خدا کرے کسی اور ملک کی شام نہ ہو

تحریر: عزیر احمد

جواہر لال نہرو یونیورسٹی

آج جے.این.یو میں انٹرنیشنل فوڈ فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا، مختلف ممالک  کے اسٹوڈنٹس نے اپنے اپنے اسٹال لگائے، اور اس میں اپنے ملک کے کھانوں کا نمونہ پیش کیا، فیسٹیول میں میری ملاقات ایک شامی سے ہوئی، باتوں کا سلسلہ دراز ہوا تو میں نے ان سے ان کے ملک کے بارے میں دریافت کیا، میرا سوال سنتے ہی ان کے چہرے پہ اداسی اور غم کے بادل چھا گئے، انہوں نے کہا “میرے عزیز” میرا ملک اس وقت قیامت کا نمونہ پیش کررہا ہے، ہر طرف تباہی بربادی نے اپنا ڈیرہ ڈال رکھا ہے، حقیقت میں یہ تیسری عالمی جنگ ہے” ، میں نے پوچھا کہ ذمہ دار کون ہے اس تباہی و بربادی کا، تو ان کا کہنا تھا کہ بہت سارے لوگ سمجھتے ہیں اور کہتے بھی ہیں کہ اس تباہی کے ذمہ دار خود سیرین قوم ہے، حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے، اس تباہی کی پوری ذمہ داری روس اور امریکا پہ ہے، مفاد کی جنگ نے ملک شام کو قتل و غارت گری کی دہانے پہ پہونچا دیا” ، میں نے ان سے پوچھا کہ عرب ممالک کا کیا رول رہا ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ عرب ممالک کا اپنا کوئی کلیکٹیو اسٹینڈ ہی نہیں، ان کے پاس اپنی کوئی متحدہ رائے نہیں، اگر ہوتی تو شاید بہت ممکن ہے کہ حالات کچھ مختلف ہوتے”.
وقت ہوتا تو باتیں بہت کچھ ہوتیں، ممکن تھا بہت سارے پہلو کھل کے سامنے آتے، پھر دو چار باتوں ہی میں بہت کچھ واضح ہوگیا تھا، شام کی تباہی صرف ایک ملک کی تباہی نہیں بلکہ پورے مسلم امت کی تباہی ہے، آج کبھی کبھار میں سوچتا ہوں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ ہم سے ایک لاش دیکھی نہیں جاتی، اور وہاں کے لوگ کیسے اپنے بھائیوں، بہنوں، ماؤں اور دیگر اعزہ و اقارب کے لاشوں کو کندھا دیتے ہوں گے.
عرب ممالک شام کے مسئلے پہ اگر متحد ہوگئے ہوتے تو شاید کچھ حل نکل آیا ہوتا، مگر پریشانی کی بات یہ تھی کہ ایران بشار کے ساتھ کھڑا تھا، اور سعودیہ اپوزیشن کے ساتھ، دیگر عرب ممالک میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو ظاہری طور بشار مخالف تو تھے، مگر پس پردہ کھیل کچھ اور کھیل رہے تھے، ایران سے ان کے مفادات اس قدر عزیز تھے کہ اس کے مخالف جانا گویا کہ اپنے آپ پہ کلہاڑی مارنے کے مترادف تھا ان کے لئے، پھر ان ممالک میں ترکی کا موقف بھی عجیب منافقانہ رہا، جس نے لاکھوں لوگوں کو پناہ دینا تو آسان سمجھا، مگر شام کے مسئلے پہ کھل کے روس مخالف نہ بن سکا، جب اسے لگا کہ اپوزیشن کامیاب ہوجائے گی تو اپوزیشن کا ساتھ دیا، اور جب احساس ہوا کہ کردوں کا مسئلہ بغیر ایران،روس اور بشار کی مدد کے دبایا نہیں جاسکتا، تو ترکی، روس اور ایران کا الگ بلاک بنا دیا، جس نے شام کے مسئلے پہ غور و فکر کرنے کے لئے دو تین اجلاس بھی کرا لئے، غور و فکر کیا بلکہ من چاہا رزلٹ پانے کے لئے سب ڈھونگ رچائے گئے.
