تاریخی تردد

تحریر: رام مادھو
بی جے پی کے قومی جنرل سیکریٹری
، انڈیا فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر اور‏RSS کے سابق تھنک ٹینک پرچارک
ترجمہ: ریاض الدین مبارک

اسرائیل اور بھارت فطری دوست ہیں لیکن صرف وزیر اعظم مودی کا جگر ہے کہ انہوں نے تل ابیب کے ساتھ 70 سالہ نفرت کا رویہ دور کرنے میں کامیابی حاصل کی!
“سواگت ہے میرے دوست! پر اتنی دیر کیوں لگی؟ ہم تو 70 سالوں سے آپ کا انتظار کر رہے ہیں”، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتنیاہو نے نریندر مودی سے تب کہا تھا جب وہ گزشتہ سال جولائی میں اسرائیل کے دورے پر گئے تھے۔
نتنیاہو ٹھیک کہہ رہے ہیں، اب دیکھئے آزادی کے بعد کسی بھی ہندوستانی وزیر اعظم کو اسرائیل کی سرزمین پر قدم رکھنے کے لئے 70 سال لگ گئے اور اسی طرح بھارت جیسے اہم ملک نے 1992 میں اس ملک کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے میں آخر 25 سال لگا دئے.
اسرائیلیوں نے اپنے طور پر اس رشتے کو استوار کرنے میں ہمیشہ بہت دلچسپی ظاہر کی۔ اسرائیلی صدر ایزر ویزمن نے 1997 میں بھارت کا دورہ کیا. ایریل شارون نے بطور وزیر اعظم ستمبر 2003 میں بھارت میں قدم رکھا، وزارتی سطح پر دونوں ممالک میں دونوں طرف سے کئی دورے شروع ہوئے. 2006 میں مودی نے گجرات کے وزیر اعلی کی حیثیت سے اسرائیل کا دورہ کیا. اسوقت انہوں نے گجرات میں آبپاشی اور زراعت جیسے شعبوں میں متعدد اسرائیلی ٹیکنالوجی کو متعارف کرایا.
بالآخر وزیر اعظم کے طور پر مودی نے اسرائیلیوں کو مایوس نہیں کیا، وہ اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے ہندوستانی وزیر اعظم بنے جس نے سات دہائیوں کی پابندی کا طلسم توڑا۔ بطور وزیر اعظم مودی اور نتنیاہو نے 2014 میں نیویارک میں پہلی بار ملاقات کی تھی جو تاریخ کا ایک نا قابل فراموش حصہ ہے۔
ایک طرف وزیر اعظم مودی نے پہلی بار اقوام متحدہ میں 17 ستمبر 2014 کو تقریر کی اور 29 ستمبر کو امریکہ سے ان کی واپسی طے تھی، تو دوسری طرف نتنیاہو کی تقریر 30 ستمبر کو ہونی تھی اور ایسی صورت میں دونوں کے درمیان ایک ملاقات نا ممکن لگ رہی تھی۔ لیکن دونوں رہنماؤں نے نہ صرف ایک مضبوط خواہش کو پورا کرنے کے لئے اپنا عزم ظاہر کیا بلکہ اپنے متعلقہ ڈپلومیٹک اور پروٹوکول اداروں کو نظرانداز کرنے کا حوصلہ دکھایا اور بالآخر 28 ستمبر کو ان کی ملاقات ہو پائی!
اس طرح نتنیاہو کو اپنا امریکی دورہ 48 گھنٹہ پہلے کرنا پڑا اور وہ اس روز دوپہر تک نیویارک پہنچ گئے. مودی کے لئے یہ قائم شدہ کنونشن سے ایک وقفہ تھا کہ جب بھی ہندوستانی قیادت اپنے اسرائیلی ہم منصبوں کے ساتھ ملاقات کرتے تو لازمی طور پر وہ فلسطینی حکام کے ساتھ بھی ملاقات کرتے تھے تاکہ توازن برقرار رہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے 26 ستمبر کو ہی اقوام متحدہ میں اپنی تقریر پیش کی اور واپس لوٹ گئے۔ اس طرح ان کے اور مودی کے درمیان ملاقات نا ممکن ٹھہری. کنونشن کے اعتبار سے بھارتی وزارت خارجہ نے اسرائیل کو اس بات سے مطلع کر دیا تھا کہ مودی اور نتنیاہو کے مابین ملاقات ناممکن ہے۔ یہ تو وزیر اعظم مودی تھے جنہوں نے سارے بندھن توڑ دئے اور آگے بڑھ کر ملاقات کو ممکن بنایا۔
در حقیقت جب طے شدہ کنونشن سے روانگی ہو رہی تھی تو ہم میں سے کسی کے بھی خیال میں یہ بات نہیں آئی کہ یہ ایک بڑی پالیسی کی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے جو عمومی طور پر ڈی ہائفینیشن de-hyphenation کے طور پر جانا جاتا ہے.
