حج سبسڈی ختم،پیسہ مسلم بچیوں کی تعلیم پر خرچ ہوگا

نئی دہلی،16 جنوری:مرکزی حکومت نے اس سال سے عازمین حج کو دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے اور سبسڈی کی اس رقم کو مسلم معاشرہ بالخصوص مسلم خواتین کی تعلیم پر خرچ کرنے کا آج اعلان کیا۔اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ حاجیوں کو 2018 سے حج سبسڈی نہیں ملے گی۔ حکومت نے یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے 2012 کے فیصلے کے پیش نظر کیا ہے جس میں حج سبسڈی 2022 تک بتدریج ختم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔مسٹر نقوی نے کہا کہ سبسڈی کی اس رقم کو حکومت مسلم معاشرے بالخصوص مسلم خواتین میں تعلیم کو فروغ دینے پر خرچ کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ اس سال ملک سے حج پر جانے والے لوگوں کے کوٹے میں 5000 کا اضافہ کردیا گیا ہے اور اب ایک لاکھ پچہتر ہزار عازمین حج پر جائیں گے ۔ پچھلے سال یہ تعداد ایک لاکھ ستر ہزار تھی۔مسٹر نقوی نے بتایا کہ آئندہ ماہ سے حج کے لیے قرعہ اندازی شروع ہوگی۔ اب تک تقریباً چار لاکھ درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ 2012 تک حج کے لیے تقریباً 7 سو کروڑ روپئے سبسڈی دی جاتی تھی اور سپریم کورٹ کے حکم کے بعد سے حکومت دھیرے دھیرے سبسڈی کم کرتی جارہی تھی اور پچھلے سال سبسڈی کی رقم 250 کروڑ روپئے ہوگئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سبسڈی کی رقم ایئر انڈیا میں چلی جاتی تھی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حج کرنے والوں کو سفر کے سستے متبادل کے طور پر بحری سفر کے ذریعے تیز رفتار کروز سروس بھی شروع کی جائے گی جس میں دو سے تین دن لگیں گے ۔ جب کہ پہلے بحری جہازوں کے ذریعہ ایک طرف کی سفر میں ایک ڈیڑھ مہینے تک لگ جاتے تھے ۔ مسٹر نقوی نے بتایا کہ محرم کے بغیر حج پر تنہا جانے والی 1300 خواتین کا انتخاب قرعہ اندازی سے کرلیا گیا ہے ان کی مدد کے لیے خاتون خدمتگار وں کی تقرری کی گئی ہے ۔ حج کے دوران ان کے قیام اور آمد و رفت کے لیے علاحدہ انتظامات کیے جائیں گے ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سبسڈی ختم کرنے کے باوجود حکومت کی طرف سے دوا و علاج اور سیکورٹی کی سہولتیں جار ی رہیں گی۔اس فیصلے کے سیاسی نتائج کے بارے میں بات کرتے ہوئے مسٹر نقوی نے کہا کہ ’’یہ وقار کے ساتھ حج ‘‘کوسہل بنانے کے لیے کیا گیا اچھا فیصلہ ہے ۔مسلمانوں کی مذہبی روایات میں سبسڈی کے ساتھ حج کرنا مناسب نہیں ہے ۔سبسڈی کو پچھلی حکومتوں نے ناز برداری کی پالیسی کے تحت شروع کیاتھا جب کہ مودی سرکار نے مسلمانوں کو وقار کے ساتھ حج کا فریضہ ادا کرنے کا حق دیا ہے ۔مسلم ووٹوں پرپڑنے والے اس فیصلے کے اثرکے بارے میں دریافت کیے جانے پر مسٹر نقوی نے کہا کہ ہمارا ترقی کا ایجنڈہ ووٹوں کا سودا نہیں ہے ۔

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com