قطر سے ناطہ توڑنے پرسعودی سمیت 12 ممالک مجبور کیوں ہوئے؟

ڈاکٹر اجمل منظور مدنی

ٹیلی ویزن چینلوں، اخبارات اور سوشل میڈیا کے تمام ذرائع میں یہی مشہور کیا جاتارہا ہے کہ سعودی نے قطر پر بڑا ظلم کیا ہے ۔ اس سے تمام سیاسی اور سفارتی تعلقات منقطع کر لئے ہیں۔ ان لوگوں نے اس پر تمام طرح کی اقتصادی پابندیاں لگا دی ہیں۔اس کی ہر طرح سے ناکہ بندی کر دی ہے بلکہ اس چھوٹے مظلوم ملک کاظالم سعودی نے محاصرہ کر رکھا ہے جس کی بنیاد پرایران، ترکی جیسے ہمدرد ممالک سے مدد مانگنے پر قطر مجبور ہوگیا۔  خبروں میں سعودی کے ساتھ بارہ ممالک کا ذکر کبھی نہیں کیا جاتا ہے بلکہ صرف سعودی کو یاکبھی کبھار اسکے ساتھ امارات ، بحرین اور مصر کا نام لے لیا جاتا ہے۔تمام تحریکی اور رافضی سعودی اور اسکے اتحادیوں کو ظالم بناکر اور قطر کو مظلوم بناکر نیز ترکی اور ایران کو مسلمانوں کاہمددر بنا کر پورے عالم میں مشہور کر رہے ہیں۔ اس میں کتنی سچائی ہے؟ اس کے کیا مضمرات ہیں؟ اس کے پیچھے ان کے کیا مقاصد واہداف ہیں؟ قطر سے قطع تعلق کے اسباب وعوامل کیا ہیں؟ قطر سے تعلقات ختم کرنے پر سعودی مجبور کیوں ہوا؟ اس کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟ اس جیسے بہت سارے اسرار و مضمرات کی پردہ دری کرنے کی کوشش اس مضمون میں کی گئی ہے جن پر اب تک رافضیوں اور تحریکیوں نے پردہ ڈالا ہوا تھا۔  قطر جزیرة العرب کے خلیجی سنی ممالک میں سے ایک ملک ہے ۔ خلیجی تعاون مجلس (GCC) کا ممبر ہے۔ آبادی اور رقبہ کم ہونے اور ذرائع آمدنی زیادہ ہونے کی وجہ سے دنیا کا مالدار ترین ملک ہے۔ یہاں اٹھارہ لاکھ لوگ رہتے ہیں جن میں اصلی باشندے صرف تین لاکھ ہیں باقی پندرہ لاکھ غیرملکی (اجانب) باشندے رہتے ہیں۔ زمانے سے برطانیہ کا اس عربی علاقے پر قبضہ تھا ۔ 3/ستمبر 1971 میں اس علاقے نے آزادی حاصل کی ۔ اس وقت سے عرب قبیلوں میں سے ایک مشہور قبیلے بنو تمیم کا ایک شاخ آل ثانی وہاں حکومت کر رہا ہے۔  قطر جس کا رقبہ محض ساڑھے گیارہ ہزار مربع کلو میٹر ہے جبکہ سعودی کا رقبہ تقریبا بائیس لاکھ مربع کلو میٹر ہے نیز قطر کی پوری آبادی کے مقابلہ سعودی کے صرف ایک شہر ریاض میں تقریبا چار گنا زیادہ آبادی ہے یعنی اٹھارہ لاکھ کے مقابلے پینسٹھ لاکھ۔ قطرکو اپنی ضروریات کی تقریبا 95 % فیصد اشیاءدوسرے ممالک خصوصا امارات ،سعودی اور دیگر خلیجی ممالک سے برآمد کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ ایک چھوٹے پڑوسی اور دوست ملک ہونے کے ناطے سعودی اور دیگر خلیجی دوست ممالک نے قطر کے حالیہ حکمرانوں کو انکی خلیجی ممالک دشمنوں خصوصاً اسرائیل اور ایران سے دوستی کرنے ، تشدد پسندوں کی سرپرستی کرنے نیز جزیرة العرب میں تمام شرو فساد اور فتنوں کو ہوا دینے جیسے بہت سارے اسلام اور عرب مخالف سازشوں اوران جیسے بہت ساری غلط پالیسیوں کے اپنانے کی وجہ سے بارہا تنبیہ کی ہے اور ایسی گندی سیاست چھوڑنے کی کئی بار نصیحت کی ہے۔  انہیں نصیحتوں کی ایک کڑی 2013کا وہ ریاض معاہدہ بھی تھا جس میں خلیجی تعاون کونسل کے ممبر ممالک (سعودی عرب، بحرین، امارات، کویت، عمان اور قطر)نے آپس میں برادرانہ تعلقات بناکے رکھنے کا عہد وپیمان کیا تھا۔ خصوصی طور سے قطر کو اس معاہدے کے پابند رہنے کی ہر ایک نے نصیحت کی اور اس کیلئے قطر ہر طرح سے تیار بھی ہوا اور حالیہ امیر قطر تمیم بن حمد نے معاہدے کے تمام بنود پر دستخط بھی کئے۔اس معاہدے میں اس بات کا وعدہ بھی تھا کہ اگر قطر معاہدے کی کسی بھی طرح خلاف ورزی کرے گا تو دیگر خلیجی ممالک کو اسکے خلاف کارروائی کرنے کی آزادی ہوگی۔ اس معاہدے کے نمایاں شرائط اور بنود کچھ اس طرح تھے:
-اخوان المسلمین جماعت کی ہر طرح سے مدد کو روکنا۔
– قطر میں موجود مذکورہ جماعت کے سبھی افراد کا اخراج۔
-خلیجی تعاون ممالک کے کسی بھی مطلوب شرپسند عناصر کو پناہ نہ دینا۔
-خلیجی تعاون ممالک میں سے کوئی بھی ایسی کوئی بھی داخلہ یا خارجہ پالیسی نہ اپنائے جس سے آپسی برادرانہ تعلقات میں بگاڑ پیدا ہو۔خصوصا خارجہ پالیسی اپنانے میں خلیجی ممالک کے متحدہ کاز کی رعایت ضروری سمجھے۔
-یمن میں سرگرم کسی بھی ایسے شرپسند عناصر یا تنظیم کی مدد کرنے سے قطر باز رہے جس سے آپسی برادرانہ تعلقات میں بگاڑ پیدا ہونے کا خطرہ ہو۔
-خلیجی تعاون ممالک خصوصا قطر ایسی تمام تنظیموں اور جماعتوں کے مراکز بند کردیں جو خلیجی باشندوں کو تخریبی امور کی ٹریننگ دیتے ہوں۔
