کی پریس کانفرنس پر صدر جمہوریہ کے ابھی تک لب بھی وا نہیں ہوئے ہیں۔ ججوں کی تشویس درست ہے مگر صرف اس تشویش کو عدلیہ تک محدود رکھنا بھی باعث تشویش ہے