اس تباہی میں ان لوگوں کا بھی بڑا ہاتھ ہے جو دن رات انقلاب انقلاب کے نعرے لگاکے نوجوانوں کو بھڑکاتے ہیں، ان کے ہاتھ میں قلم کاپی دینے کے بجائے انہیں تلوار اٹھانے پہ آمادہ کرتے ہیں، اور ایک بہترین مستقبل کے خواب دکھا کے ان کا حال ہی تباہ کرڈالتے ہیں، اور  خود چپکے چپکے الگ ہوجاتے ہیں، جو خود “الجہاد الجہاد” کے نعرے تو ضرور بلند کرتے ہیں، مگر وہ اور ان کی اولادیں جنگ کا ایندھن بننے سے کوسوں دور ہوتیں ہیں بلکہ بعض کی اولادیں تو  یوروپین اور امریکی یونیورسٹیوں میں پروفیسر بھی بن جاتے ہیں.
مجھے مذہب کے نام پہ پھیلائی گئی بد امنی بہت تکلیف دیتی ہے، شام میں انقلاب کی شروعات کا ایک مقصد بھلے ہی بشار الاسد کا خاتمہ رہا ہو، مگر اس کو حاصل کرنے کے لئے مذہب کا استعمال بہت ناجائز طریقے سے کیا گیا، مذہب کے نام پہ پاور کا حصول اکثر بد امنی اور انارکی کا سبب بنتا ہے، آخر دیکھئیے، بشار الاسد تو  گیا نہیں ہاں اسلامی دہشت گردی کا ایک نیا چہرہ داعش کے نام پہ دنیا کے سامنے ضرور پیش کردیا گیا، جس نے سوائے مسلمانوں کو دیگر ممالک میں مشتبہ بنانے کے سوا کچھ نہیں کیا، داعش کے وجود میں آنے سے کئی محاذوں پہ اسلام دشمنوں کو فائدہ ہوا، ایک تو شامی پوری دنیا میں مشکوک ہوگئے، ہر شامی کا تعلق کسی نہ کسی طرح سے داعش سے جوڑا جانے لگا، مزید اسلاموفوبیا کی آگ بھڑکانے میں اس سے مدد ملی، اور سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ پوری دنیا میں شام اور اہل شام کے مسائل، نیز ان پہ بشار الاسد کے ذریعہ کئے جانے والے مسائل پہ پردہ ڈال دیا گیا، اور ڈسکشن کا محور شام میں امن و سلامتی کے حصول سے پھیر کر پوری دنیا میں ٹیررزم و کاؤنٹر ٹیررزم کو بنا دیا گیا.
شام کے انقلاب کی پوری داستان ایک مستقل ریسرچ کا متقاضی ہے، کس نے جفا کیا، کس نے وفا، اسباب کیا کیا نہیں، بلاک کیسے بنے، کیسے ٹوٹے، کیسی پالیسیاں بنائی گئیں، کتنے کانفرنسز ہوئے، کس قسم کے ریزولوشن پاس کئے، یہ سب مکمل اکیڈمک کام اور فیلڈ ورک ہے، ہاں مگر مجھے اتنا کہنا ہے کہ “ایک ملک تعمیر کرنے میں صدیاں لگ جاتیں ہیں، مگر تباہ کرنے کے لئے گھڑی دو گھڑی ہی کافی ہوتی ہے”، شام میں اپنی تعمیر و ترقی، تہذیب و تمدن، حضارت و ثقافت میں اپنی مثال آپ تھا، آج صرف کھنڈریں ہی کھنڈریں ہیں، اور ان کھنڈروں میں بھٹکنے والی ان مکینوں کی سسکتی بلکتی آہیں، اور الؤوں کا غول.
سوچئیے ذرا اگر شام تباہ نہ ہوا ہوتا تو غریب مسلم ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کے لئے اس ملک میں تلاش رزق کے لئے کتنی آسانیاں ہوتیں، ایک مسلم ملک کا مضبوط ہونا گویا دیگر ممالک میں اقلیتوں کے روپ میں بسنے والے مسلمانوں کا مضبوط ہونا ہے، میری دعا ہے کہ خدا کرے اب افغانستان، عراق، فلسطین، لیبیا، یمن، اور شام کے بعد کسی اور مسلم ملک کا نمبر نہ آئے کہ اب یہ امت مزید تباہی برادشت کرنے کی حالت میں نہیں ہے.

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com