مذکورہ تمام شرائط اور بنود پر سب نے عہد وپیمان اور دستخط کئے لیکن ٹیڑھی دم کے مانند قطر نے تمام شرائط کی خلاف ورزی کی اور خلیجی ممالک سے برادرانہ تعلقات بنانے میں ناکام رہا ۔ لہذا قطر کے نہ سمجھنے اور اپنی غلط پالیسیوں سے باز نہ آنے پر بہت سوچنے سمجھنے کے بعد دیگر خلیجی ممالک (سعودی ، بحرین اور امارات) نے مارچ 2014 میںقطر سے ناراض ہوکر وہاں سے اپنے سفارت کاروں کو واپس بلالیا۔اس پر امیر قطر تمیم بن حمد آل ثانی نے سخت افسوس کااظہار کیا جس سے یہ عام تاثر سامنے آیا کہ قطر کو اپنی غلطیوں پر ندامت کا احساس ہے اور وہ آئندہ متحدہ خلیجی پالیسیوں کا التزام کرے گا۔  چنانچہ اسی سال 16/نومبر 2014 کو کویت کی وساطت سے ریاض میں ایک تکمیلی معاہدہ ہوا جس پر خلیجی ممالک نے قطر کے ساتھ دستخط کئے اور پھر دوبارہ سفارتی تعلقات بحال کر لئے کیونکہ قطر نے اپنی سابقہ روش سے باز آنے اورغلط پالیسیوں کو چھوڑنے کا وعدہ کر لیا تھا ۔اس معاہدہ کے نمایاں شرائط کچھ اس طرح تھے:
-2013 میں پہلے ریاض معاہدے کے تمام شروط وبنود کی قطر پابندی کرے گا ۔
-اس تکمیلی معاہدے کے ایک مہینے کے اندر تمام شروط وبنود کی پابندی اور ان کی تکمیل کیلئے ہر طرح کی کارروائی کر کے قطر پر دیگر خلیجی ممالک کو یقین دہانی کرانا ضروری ہوگا۔
-قطر ان تمام ذرائع ابلاغ کی امداد کرنا بند کردے گا جن سے خلیجی دوست ممالک کی پالیسیوں کو کسی طرح کا نقصان پہونچتا ہو۔
-قطر ان ذرائع ابلاغ پر سختی سے قانونی کارروائی کرے جن سے خلیجی ممالک کو ان سے کوئی خطرہ یا انکی توہین ہوتی ہو۔
-خلیجی دوست ملک مصر کے امن وسلامتی کے استقرار اور سیاسی استحکام کی خاطر خلیجی ممالک میں سے ہر ایک اسکا مالی وسیاسی تعاون کرے۔
-قطر الجزیرہ ٹی وی چینل ، مصر لائیو کاسٹ چینل اور اسی طرح دیگر ان تمام ذرائع ابلاغ کو ختم کرے جن سے مصر کو سیاسی صورت حال اور اسکے امن وسلامتی کو کسی بھی طرح خطرہ لاحق ہو۔
-پہلے ریاض معاہدے اور اس تکمیلی ریاض معاہدے کے شروط وبنود کی خلاف ورزی کرنے پر دیگر خلیجی ممالک کو قطر کے خلاف اپنی پالیسی بنانے اور کارروائی کرنے کی آزادی ہوگی۔
مذکورہ دونوں ریاض معاہدے کے تمام شروط وبنود کی خبریں اور وثیقوں کو(العربیة تنشر وثائق اتفاق قطر مع دول الخلیج 2013-14) کے عنوان سے العربیہ ڈاٹ نیٹ نے 10/ جولائی 2017 کو اپنے درج ذیل ویب سائٹ پر شائع کیا تھا: (www.alarabiya.net/ar/mob/arab-and-world/gulf/2017/07/10)اور اسکے علاوہ المرسال ویب سائٹ نے بھی تفصیل سے شائع کیا تھا: (www.almrsal.com/post/501113)۔ لیکن پہلے کی طرح اس مرتبہ بھی قطر معاہدے کی پابندی نہ کرسکا اور ملک عبد اللہ بن عبد العزیز کی پیشانی کو چوم کر امیر قطر تمیم بن حمد آل ثانی نے پھر دوبارہ دھوکہ دیا اور یہ بھی اسکی صرف ایک منافقانہ چال ثابت ہوئی اسی لئے بعد کے دو تین سالوں میں بالکل واضح ہوگیا کہ قطر اب دہشت گردوں اور تمام عرب ممالک کے دشمنوں کا ایک اڈہ بن کے رہ گیا ہے ۔اس لئے خلیجی ممالک نے قطر پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا اور اس سے مکمل طور سے تعلقات ختم کرلینے کا عزم کرلیا۔  لیکن اس بحران کو ختم کرنے میں کویت کے امیر صباح الاحمد آل صباح نے بڑی کوششیں کیں۔ 5/مئی 2017 کو قطر جاکر وہاں کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی سے خلیجی ممالک کا دوستانہ تعاون کرکے بحران کو ختم کرنے کی اپیل کی۔ وقتی طور پر امیر قطر پر کویتی امیر کی نصیحتوں کا اثر دکھائی تو دیا اور کچھ سوچنے اور غور وفکر کرنے کا وقت بھی مانگا چنانچہ امیرکویت کسی حد تک مطمئن ہوکر دوسرے دن یعنی 6/ مئی کو سعودیہ کا سفر کیا اور چند دنوں میں بحران کے خاتمے کی امید دلائی لیکن دوہفتے گزرنے کے بعد بھی جب قطر سے کوئی جواب نہ ملا تو بالآخر22/مئی 2017 کو سعودی اور اس کے اتحادیوں نے کویت کے واسطے سے قطر کو دس دنوں کی مہلت دیکر الٹی میٹم بھیجا اور رازدارانہ طریقے سے 13/ مطالبات یہ کہہ کر بھیجے کہ قطر اگر انہیں مان کر اپنے وعدے پورا کردیتا ہے اور خلیجی ممالک کے متحدہ تمام معاملات میں مخلصانہ ساتھ دیتا ہے تو اسکے ساتھ دوستانہ تعلقات باقی رکھے جائیں گے بصورت دیگر مہلت ختم ہونے کے بعد ہر طرح کے تعلقات ختم کرلئے جائیں گے۔ لیکن اس آخری سنہری موقعے کو بھی قطر نے گنوا دیا اور دشمنوں کے بہکاوے میں آکرنیز ابلہانہ وتکبرانہ رویہ اپنا کر کویت کے لاکھ سمجھانے کے باوجودبھی سارے مطالبات کو رد کردیا ۔یہی نہیں بلکہ جن مطالبات کو راز میں رکھنے کیلئے کہا گیا تھا انہیں منظر عام پر لاکر قطر نے حماقت اور رزالت کا بھی ارتکاب کیا۔ چنانچہ مطالبات کو رد کرنے اور اس کی ہٹ دھرمی اور اس کے علاوہ بہت سارے اسباب وعوامل تھے جن کی بنیاد پر 5/جون 2017 کو سعودی، بحرین، امارات، مصر، یمن، لیبیا، مالدیپ،افریقی ملک جزر القمر(Union of Comoros) نے قطر سے اپنے تمام تعلقات ختم کر لئے۔ پھر دوسرے دن یعنی 6/ جون کو اردن نے بھی اپنے سفارتی تعلقات کو محدود کرنے کا اعلان کردیا اور ساتھ ہی اپنے ملک میں الجزیرہ ٹی وی چینل کی آفس بند کردی۔ اردن کے ساتھ موریتانیا اور سنیگال نے بھی قطر سے اپنے تمام تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔جبکہ تیسرے دن یعنی 7/ جون کو جیبوتی نے بھی اپنے سفارتی تعلقات کو محدود کرنے کا اعلان کردیا۔  آئیے دیکھتے ہیں سعودی اور اسکے اتحادیوں کے آخر وہ کون سے مطالبات تھے جنہیں رد کرکے قطر نے بہت بڑی حماقت کی ہے:
1-الجزیرہ ٹی وی چینل کو بند کیا جائے۔ اس چینل کی عرب دشمنی ہی کی وجہ سے سعودی اور اسکے اتحادیوں میں جن کے یہاں اسکی آفس تھی انہوں نے مکمل طور سے بند کردیا اور اسکے کسی بھی نامہ نگار اور رپورٹر پر پابندی لگا دی۔
2- قطر ایران سے اپنے سفارتی تعلقات ختم کر لے ، قطر میں موجود تشدد پسند پاسداران انقلاب کے تمام فوجیوں کو نکال دے اور تہران پر امریکی پابندیوں کے ضمن میں آنے والے ایرانی تمام تجارتی لین دین بند کر دے۔
3- قطر میں موجود ترکی فوجی اڈے کو بند کردے نیز انقرہ کے ساتھ تمام عسکری تعاون ختم کر لے۔
4- قطر تشدد پسند جماعت(اخوان المسلمین) سے اپنے تعلقات ختم کر لے ۔ساتھ ہی ان تمام دہشت گرد تنظیموں سے بھی کسی طرح سے تعلق نہ رکھے جن سے جزیرة العرب کو کسی نہ کسی طرح شدید نقصان پہونچ رہا ہے جیسے حزب اللہ، تنظیم القاعدہ، تنظیم داعش وغیرہ۔
5- سعودی، امارات، بحرین اور مصر کے کسی بھی باشندے کو قطر نیشنلٹی نہ دے، نیز جنہیں نیشنلٹی دے چکا ہے انہیں رد کردے ۔ یہ دوسرے دوست ممالک کے داخلی معاملات میں دخل اندازی نہ دینے کے پہلو سے تھا۔
6-وہ اشخاص جو مختلف الزامات کے تحت مذکورہ چاروں ممالک کو مطلوب ہیں اور قطر نے انہیں پناہ دے رکھا ہے واپس کردے۔
7- امریکہ کی دہشت گرد لسٹ میں جو بھی تنظیم وجماعت اور اشخاص ہوں انہیں قطر کسی بھی طرح کے تعاون دینے سے باز رہے۔
8-مذکورہ چاروں ممالک کے وہ حکومت مخالف اشخاص جنہوں نے قطر سے کسی بھی طرح سے مالی وسیاسی تعاون حاصل کیا ہو ان کی تفصیلی معلومات ان ممالک کو سونپ دے۔
9 – سابقہ سالوں کے دوران قطر کی منفی سیاست کی وجہ سے مذکورہ چاروں ممالک کوجو بشری اور مالی نقصانات ہوئے ہیں ان کی پوری طرح بھرپائی کرے۔ اسکے لئے ایک غیر جانبدار کمیٹی ہوگی جو اس معاملہ کو طے کرے گی۔
10- ہر پہلو سے خلیجی ممالک کی خارجہ وداخلہ پالیسیوں کو اپناتے ہوئے قطر اپنے آپکو عرب ممالک سے پوری طرح ہم آہنگ کرلے جس سے جزیرة العرب میں امن وامان کی یقینی صورت حال قائم ودائم رہے۔ اور اسکے لئے ریاض معاہدہ 2013 اور تکمیلی ریاض معاہدہ 2014 کی پوری طرح پابندی کرے ۔
11- سعودی اور اسکے اتحادی کسی بھی ملک کے داخلی معاملات میں قطر دخل اندازی نہ کرے ۔ نیز ان ممالک کے جن حکومت مخالف لوگوں کی کسی بھی طرح سیاسی یا مالی امداد کی ہو اسکی تفصیلی معلومات متعلقہ ملک کو فراہم کردے۔
12- سعودی اور اسکے اتحادی کسی بھی ملک میں حکومت مخالف کسی بھی طرح کے ذرائع ابلاغ پر مالی یا کسی بھی طرح کے تعاون سے قطر بازرہے۔
13-مذکورہ تمام مطالبات کی دس سال تک مکمل نگرانی ہوگی چنانچہ اسکے لئے قطر کو ہر سال برابر ان مطالبات کے پورا کرنے کی یقین دہانی رپورٹ کی شکل میں کرنی ہوگی۔اس مختصر تاریخی پس منظر کے بعد ان اسباب وعوامل پر روشنی ڈالوں گا جن کی بنا پر سعودی اور اسکے اتحادی ممالک نے قطر سے تعلقات توڑے ہیں:
-قطر میں1996 کے ناکام انقلاب کے پیچھے اس وقت کے امیر حمد بن خلیفہ نے اس کا الزام سعودی عرب پر لگادیا ۔ اسی وقت سے قطری حکام سعودی سے دشمنی کرتے چلے آئے ہیں۔ اور حالیہ امیر قطر تمیم اور ماں موزہ کو سعودی عرب جیسے صاف ستھری پالیسی تو بالکل پسند نہیں آتی۔ اس لئے تمیم بن حمد کے دور حکومت میں سعودی اور دیگر خلیجی ممالک کے خلاف دشمنی کا سلسلہ مزید بڑھ گیا ہے۔
-1995میں باپ کی کرسی چھین کر اسی سال بلا تاخیر اس وقت کے باغی قطری حاکم حمد بن خلیفہ آل ثانی نے پہلی فرصت میں تمام قومی، دینی، اخلاقی ، روایتی اور علاقائی اقدار کو روندتے ہوئے علانیہ طور پر اکتوبر1995 ہی میں صہیونی ریاست اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرلئے۔اور رفتہ رفتہ دونوں ملکوں کے درمیان رشتے مضبوط ہوتے گئے۔ جوکہ دیگر خلیجی ممالک کے خارجہ پالیسی کے یکسر متضاد ہے۔ اس اہم نقطے پر ایک الگ مضمون میں قدرے تفصیل سے گفتگو کی جائے گی۔ ان شاءاللہ