‏De-hyphenation کا مطلب یہ بالکل نہیں ہوتا کہ کسی ملک کو خارج کردیا جائے اس کے برعکس یہ قوموں کے ساتھ دو طرفہ باہمی مضبوط بنیادوں پر تعلقات قائم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ فلسطین کے ساتھ ہمارے تعلقات دو طرفہ مفادات پر مبنی ہیں جو اسرائیل سمیت کسی بھی تیسرے ملک کے ساتھ ہمارے تعلقات کی وجہ سے متاثر نہیں ہوسکتا. مستقبل میں وزیراعظم مودی کسی مناسب وقت پر صرف فلسطین کے دورے پر جا کر اپنے اس موقف کو عملی جامہ عطا کریں گے۔
“ہم 70 سال سے انتظار کر رہے ہیں”، یہ کہہ کر نتنیاہو نے ایک گمبھیر نقطے کی طرف اشارہ دیا۔بھارت اور اسرائیل میں کئی چیزیں مشترکہ ہیں جو ایک دوسرے کو فطری دوست بناتی ہیں۔ دونوں سابق برطانوی کالونی تھے۔ آزادی کے بعد دونوں نے خانہ جنگی جیسی صورتحال کا سامنا کیا۔ اسرائیلیوں نے فلسطینیوں کے ساتھ اور بھارتیوں نے پاکستانیوں کے ساتھ۔ دونوں ایک غیر جمہوری پڑوس کے ساتھ دو جمہوری قوم کے طور پر ابھرے ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں اسلامی دہشت گردی کے دائمی شکار ہیں.
تاہم بھارت نے شروع سے اسرائیل کے خلاف ایک دشمنانہ رویہ اپنایا. 1949 میں اقوام متحدہ میں ان کی شمولیت کے خلاف ہم نے ووٹ دیا، مکمل سفارتی تعلقات سے انکار کیا اور اقوام متحدہ میں ہمیشہ فلسطینی کی حمایت کی۔
نہرو کی رومانٹک خارجہ پالیسی، جسکا ایک لازمی حصہ صہیونیت مخالف تھا، بہت حد تک اس رویے کے لئے ذمہ دار تھی. تھیوڈور ہیزز کی قیادت میں صہیونی تحریک کا صرف یہی مطالبہ تھا: “روئے زمین کے کسی خطے کے ایک ٹکڑا زمین پر ہمیں سیادت عطا کردی جائے جو ہمارے لوگوں کی ضروریات کے لئے کافی ہو”۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہندوستانی قیادت جس نے پاکستان کی تخلیق کے لئے اپنے علاقے کا ایک بڑا حصہ بخوشی دے دیا اس نے یہودیوں کی اس “اجتماعی خواہشات” کی مخالفت کی جیسا کہ شمعون پیریز نے اس کو اپنی کتاب No Room for Small Dreams میں لکھا. یہاں تک کہ مہاتما گاندھی نے بھی اصرار کیا کہ “فلسطین عربوں کا ہے ٹھیک ویسے ہی جیسے انگلینڈ انگریزوں کا اور فرانس فرانسیسیوں کا۔ یہودیوں کو عربوں کے گلے منڈھنا غیر قانونی اور غیر انسانی ہے۔”
70 سالوں بعد اب جا کر تاریخ نے یو ٹرن لیا ہے۔ یروشلم میں نتنیاہو نے مودی کے بغل میں کھڑے ہوکر اعلان کیا: “ہم بھارت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعلقات کے امکانات کو دیکھ کر بہت حوصلہ مند ہیں. ہم آسمان کی حدوں کو چھونا چاہتے ہیں”، انہوں نے مزید کہا کہ” ہم دو عریق قوم ہیں بلکہ کرہ ارض پر سب سے قدیم ترین قوم لیکن ہم دونوں جمہوری ملک بھی ہیں ہمیں اپنی بھر پور روایات پر فخر ہے لیکن ہم مستقبل کو اپنی مٹھی میں کرنے کے خواہاں بھی ہیں۔”
بھارت کے سامنے ایک بڑا مستقبل اور سیکھنے کے لئے بہت اچھے اسباق ہیں۔ اسرائیل ایک ایسا ملک ہے جس نے اپنی آزادی کے لئے بھاری قیمت چکائی ہے، وہ اس کی قیمت جانتا ہے اور اسی وجہ سے اسکی حفاظت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا ہے. اموس اوز نے Exodus میں لکھا ہے کہ “کس طرح ہزاروں نوجوانوں نے لڑتے لڑتے اپنی جانوں کو قربان کردیا صرف دن میں تین بار روٹی کے ایک ٹکڑے، ایک کپ چائے کی خاطر۔” سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل میں ہمارا معاملہ ایک دائمی رجائیت پسند قوم سے ہے۔ “اگر آپ کا سابقہ ایک ایسے ماہر شخص سے ہوتا ہے جو کہتا ہے ناممکن “Impossible” تو آپ دوسرے ماہر شخص کو تلاش کریں۔” یہ فرمان ہے یہودی ملک کے بانی اور بابائے قوم ڈیوڈ بن غوریون کا۔

 

Only under PM Modi has the 70-year antipathy to Tel Aviv been overcome
The hesitations of history

بشکریہ:ابو اشعر فہیم

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com