اسرائیل امریکہ کی ناجائزاولاد

{اداریہ}

’اسرائیل امریکہ کی ناجائز اولاد ہے‘یہ الفاظ ہمارے نہیں ہیں بلکہ اسرائیل بننے کے بعد اہنسا کے پجاری باپو کے ہیں۔ ہمارا ملک کس طرف جا رہا ہے اس کا اندازہ اسی سے لگا سکتے ہیں کہ جس باپو نے یہ الفاظ اسرائیل کے بارے میں کہے تھے آج اسی کی سمادھی پراسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو نے باقاعدہ گلہائے عقیدت پیش کیا۔ ایک اورجگہ 1938 میں اپنے ہفتہ واری اخبار’’ہریجن‘‘ میں گاندھی جی’’یہود فلسطین میں‘‘ (The Jews in Palestine) مضمون کے ضمن میں لکھتے ہیں:
’’مجھ سے اکثر عرب۔یہودی مسئلے پررائے پوچھی جاتی ہے۔ یہود بے شک اس وقت اپنا کوئی ملک نہیں رکھتےمگر انہیں زور زبردستی سے فلسطین پر قبضہ نہیں کرنا چاہیے۔ یہ بات انصاف کے اصولوں پر پوری نہیں اترتی۔ اسی لیے فلسطین میں عربوں کو بے دخل کر کے وہاں یہودی ریاست قائم کرنے کا خیال مجھے نہیں بھاتا۔‘‘
شاید کسی کو اس پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ویسے ہندستان اوراسرائیلی رشتے کا یہ 25 واں سال ہے۔ ابھی کچھ دنوں پہلے جب یواین میں ہندستان نے فلسطینی موقف کی حمایت کی تھی تو یہ بات باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ ہندستان آج بھی گاندھی کے نظریات اور ملک کی سابقہ پالیسیوں پر گامزن ہے ۔ اب نتن یا ہو کا ہندستان کا چھ روزہ دورہ اوران کا پرتپاک استقبال ساتھ ہی ’تری مورتی‘چوک کو ’حیفہ تری مورتی‘ چوک میں بدل دینا بہت کچھ کہہ جاتا ہے۔ ساتھ ہی بجلی،دفاع، تجارت،زراعت سمیت ثقافتی معاہدہ بھی بہت معنی خیز ہیں ۔ یہ بات کہنے میں شاید تامل نہیں ہونا چاہئے کہ صرف خارجہ پالیسی ہی نہیں بلکہ آج نتن یاہو کو گاندھی جی کی سمادھی پر لے جاکر ان کے نظریات کی بھی سمادھی بنا دی گئی ۔ آج اگر ہند اسرائیل کی خارجہ پالیسی تبدیل ہورہی ہے تو یہ بھی سوچنے کا مقام ہے کہ آخر وہ کونسی بنیادیں اور وجوہات تھیں جس کی وجہ سے آزاد ہندستان نے ایک مدت تک اسرائیل سے رشتے استوارنہیں کئے ۔ آج بجا طورپر کچھ تنظیموں اور پارٹیوں کی جانب سے اس دورے کی مخالفت ہورہی ہے مگر گزشتہ سال ہی مودی نے بطوروزیراعظم اسرائیل کا دورہ کرکے اپنا رخ صاف کردیا تھا،حالانکہ فلسطین کے دعوت کے باوجود آج تک فلسطینی دورہ کے لئے مودی نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ۔ مودی سے پہلے کسی ہندستانی وزیراعظم نے اسرائیل کا دورہ نہیں کیا تھا۔ مودی کے دورہ کے وقت بہت سے تجزیہ نگاروں نے کہا تھا کہ فلسطین کو نظر انداز کرنا اسرائیل اور فسلطین کے مسئلے کو علیحدہ علیحدہ دیکھنے کی نئی حکمتِ عملی کی طرف اشارہ ہے۔ ہند اسرائیل تعلقات کی سیلور جبلی کے موقع پرنتن یاہو کے چھ روزہ دورہ پربھی اس سے مختلف کوئی تجزیہ شاید نہیں ہوسکتا بلکہ بجا طورپراس تجزیے کو یاہو کے دورے اور مودی کے پر تپاک استقبال نے قوت اور استحکام بخشی ہے

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com