-حمد بن خلیفہ ہی کے دور حکومت سے قطر ی حکام نے رافضی ایران سے تعلقات بڑھانا شروع کردیا ۔ ایران کی سنی دشمنی پالیسی مشرق وسطی اور خصوصا سنی ممالک کے تعلق سے بالکل واضح ہے جس کی صراحت گاہے بگاہے کئی ایک ایرانی سرکاری اہل کار خصوصا فوج اوردفاع کے ذمہ داران کرتے رہتے ہیں۔ بلکہ ایک لفظ میں کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت پوری ایرانی رافضی مجوسی حکومت خمینی کے ولایت الفقیہ نظریئے کو پورے عالم اسلام میں لاگو کرنے کے فراق میں ہے۔ اس رافضی حکومت سے اس وقت قطری حکام نے بہت ہی گہرے تعلقات بنا لئے ہیں۔ اس اہم نقطے کو بھی ایک الگ مضمون میں قدرے تفصیل سے دیکھا جائے گا ۔ ان شاءاللہ
-خلیجی ملکوں خصوصا سعودی کو اس وقت قطر ایک بہت بڑے دھوکے میں مبتلا کیا جب اپنے سنی پڑوسی ممالک کو چھوڑ کر اپنی سرزمین میں دنیا کی سب سے بڑی گیس کے فیلڈ میں سنی دشمن ملک رافضی ایران کو پاٹنر شپ بنا لیا اور اپنے ملک کے گیس فیلڈ سے ایرانی گیس فیلڈ (South Persian Field) کو پائپ لائن سے جوڑ دیا۔
-سعودی عرب کے مشرقی علاقہ قطیف جہاں شیعہ کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں خصوصا عوامیہ علاقہ جہاں انکی اکثریت ہے ۔ اس علاقے میں ایران کے ساتھ ساتھ قطر بھی دہشت گردی پھیلانے اور اس علاقے کو حکومت کے خلاف ابھارنے نیز ان کی فکری، مالی اور اسلحہ جاتی اعتبار سے قطر ایران سے بھی زیادہ تعاون کرنے لگا تھا۔ اور دوسرے تباہ شدہ عرب ممالک کی طرح ایرانی قطری گٹھ جوڑ سعودی کو بھی تباہی کے دہانے پر لانا چاہ رہا تھا لیکن اللہ نے انہیں رسوا کیا اور مملکت توحید کے اندر ان کی نہیں چل پائی ۔
-قطر کے اندر دوسرے ہی سال نومبر 1996 میں بی بی سی لندن عربک کی شاخ کے طور پر الجزیرہ ٹی وی چینل کی تاسیس عمل میں لائی گئی جس نے عالمی پیمانے پر بطور خاص سعودی عرب اور دیگر سنی خلیجی ممالک کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیا۔ یہ بھی ایک بہت بڑا عامل ہے جسے ایک الگ مضمون میں تفصیل سے بیان کیاگیا ہے۔
– خلیجی بحران کے پیچھے اس اماراتی عورت (اعلاءالصدیق) کو بتایا جاتا ہے جس کا تعلق اخوان المسلمین جماعت کے نسواں گروپ سے ہے اور جس کے والد محمد عبد الرزاق الصدیق تحریکی سیاسی جماعت اتحاد علماءالمسلمین کے ممبر ہیں۔ اسکا شوہر عبد الرحمن باجبیراماراتی بھی تحریکی ہے جو کچھ سال دوحہ میں رہ کر برطانیہ چلا گیا جہاں اس وقت سیاسی پناہ میں ہے۔ جو 2013 سے دوحہ میں رہ رہی ہے اور وہیں پر( حقوق المرأة فی الخلیج) نامی کتاب لکھی جس میں امارات کو سخت تنقید کا ہدف بنایا اور اس کتاب کو الجزیرہ چینل نے اپنے ویب سائٹ پر نشر کردیا۔ اعلاءالصدیق پر قانونی چارہ جوئی کیلئے اماراتی حکومت نے دوحہ سے اسے طلب کیا لیکن تمیم نے اسے سونپنے سے منع کردیا اور اسے قطر میں سیاسی پناہ دیدی۔ امارات اسی وقت سے قطر کے خلاف ہے۔
– ایک اہم سبب وہ حادثہ بھی ہے جس میں قطر کی طرف سے ایران نواز عراقی ملیشیا کو ایک بہت بڑی فدیہ کی رقم(فروتی) دیا گیا۔ در اصل گزشتہ سال اپریل میں 26/ قطری جن میں 9/ افراد شاہی گھرانے سے بھی تھے ، عراقی سر زمین میں شہبازوں کے شکار کیلئے گئے تھے جنہیں ایک ایران نواز عراقی ملیشیا نے اغوا کر لیا تھا ۔ چنانچہ تمیم نے انہیں چھڑانے کیلئے خصوصی طیارہ بھیجا جس نے جاکر (300)ملین امریکی ڈالر ادا کیا اور قطریوں کو چھڑایا۔ تمیم کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ سارا واقعہ ایک پلاننگ کے تحت تمیم کی مرضی کے مطابق وقوع پزیر ہوا ہے (جس میں در اصل رافضی شدت پسندوں کا تعاون مقصود تھا)۔
-سعودی اتحادی ممالک کی طرف سے شدت پسندگروہ ماننے کے باوجود قطری حکمرانوں نے حماس کے فلسطینی جنگجو ملیشیاؤں کو پناہ دیا اور ان کی ہر طرح سے مالی امداد کی ۔ حالانکہ معلوم ہے کہ اس وقت حماس اعلانیہ طور پر بالکل ایرانی رافضیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔ نیز جس مقصد کے تحت شیخ یاسین نے اسے قائم کیا تھا اس مقصد کو اس کے ذمیدارن بھول چکے ہیں۔ اور اس وقت صرف حزب اللہ اور رافضی ایران کے مقاصد کو پورا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
