اردو ئے معلی : غالب فکر و فن

نام کتاب : اردوئے معلی: غالب فکر وفن

مصنف : عبدرالرحمان جمال الدین

صفحات : 231

سن اشاعت : 2015

قیمت : 280

ناشر : ایجوکیشنل پبلیشینگ ہاﺅس دہلی

مبصر : محمد اشرف یاسین

معرفت : D-103 زہرہ پبلک اسکول شاہین باغ جامعہ نگر، اوکھلا، نئی دہلی 25

موبائل نمبر : 8750835700

ای میل : mdashrafyaseen@gmail.com

اردوئے معلی مرزا اسداللہ خان غالب کے خطوط کا مجموعہ ہے جن خطوط کو انہوں نے مختلف اوقات میں مختلف لوگوں کو لکھا تھا۔ اردوئے معلی دو جلدوں پر مشتمل ہے پہلی جلد میں مطبع مجیدی کانپور (1992) کے مطابق کل 475 جبکہ دوسری جلد میں 525 خطوط شامل ہیں۔ بقول شخصے” غالب کے خطوط ، بذات خود تاریخ ہیں تہذیب ہیں ، تحقیق ہیں افسانہ ہے ، انشائیہ ہیں ۔ مختصر یہ کہ ایک سجیلا دسترخوان ہیں جس میں کسی نہ کسی کنارے مہمان کے لئے اس کی پسند کا کھانا موجود ہوتا ہے “ اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان کے اردو خطوط نمک ہندی ہیں جس نے اس کا مزہ چکھا اس کا طلبگار ہوا،زیر تبصرہ کتاب اردوئے معلی غالب فکر و فن عبد الرحمان جمال الدین کی پہلی علمی کوشش ہے ۔ جسے انہوں نے بڑی ہی محنت اور عرق ریزی سے قلم بند کیا ہے ، کتاب کے سرسری مطالعے سے ہی ان کی محنت کا اندازہ ہو جاتا ہے ۔
اس کتاب کو انہوں نے کل دو ہی ابواب میں منقسم کیا ہے پہلے باب میں انہوں نے اردوئے معلی ایک تعارف ، اردوئے معلی کی متعدد اشاعتیں ، اردوئے معلی میں غالب کے اشعار ، اردوئے معلی میں دیگر شعراءکے اشعار جسے مضامین و مقالات شامل کئے ہیں ۔ جبکہ دوسرے باب میں خطوط غالب کا زبان و اسلوب ، غالب کے خطوط میں غالب کا تنقیدی شعور ، غالب کے خطوط میں تہذیبی عناصر ، غالب کے خطوط میں تاریخی عناصر ، غالب کے خطوط میں غالب کے سوانحی حالات ، شامل ہیں۔ غالب کے خطوط کے سلسلے میں یہ بات بجا طور پر کہی جا سکتی ہے کہ ان میں بیک وقت تنقیدی ، تہذیبی ، تاریخی ، سوانحی ، عائلی ، معاشی ، سیاسی ، تحقیقی ، ادبی ، معاشرتی ، ثقافتی ، مذہبی ، اخلاقی اور وراثتی و روایتی عناصر بدرجہ اتم موجود ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے جس نے مختلف لوگوں کو مختلف انداز میں ان کے خطوط پر کام کرنے پر امادہ کیا ۔صاحب کتاب نے اس کتاب کی تیاری میں ” اردوئے معلی “ سے خصوصی مدد لی ہے ، اور اس کے اکثر نسخوں پر بھی بحث کی ہے۔ پہلے باب میں اپنی تمام بحثوں کا محور اردوئے معلی ہی کو بنایا ہے ۔ اردوئے معلی کا تعارف پیش کرنے کے بعد انہوں نے اس کی جتنی بھی اشاعتیں دستیاب ہو سکیں ہیں ان تمام کا تذکرہ کیا ہے ۔ کس جگہ سے کون سا نسخہ چھپا اور کس لائبریری میں کون سا نسخہ موجود ہے اور ساتھ ہی ساتھ کس صفحہ پر کس کے نام کا خط ہے یہ تمام چیزیں تفصیل کے ساتھ کتاب کے پہلے باب میں موجود ہیں ۔
خطوط غالب کے زبان و اسلوب کے حوالے سے صاحب کتاب نے بڑی عمدہ بحث کی ہے لکھتے ہیں کہ غالب نے بہت بڑی بڑی باتوں کو چند جملوں میں سمیٹ دیا ہے ۔ کیونکہ وہ باتوں کو مختصر ترین جملوں میں کہہ جانے کا ہنر جانتے ہیں ۔ جیسے،

