فوجی سربراہ کو سیاست کا بخار

(اداریہ)

ملک میں ججوں کی کانفرنس کی طرح جب ایک نوجوان کوکشمیر میں فوجی جیپ کے بونٹ میں باندھے جانے پرفوج کی کانفرنس ہوئی تھی تو اس پر بھی کافی ہنگامہ ہوا تھا۔ رفتہ رفتہ فوج کے لئے پریس کانفرنس نہ سہی تو سیاسی بیانات اب کوئی معیوب نہیں رہ گئے ہیں۔ ملک کے موجودہ فوجی سربراہ آرمی چیف سے زیادہ باقتدار پارٹی کے ترجمان لگ رہے ہیں۔ فوج ہماری بہت قابل ہے،یہ ادارہ ایک قابل اور باوقارادارہ ہے ۔اس نے کبھی سیاست نہیں کی ۔ فوجی سیاست کا چلن ہمارے ملک میں کبھی نہیں رہا ۔ ہمارے یہاں فوج چپ چاپ اپنا کام کرتی ہے،لیکن بپن راوت شاید اس روایت کو برقرار نہیں رکھنا چاہتے ۔ آئے دن کوئی نہ کوئی بیان اس طرح کا دیتے رہتے ہیں جس سے ان کے فوجی سربراہ کم اور دوسرا سمبت پاترا ہونے کا گمان زیادہ ہوتا ہے ۔ سچ ہے کہ ہمارا ملک دوطرفہ دشمنوں سے گھرا ہے ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کی چین اور پاکستان دونوں دراندازی کرتے رہتے ہیں ۔ ایل اوسی پر اکثر گولی باری ہوتی رہتی ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ کوئی نیا معاملہ مگر اس پر اس طرح کی بیان بیازیاں مثلا ہم دوطرفہ جنگ کے لئے تیار ہیں ۔ چین مضبوط مگر ہندستان بھی کمزور نہیں ودیگر۔ یہ سب بیانات کسی حد تک کسی خاص وقت میں مناسب ہوسکتے ہیں مگر معمول کے حالات میں ان کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ۔ بالفرض اس طرح کے بیانات کو کسی قدر ضرورت کا تقاضہ قرار دیا جاسکتا ہے مگر یہ کہنا کہ کشمیر کے تعیلمی نظام شدت پسندی کو فروغ دے رہے ہیں، سراسر نامناسب ہے۔ اگراس طرح کے بیانات فوجی سربراہ دینے لگیں تو پھروزیرداخلہ اوردفاع کی چھٹی ہوجائے گی ۔اندرونی معاملات سے فوج کو توگریز ہی رکھنا چاہئے ۔ ورنہ تو پھر جس طرح مودی کی موجودگی میں سشما سوراج کا کام ٹوئٹ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں بچا ہے اسی طرح سے راجناتھ اور نرملا سیتارمن کو بھی کوئی کام نہیں رہ جائے گا ۔ جمہوریت نہ صرف حدود متعین کرتی ہے بلکہ اس میں رہنے کے سلیقے کی متقاضی بھی ہوتی ہے ۔ کشمیر کے وزیر تعلیم سید الطاف بخاری نے بجا کہا کہ فوجی سربراہ اپنے کام سے کام رکھیں وہ ماہر تعلیم نہیں جو تعلیمی نظام پر مشورہ دیں۔ فوجی سربراہ ہمارے لئے قابل احترام ہیں مگر ان کے اس ناقابل احترام حرکت کو کسی قدر درست ہونے کا جواز فراہم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ہمارا ملک ایک پائیدارجمہوری ملک ہے ۔ کسی بھی جمہوری ملک کے لئے فوج کی کسی بھی طرح کی سیاسی سرگرمی بہترقرار نہیں دی جاسکتی ۔ فوج کی سیاست میں مداخلت یا سیاسی سرگرمیاں کسی بھی جمہوری ملک کو نہ صرف کمزور کرتی ہیں بلکہ جمہوریت کے لئے اکثر اوقات خطرناک بھی ہوتی ہیں۔ ہماراملک بہرحال ایسی چیزوں سے محفوط ہے ، اسی طرح محفوط رہے اس کے لئے ہمیں ہماری فوج کو اپنے کام کےعلاوہ دوسری سرگرمیوں سے دوررہنا ہوگا۔ بصورت دیگر ہمارے سامنے پڑوسی ملک ایک زندہ مثال ہے،جہاں جہموریت کی پائیداری تو درکنار ملک کے مستقبل کا تحفظ بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے ۔ اس کے پیچھے جہاں بہت ساری وجوہات ہیں وہیں بہت بڑی وجہ فوج کی جمہوری اداروں اور اندرون ملک کے معاملات میں مداخلت بھی ہے ۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com