-اقوام متحدہ کی تنظیم یونسکو کے ساتھ قطرنے بھی عراق کے اندر آباد کاری اور وہاں تعلیم کی ترقی کے نام پر 2003 ہی میں (الصندوق الدولي للتعلیم العالی-International Fund for Higher Education) کے نام سے تعلیمی فنڈ کھول رکھا ہے جس سے رافضی پورا فائدہ اٹھاتے ہیں اور اسی نام پر قطر کروڑوں ڈالر میں عراقی رافضیوں کی مدد کرتا ہے۔
– مصری سیاسی جماعت اخوان المسلمین کو پناہ دے کر مصر اور دیگر پڑوسی ممالک کو کافی ناراض کیا ۔ حالانکہ اس جماعت پر سعودی اتحادی ممالک نے پابندی لگا رکھی ہے۔ ان تحریکیوں کو ہمیشہ مصیبت کے وقت سعودی نے پورا ساتھ دیا لیکن اپنی شرست کے مطابق انہوں نے ہمیشہ سعودی اور تمام سنی ممالک کے خلاف سازش رچی ۔ دہشت گرد تنظیموں ،رافضی ایرانیوں اور شامی نصیریوں سے ہمیشہ انہوں نے اپنے رابطے رکھے۔ اسلام کے نام پر مصری عوام کو دھوکہ دے کرانہوں نے مرسی کی قیادت میں مصر کے اندر حکومت بنا بھی لی لیکن فورا ان کی اسلام دشمنی کھل کر سامنے آگئی ۔ چنانچہ مرسی نے پہلا دورہ رایران کا کیا اور وہ سارے رافضی حوزات، حسینیات اور امام باڑے جن پر زمانے سے پابندی تھی ان پر سے پابندی ہٹا دی اور مصر کو ایک بار پھر رافضی عبیدیوں اور فاطمیوں کے دور میں ڈھکیلنے کی کوشش کی۔ نیز سعودی وغیرہ سنی ممالک کے خلاف تمام سازشیں حکومتی پیمانے پر کرنا شروع کردیا ۔ نیز اسلام کے نام پر کئے گئے کسی بھی وعدے کو پورا نہیں کیا گیا۔ اور جب حکومت کو سنبھال نہ سکے تو سعودی پر اس کے گرانے کا الزام لگا دیا حالانکہ یہ وہی سعودی ہے جو کئی ایک ملکوں کے ساتھ ملکر یمن جیسے ملک میں وہاں کی حکومت کے ساتھ مل کر وہاں کے حوثی باغیوں کو مارچ 2015 سے گرانے کی کوشش میں ہے لیکن ابھی صنعاءمیں انکی حکومت گرانے میں کامیابی نہیں مل پائی ہے۔  سعودی کے فنڈ پر افغانستان جاکر تحریکیوں نے خارجیت اپنا لی اور سعودی کے پیسے پر پلنے والے انہی تحریکیوں نے سعودی ہی کو کافر ملکوں کی فہرست میں شامل کردیا۔ ڈاکٹر عبد المنعم سعید نے اخبار( الشرق الاوسط) میں شائع شدہ اپنے ہفتے وار کالم میں لکھا ہے کہ مسلم دنیا میں دہشت گردی کے نظریئے کی اصل جڑ بنیاد اخوان المسلمون جماعت کے اندر پیوست ہے۔ امریکی مصنف لارنس رائٹ(Lawrence Wright) نے اپنی کتاب (لڑکھڑاتا ٹاور-The Loomming Tower: Al Qaeda and the Road to 9/11) میں القاعدہ کے بارے میں لکھا ہے کہ بن لادن کی نشوونما اخوان المسلمین کے اصولوں پر ہوئی تھی ۔ ایمن الظواہری کے مراسم اخوان المسلمین سے بڑے واضح ہیں اس پر کوئی کلام نہیں کیونکہ ظواہری نے بذات خود اسکا ذکر اپنی کتاب (The Bitter Harvest)میں کیا ہے۔
-2011 میں عرب بہاریہ کے اندر قطر نے ابتری کے شکار ممالک میں انقلابیوں کی مدد کرنے میں اپنی حیثیت سے کہیں زیادہ بڑھ کر بہت بڑا رول ادا کیا تھا ۔
-قطری حکام پر القاعدہ ، داعش ، حوثی اور دیگر رافضی، نصیری وخارجی دہشت گرد تنظیموں کو فنڈنگ کرنے اور ان کی مالی امداد کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ جو ان کے واسطے خلیجی ممالک میں ہر ممکن طریقے سے بدامنی پھیلانے کا سبب بنا ۔ القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے سربراہوں کو پناہ دی۔ یہی وجہ ہے کہ دوحہ کو (Club Med for terrorists) یعنی دہشت گردوں کا کلب میڈ کہاجارہا ہے۔
-قطر کی سیاسی عدم استحکام بھی ایک اہم وجہ رہی ہے ۔ کیونکہ ایک صدی سے زیادہ عرصے سے قطری حکام ہمیشہ اپنے ہی خاندان کے ہاتھوں بدامنی کا شکار رہے ہیں۔ حالیہ امیر قطر تمیم کے دادا نے اپنے چچیرے بھائی سے 1972 میں قطر کی کرسی چھین لی تھی اور باپ حمد بن خلیفہ نے 1995 میں اپنے باپ یعنی تمیم کے دادا کی کرسی چھین لی ۔ سعودی اور دیگر خلیجی ممالک کے لاکھ سمجھانے کے باوجود بھی یہ حکام اپنی اس عادت سے باز نہیں آتے ہیں ۔ اسی سلسلے کی ایک آخری حالیہ امیر قطر تمیم بھی ہیں۔
– بغاوت کے خوف سے امریکی اور ترکی فوجی اڈے اپنے یہاںقائم کئے جن کی چنداں ضرورت نہ تھی جس پر خلیجی ممالک کو ہمیشہ سے اعتراض رہا ہے۔
