حج سبسڈی:ایک تیرسے کئی شکار

(اداریہ)

چلو اچھا ہی ہواحج سبسڈی ختم کردی گئی ۔ 700 کروڑ کی سبسڈی کے بوجھ تلے دبے لوگوں کو کم ازکم نجات مل گئی لیکن کیا سچ
میں۔ اقلیتی امور کے وزیر کے مطابق اب یہ رقم مسلم بچیوں کی تعلیم پر خرچ ہوگی ۔ مطلب احسان دوسری طرف منتقل ہوجائے گا۔ 2012  میں سپریم کورٹ نے 2022 تک رفتہ رفتہ حج سبسڈی کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا ۔ ابھی 2017 میں حکومت نے 450 کروڑ روپئے حج سبسڈی میں دئیے تھے ۔ گویا کہ رفتہ رفتہ کے بجائے بیک وقت سبسڈی ختم کردی گئی ۔اس فیصلہ پر کچھ کہنے سے پہلے ایک بات یاد دلا دینا ضروری ہے کہ ابھی آخری کابینہ میٹنگ میں ائیر انڈیا میں 49 فیصد ایف ڈی آئی کو منظوری دی گئی ہے۔ معلوم ہونا چاہئے کہ حج سبسڈی صرف سفر حج کیلئے ملتی تھی اور وہ سفر ائیر انڈیا کے توسط سے ہوتا تھا۔ یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ ائیرانڈیا فی الحال 50 ہزار کروڑ کا قرض دار ہے۔ حج کے نام پر ملنے والی سبسڈی اور لاکھوں مسلمانوں کے سفر حج سے صرف اورصرف ائیر انڈیا اب تک ڈوبنے سے بچا رہا ۔ صاف لفظوں میں کہہ سکتے ہیں کہ یہ حج سبسڈی نہیں بلکہ ائیر انڈیا کہ سبسڈی تھی ۔ ائیر انڈیا میں اب جب ایف ڈی آئی کے دروازے کھول دئیے گئے تو گویا اس حج سبسڈی کو جو کہ چور دروازے سے ائیر انڈیا کی امداد تھی اس کی ضرورت ہی نہیں رہی ۔
سیاسی فوائد بھی کم نہیں ہیں۔ کرناٹک اوردیگر ریاستوں میں جلد ہی انتخابات ہونے والے ہیں۔ابھی دو دن پہلے انھیں انتخابات کو لے کربی جے پی میں منتھن ہوا ہے۔ آپ کو شاید یاد ہو کہ ابھی کچھ دنوں پہلے جب امت شاہ نے کرناٹک کے وزیراعلی سدارمیا کو ہندو مخالف ہونے کا الزام لگایا اور مبینہ طور پر بی جے پی کے ایک لیڈر نے کہا کہ اگر ہندو ہو تو بی جے پی کو ووٹ کرو اور مسلمان ہو تو کانگریس کو اسی پر طنز کرتے ہوئے سدارمیا نے بھی کہا کہ وہ لوگ بھی ہمیں رام مخالف اور ہندو مخالف کہتے ہیں جس کے نام ہی میں ’رام‘ ہے۔ اسی طرح گجرات میں کانگریس کے ’جینو دھاری‘ راہل گاندھی کی انڑی اور روزآنہ کسی نہ کسی مندر میں پوجا نے ہندتو ووٹ بینک کو کمزورکردیا تھا لہذا اسے مضبوط کرنے کا کوئی انتظام ضروری تھا۔ بی جے پی کی انتخابی میٹنگ کے دودن بعد حج سبسڈی کے خاتمے کا اعلان ٹائمنگ پر لگائے گئے شاٹ کو بتانے کےلئے کافی ہے۔ ظاہر ہے یہ فیصلہ شدت پسند ہندوؤں اور ہندتوا کے پرستاروں کےلئے کسی مژدہ سے کم نہیں ہے ۔ اس سے جہاں ووٹ بینک مضبوط ہوگا وہیں کانگریس کی چڈی بھی ڈھیلی ہوگی ۔ طلاق کے معاملہ میں مسلمانوں کی  گندگی کا فائدہ اٹھا کرکم سے کم بی جے پی نے 2 فیصد مسلم خواتین کے ووٹ بینک میں سیندھ لگا ہی لیا تھا،اب حج سبسڈی کو جانے والے پیسوں سے مسلم بچیوں کی تعلیم سے نقب زنی کے مزید مستحکم ہونے کی امید کی جاسکتی ہے ۔ مسلم ووٹوں میں بی جے پی کی سیندھ صرف کانگریس ہی نہیں بلکہ تمام نام نہاد سیکولرپارٹیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ مودی حکومت یہ فیصلہ نہ کرتی مگرخواہ نرم یا گرم بی جے پی سمیت تمام پارٹیاں اب ’وکاس‘ کے ساتھ ’ہندتوا‘ کا تڑکا لگانے لگی ہیں۔ اس لئے ہندوکو یہ باور کرانا کہ ان کے ووٹوں کے اصلی حقدارہم ہی ہیں، بی جے پی کو بظاہر کچھ نہ کچھ مسلم مخالف فیصلہ لینا ہی تھا ۔ رہی بات اس فیصلے کی تو اس سے مسلم بھی خوش اور ہندو بھی خوش ۔ مسلمانوں کو لگ رہا ہے کہ احسان ختم ہوگیا حالانکہ حکومت نے منتقل کردیا ہے اورہندوؤں کولگ رہا ہے کہ حکومت نے مسلمانوں سے چھین لیا ہے اورانھیں ’مان سرووریاترا‘ وغیرہ پر دی جانے والی 1 لاکھ کی امدادی رقم جاری ہے، یہ سچ بھی اور دونوں طرف کی خوش فہمی بھی ہے ۔ نہ مسلمانوں کے اوپر سے احسان اترا ہے نہ مسلمانوں کا حق چھینا گیا ہے،البتہ مودی حکومت نے ایک تیر سے کئی شکار کرکے اپنا الوضرورسیدھا کیا ہے

 

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com