  نہ دے نامے کو اتنا طول غالب مختصر لکھ دے
کہ حسرت سنبح ہوں عرض ستم ہائے جدائی کا  (غالب)

 غالب کا یہ جملہ بھی زباں زد عام ہے کہ ” میں نے مکالمہ کو مراسلہ بنا دیا “ اسی وجہ سے طرز تخاطب میںبھی تبدیلی پیش آئی ہے خطوط غالب کی ایک مثال جسے انہوں نے میر مہدی مجروح کے نام لکھا تھا ۔ ” میاں کیوں نا سیاسی و نا حق شناسی کرتے ہو ۔ چشم بیمار میرن صاحب قبلہ کی آنکھ کو کہتے ہیں ۔ جسکو اچھے اچھے عارف دیکھتے ہیں تم گنوار چشم بیمار کو کیا جانو “ (ص143)
میر مہدی مجروح کے نام ایک دوسرا خط بھی ہے جس میں انہوں نے محاورات کا استعمال بڑی چالاکی اور چابکدستی سے کیا ہے کہ ۔ ” میں نے پچاس جلدوں کی درخواست پہلے سے دے رکھی ہے ۔ اب پچاس روپئے بھیجوں تو پچاس جلدیں منگاﺅں، دیکھئے نومن تیل کب میسر ہو اور رادھا کب ناچے “ (ص142)
غالب کی تنقید اصلاحی اور تربیتی ہے ان کے یہاں تنقید برائے تنقیص کا عنصر تک بھی نہیں پایا جاتا وہ جس چیز کو غلط سمجھتے ہیں اس کا برملا اور برجستہ اظہار بھی کرتے ہیں ، اور مختلف زاویوں سے اس کی توضیح اور تشریح بھی پیش کرتے ہیں۔ قاضی عبد الجلیل کے نام ایک خط میں انہوں نے لکھا ہے کہ ” فقیر کا قاعدہ یہ ہے کہ اگر غلام میں اغلاط و اسقام دیکھتا ہوں تو رفع کر دیتا ہوں اور سقم سے خالی پاتا ہوں تو تصرف نہیں کرتا“ (ص150)
غالب کے خطوط میں تہذیبی عناصر بھی وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ مسلمانان عالم رمضان المبارک کے پورے مہینے میں دن بھر روزہ سے رہتے ہیں اور عشاءکی نماز کے بعد تراویح کا اہتمام کرتے ہیں ۔میر مہدی مجروح کے نام ایک خط میں غالب نے اس کا تذکرہ اس انداز میں کیا ہے ” یکشنبہ کو غروب ماہ مقدس ہوا ۔ اسی دن سے ہر صبح حامد علی خان کی مسجد میں جا کر جناب مولوی جعفر علی صاحب سے قرآن سنتا ہوں ۔ شب کو مسجد جامع جا کر نماز تراویح پڑھتا ہوں کبھی جو جی میں آتا ہے تو وقت صوم مہتاب باغ میں جا کر روزہ کھولتا ہوں اور سرد پانی پیتا ہوں   (ص178)
صاحب کتاب اس کتاب کے سلسلے میں مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے صرف 231 صفحات میں اس کتاب کو پیش کرکے غالب کے حوالے سے ایک انوکھا اور نمایاں کام کیا ہے اور غالب پر کام کرنے والوں کو ایک نئی جہت دی ہے انہوں نے اپنی کتاب میں اپنے موضوع کے ساتھ حتی الامکان انصاف کرنے کی کوشش کی ہے اور اس میں وہ بہت حد تک کامیاب بھی ہیں۔ باقی کا فیصلہ قارئین پر ہے ہاں طباعت معیاری ہے جبکہ قیمت کچھ زیادہ ہے ۔ پروف ریٹنگ کی خامیاں جا بجا کھٹکتی ہیں بہرحال امید کی جاتی ہے کہ مذکورہ کتاب کی اہل ذوق حضرات ضرور پزیرائی کریں گے۔

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com