-سعودی کے خلاف سازش کرنے کیلئے افریقی ملک لیبیا کے سربراہ معمر قذافی سے دوستی کی لیکن آخر میں اسے بھی دھوکہ دیکر عرب فسادیہ میں باغیوں کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتروا دیا۔ (قطر-أسرار الخزینة ) کتاب کے مطابق قطر نے لیبیا میں انقلابیوں کی صرف مالی مدد ہی نہیں کی تھی بلکہ اسلحے اور فوج سے بھی مدد کی تھی۔ اپریل 2011 کے شروع میں قطر نے لیبیا کے انقلابیوں کی بیس ٹن اسلحوں سے مدد کی تھی حتی کہ سقوط طرابلس کے وقت 20/ اگست کو الجزیرہ چینل پورے حادثے کے بارے میںپل پل کی خبریں نشر کررہا تھا۔ اس دن قطر سے اٹھارہ طیارے طرابلس میں اترے تھے جن میں صرف بندوق، چھوٹے سائز کے میزائل اور ہلکے اسلحے، فوجی گاڑیاں اور فوجی لباس سب شامل تھے۔ طرابلس کے علاوہ بنغازی میں بھی تمام انقلابی مراکز پر قطری امداد برابر پہونچ رہی تھی۔ صاحب کتاب نے یہ بھیانک انکشاف کیا ہے کہ دراصل قطر کا مقصد لیبیا میں ایک بندرگاہ کی تعمیر کرنا تھا جہاں قطری گیس پہونچانا تھاپھر وہاں سے پورے یورپ میں لے جانا تھا۔ کیونکہ قطر میں دنیا کے اندر سب سے بڑا گیس کا خزانہ موجود ہے۔ لیکن اہل لیبیا کو اس قطری سازش کا پتہ چل گیا جنہوں نے قطری گھناؤنے مفاد کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ بلکہ یہی گھناؤنا مفاد ٹیونس ، مصر اور شام وغیرہ میں بھی بتایا جاتا ہے۔ تاکہ یہ ممالک کمزور ہوجانے کے بعد اپنے ملک میں موجود گیس کے خزانوں کا استعمال نہ کر سکیں جسکا قطر عالمی پیمانے پر پورا فائدہ اٹھا سکے۔
-عرب بہاریہ جسکی ابتداءٹیونس کے اندر فساد سے ہوئی تھی وہاں بھی قطر نے انقلابیوں اور فسادیوں کی ہر طرح مدد کی تھی ، حکام قطر نے کسی نہ کسی طرح سے اسکا اقرار بھی کیا ہے۔
– (قطر- أسرار الخزینة ) کتاب کے مطابق لیبیا کی طرح مصر کے اندربھی حسنی مبارک حکومت کے گرانے میں انقلابیوں کا قطر نے بھرپور مدد کی تھی۔ حالانکہ یہ وہی قطری حکام ہیں جنہوں نے عرب فسادیہ سے پہلے مبارک اور قذافی خاندان سے گہرے تعلقات بنا رکھے تھے۔
– صاحب کتاب نے مزید لکھا ہے کہ لیبیا اور شام میں شدت پسند جماعتوں کی مدد کرنے میں قطری وزیر خارجہ حمد بن جاسم نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے اقوام متحدہ میں ویٹو کے استعمال پر چیک بک ڈپلومیسی (Checkbook Diplomacy) کا گندہ کھیل بھی کھیلا تھا۔
– حمد بن جاسم اور معمر قذافی کے بیچ جو ٹیلی فونک گفتگو ہوئی تھی وہ یوٹیوب میں سنی جا سکتی ہے جس میں دونوں نے سعودیہ کے خلاف تدمیری پلان بنائی ہے ۔ اسی ٹیپ میں حمد بن جاسم کہہ رہے ہیں کہ بارہ سال کے بعد سعودی کئی چھوٹے چھوٹے ملکوں میں بٹ جائے گا۔
– 2003 میں مسعری اور سعد الفقیہ کے ذریعے ملک عبد اللہ بن عبد العزیز آل سعود کو دھوکے سے قتل کرنے کی جو ناکام کوشش کی گی تھی اس میں معمرقذافی کے ساتھ قطری امیر حمد بن خلیفہ کا بھی پورا پورا ہاتھ بتایا جاتا ہے۔ مجلہ البیان اور العربیہ ڈاٹ نٹ وغیرہ پر اسکی تفصیل دیکھا جاسکتا ہے۔
– افریقی امور کے ماہر ڈاکٹر ازہری بشیر نے کہا ہے کہ قرن افریقی (Horn of Africa) کا علاقہ جوکہ عالمی تزویری سیاست کا مطمح نظر بنا ہوا ہے اس اہم علاقے میں صومال کے اندر کئی جزیروں کو ترکی ، ایران اور قطرنے مل خرید ا ہے جہاں سے افریقی ممالک خصوصا صومال میں لبنانی حزب اللہ کے ماہر گوریلا فوجیوں کے زیر تربیت حرکة الشباب جیسی مزید تنظیمیں تشکیل دینا ہے نیز اس علاقے میں سعودی اتحادیوں کے اثرورسوخ کو ختم کرنا اور انہیں ہر دونوں طرف ( مشرق ومغرب) سے گھیرنا ہے۔ (www.emaratalyoum.com/politics/news/2018-14-1.106658)
-آخر میں چند سرکاری بیانات پر اس مضمون کو ختم کروں گا:
-بحرین کا سرکاری بیان: (قامت دولة البحرين بقطع علاقاتها الدبلوماسية مع قطر استنادا إلى إصرار دولة قطر على المضي في زعزعة الامن والاستقرار في مملكة البحرين والتدخل في شؤونها والاستمرار في التصعيد والتحريض الاعلامي ودعم الانشطة الارهابية المسلحة وتمويل الجماعات المرتبطة بأيران للقيام بالتخريب ونشر الفوضى في البحرين في انتهاك صارخ لكل الاتفاقات والمواثيق ومبادئ القانون الدولي دون ادنى مراعاة لقيم او قانون او اخلاق او اعتبار لمبادئ حسن الجوار او التزام بثوابت العلاقات الخليجية والتنكر لجميع التعهدات السابقة.)۔
ترجمہ: چونکہ قطر بحرین کے امن وسلامتی کو تہس نہس کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتا ہے، اسکے تمام معاملات میں دخل اندازی سے باز نہیں آتا ہے، ذرائع ابلاغ کا غلط استعمال کرکے مملکت بحرین کے خلاف لوگوں کو بھڑکاتا ہے، مسلح دہشت گرد تنظیموں کی پوری امداد کرتا ہے، مملکت بحرین کے اندر تباہی پھیلانے نیز بدامنی اور انارکی کو عام کرنے کیلئے ان تمام شدت پسند گروہوں کی مالی امداد کرتا ہے جو واضح طور پر ایران نواز ہیں، یہ سب سازشیں قطر کے حکمراں کھلے بندوں کر رہے ہیں انہیں نہ تو کسی معاہدے اور پابندیوں کا پاس ہے اور نہ ہی عالمی اصولوں اور قوانین کا لحاظ ہے۔ حتی کہ وہ اخلاق ومروت اور پڑوسی کے بنیادی حقوق سے بھی عاری ہیں۔ بلکہ انہوں نے خلیجی تعلقات عامہ کے محکم بنیادوں اور بھی کبھی پاس نہیں کیا اور کئے گئے پچھلے آپسی تمام معاہدوں کو بھی بھول بیٹھے۔ بنا بریںحکومت بحرین نے قطری حکومت سے اپنے تمام سفارتی تعلقات کو ختم کرلیا۔(www.spa.gov.sa/1637284)
-سعودی کا سرکاری بیان:
(لقد اتخذت المملكة العربية السعودية قرارها الحاسم هذا (قطع العلاقات مع قطر) نتيجة للانتهاكات الجسيمة التي تمارسها السلطات في الدوحة ، سراً وعلناً ، طوال السنوات الماضية بهدف شق الصف الداخلي السعودي ، والتحريض للخروج على الدولة ، والمساس بسيادتها ، واحتضان جماعات إرهابية وطائفية متعددة تستهدف ضرب الاستقرار في المنطقة ، ومنها جماعة (الإخوان المسلمين) و (داعش) و(القاعدة) ، والترويج لأدبيات ومخططات هذه الجماعات عبر وسائل إعلامها بشكل دائم ، ودعم نشاطات الجماعات الإرهابية المدعومة من إيران في محافظة القطيف من المملكة العربية السعودية ، وفي مملكة البحرين الشقيقة وتمويل وتبني وإيواء المتطرفين الذين يسعون لضرب استقرار ووحدة الوطن في الداخل والخارج ، واستخدام وسائل الإعلام التي تسعى إلى تأجيج الفتنة داخلياً كما اتضح للمملكة العربية السعودية الدعم والمساندة من قبل السلطات في الدوحة لميليشيا الحوثي الانقلابية حتى بعد إعلان تحالف دعم الشرعية في اليمن.وإنه منذ عام 1995م بذلت المملكة العربية السعودية وأشقاؤها جهوداً مضنية ومتواصلة لحث السلطات في الدوحة على الالتزام بتعهداتها ، والتقيد بالاتفاقيات ، إلا أن هذه السلطات دأبت على نكث التزاماتها الدولية ، وخرق الاتفاقات التي وقعتها تحت مظلة دول مجلس التعاون لدول الخليج العربية بالتوقف عن الأعمال العدائية ضد المملكة ، والوقوف ضد الجماعات والنشاطات الإرهابية ، وكان آخر ذلك عدم تنفيذها لاتفاق الرياض)۔
ترجمہ: مملکت سعودی عرب نے یہ فیصلہ کن قدم (قطری حکومت سے قطع تعلق)درج ذیل اسباب کی بنیاد پر اٹھانے پر مجبور ہوا ہے: گزشتہ کئی سالوں سے قطر خفیہ اور ظاہر ہر اعتبارسے سعودی کے اندر امن عامہ کو تہس نہس کرنے کی مسلسل سازشیں کرتا رہا ہے۔ سعودی عوام کو حکومت کے خلاف بھڑکا اسکی آزادی اور سلامتی کو ہمیشہ چیلنج کرتا رہا ہے۔ قطر اخوان المسلمین، داعش اور قاعدہ جیسے دہشت گرد اور فرقہ وارانہ گروہوں کا گڑھ بن چکا ہے جن کا مقصد خلیجی ممالک کے امن وسلامتی کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ ساتھ ہی قطر اپنے ذرائع ابلاغ کے ذریعے مسلسل ان گروہوں کے لٹریچر اور سازشی پلانوں کو رواج دیتا اور پھیلاتا رہا ہے۔ قطیف صوبے میں سرگرم ایران نواز دہشت گرد تنظیموں کی بھی قطر ہمیشہ سے مدد کرتا آرہا ہے۔ مملکت سعودی عرب کی داخلی وخارجی وحدت اور اسکے امن وسلامتی کوتوڑنے اور اسے تہس نہس کرنے کیلئے جو شدت پسند گروہ ہمیشہ سازشیں کرتے رہے ہیں قطر اسے پناہ دیتا ہے، اس کی سرپرستی کرتا ہے اور اسکی ہر طرح سے مدد کرتا ہے۔ مملکہ کے اندر فتنہ وفساد پھیلانے کی خاطر قطر ہمیشہ ذرائع ابلاغ کا غلط استعمال کرتا رہا ہے۔ اسی طرح قطری حکمراں ہمیشہ سے یمن میں باغی گروہ حوثیوں کی مدد کرتے آئے ہیں حتی کہ عرب اتحاد کے معاہدے کے بعد بھی قطر اپنے ان حرکتوں سے باز نہیں آیا ۔ حالانکہ مملکت سعودی عرب اور اسکے دوست ممالک 1995ہی سے قطری حکمرانوں کو سمجھاتے آئے ہیں ، تمام معاہدات اور قوانین کی پاسداری کرنے کی تلقین کرتے رہے ہیں لیکن یہ قطری حکومت ہمیشہ تمام عالمی قوانین کو لات مارتی رہی حتی کہ جی سی سی (خلیجی تعاون ممالک)کے تحت انجام پانے والے ان معاہدوں پر بھی عمل نہیں کیا جن میں مملکت کے خلاف کسی بھی طرح سازش ودشمنی نہ کرنے اور تمام دہشت گرد سرگرمیوں اور گروہوں کے خلاف کاربند رہنے کا عہد کیا تھا۔ قطر کی آخری خلاف ورزی معاہدہ¿ ریاض پر عمل نہ کرنا ہے۔ (www.spa.gov.sa/1637278 )
-اماراتی سرکاری بیان:
(أعلنت دولة الإمارات بقطع علاقاتها الدبلوماسية مع قطر بسبب « استمرار السلطات القطرية في سياستها التي تزعزع أمن واستقرار المنطقة» و«لعدم التزام السلطات القطرية باتفاق الرياض لإعادة السفراء والاتفاق التكميلي له 2014 ومواصلة دعمها وتمويلها واحتضانها للتنظيمات الارهابية والمتطرفة والطائفية وعلى رأسها جماعة الاخوان المسلمين وعملها المستمر على نشر وترويج فكر تنظيم داعش والقاعدة عبر وسائل اعلامهاالمباشر وغير المباشر وكذلك نقضها البيان الصادر عن القمة العربية الاسلامية الامريكية بالرياض تاريخ 21 – 5 – 2017 لمكافحة الارهاب الذي اعتبر ايران الدولة الراعية للارهاب في المنطقة الى جانب ايواء قطر للمتطرفين و المطلوبين أمنيا على ساحتها وتدخلها في الشؤون الداخلية لدولة الامارات وغيرها من الدول» مع التأكيد على “احترامها وتقديرها البالغين للشعب القطري لما يربطها معه من أواصر القربى والنسب والتاريخ والدين) ۔
ترجمہ: درج ذیل اسباب کی وجہ سے متحدہ عرب امارات نے قطر سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا : قطری حکومت علاقے کے امن وسلامتی کو تہس نہس کرنے کی سیاست پر عمل پیرا ہے۔ قطر نے ریاض معاہدہ نیز2014 کے تکمیلی معاہدے کا کوئی خیال نہیں کیا۔ اس نے ہمیشہ دہشت گر د ، شدت پسند اور فرقہ وارانہ گروہوں کی سرپرستی اور انکی ہر طرح سے مدد کی ہے جن میں سرفہرست اخوان المسلمین کی جماعت ہے۔ اس نے ہمیشہ داعش اور القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کے افکار وخیالات کو اپنے ذرائع ابلاغ کے ذریعے ڈائرکٹ اور بالواسطہ ہر اعتبار سے رائج کرنے اور انہیں علاقے میں پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ 21/مئی 2017 کو ریاض چوٹی کانفرس میں دہشت گردی کے خلاف جو معاہدہ ہوا اورجس میں ایران کو علاقے میں دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا پہلا ملک قرار دیا گیا قطر نے اس کی کھل کر مخالفت کی ۔ قطر نے ان اماراتی شدت پسندوں اور بھگوڑوں کو بھی پناہ دے رکھا ہے جو اماراتی حکومت کو مطلوب ہیںنیز قطر امارات وغیرہ خلیجی ممالک کے داخلی امور میں برابر دخل اندازی کرتا رہتا ہے۔ اس قطع تعلق کے باوجود اماراتی حکومت قطری عوام کا احترام کرتی ہے کیونکہ ان سے ہمارا دینی ، تاریخی اور قبائلی تعلق ہے نیز ان سے ہماری رشتے داریاں بھی ہیں۔ (www.spa.gov.sa/1637285 )
-مصری سرکاری بیان:
(قررت حكومة جمهورية مصر العربية قطع العلاقات الدبلوماسية مع دولة قطر في ظل إصرار الحكم القطري على اتخاذ مسلك معادي لمصر، وفشل كافة المحاولات لإثناءه عن دعم التنظيمات الإرهابية، وعلى رأسها تنظيم الإخوان الارهابي، وإيواء قياداته الصادر بحقهم أحكام قضائية في عمليات إرهابية استهدفت أمن وسلامة مصر، بالإضافة إلى ترويج فكر تنظيم القاعدة وداعش ودعم العمليات الإرهابية في سيناء، فضلا عن إصرار قطر على التدخل في الشؤون الداخلية لمصر ودول المنطقة بصورة تهدد الأمن القومي العربي وتعزز من بذور الفتنة والانقسام داخل المجتمعات العربية وفق مخطط مدروس يستهدف وحده الأمة العربية ومصالحها.)۔
ترجمہ: مصر ی حکومت نے قطر سے سفارتی تعلقات ختم کر لیا درج ذیل اسباب کی بنیاد پر: قطری حکومت برابر مصری حکومت سے دشمنی کرتی رہی ہے۔ مصری حکومت نے ان تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا جن میں قطر دہشت گرد تنظیموں کی مدد کرنے میں ملوث پایا گیا جن میں سرفہرست اخوانی جماعت ہے جن کے اعلا سربراہوں کو قطر پناہ دئیے ہوئے ہے حالانکہ ان کے حق میںایسے دہشت گردانہ معاملات میں قانونی کارروائی چل رہی ہے جنہوں نے مصر کے امن وسلامتی کو خطرے میں ڈالا ہے۔ قطر نے القاعدہ اور داعش جیسی دہشت گرد گروہوں کے افکار وخیالات کو رائج کیا ہے۔ سیناءمیں پیش آنے والے دہشت گردانہ واقعات میں قطری حکومت ملوث رہی ہے۔ قطر برابر مصری حکومت کے داخلی امور میں ایسے انداز میں مداخلت کرتا رہا ہے جس سے ہمیشہ قومی سلامتی کو خطرہ لاحق رہا ہے ، سماج کے اندر فتنہ وفساد اور پھوٹ وتقسیم کو بڑھاوا ملا ہے۔ اور یہ سب قطر نے ایک سوچے سمجھے پلان کے تحت کیا ہے تاکہ مصر کی وحدت پارہ پارہ ہوجائے۔ (www.spa.gov.sa/1637279)
-سابق ترکی سفیر اور حالیہ استنبول میں واقع (مرکز الدراسات الاقتصادیة والسیاسیة الخارجیة- Economic Studies and Foreign Policy Center) کے چیئر مین سنان اولگین(Sinan Ulgen)نے کہا ہے خلیج کے حالیہ بحران میں ایران وترکی چاہے جتنا قطر کی مدد کردیں بہر حال قطر دھیرے دھیرے پریشانیوں میںپھنستا جائے گا اگر اس نے جلد از جلد پڑوسی خلیجی ملکوں سے اپنے روابط استوار نہ کر لئے۔
– اللہ کرے قطر کے حکام کو یہ بات جلد از جلد سمجھ میں آجائے اور وہ رافضی -تحریکی جال سے نکلنے میں جلد از جلد کامیاب ہوجائیں۔

(یہ مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)

 

آپ ہمیں اپنی ہر طرح کی خبریں،مضامین،مراسلات اور ادبی تحریریں ارسال کریں۔۔۔ہم انھیں آپ کے نام اور فوٹو کے ساتھ www.aakashtimes.com پرشائع کریں گے۔۔۔۔۔۔ادارہ

رابطہ:aakashtimes0@gmail.com